مواخذہ

مواخذہ
 مواخذہ

  

ایک اچھی خبر آئی ہے، مگر کتنی ؟ اور کتنی دیر کے لئے؟جی نہیں ہمیں اس سے بھی بڑھ کر کچھ اور کرنے کی ضرورت ہے۔۔۔برائے نام ہی سہی ایک خوشگوار سا احساس اُبھرتا ہے کہ وزیراعظم کو اب بھی ، جی ہاں اب بھی اپنی چھوی (امیج )کو کچھ بہتر بنانے کی فکر لاحق رہتی ہے۔خدا نہ کرے کہ اس خبر سے کچھ اور برآمد ہو، مگر ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے عادل گیلانی کو حکومت نے وزیر اعظم انسپکشن کمیشن کے لئے مشیر مقرر کیا ہے۔ جو اب وزیراعظم ہاؤس میں رونق افروز رہیں گے اور اپنی لمبی چوڑی ذمہ داریوں میں عدالتوں میں زیرِ التوا مقدمات سے لے کر زیرِتفتیش بدعنوانیوں کے تمام معاملات پر نگاہ رکھیں گے۔ پہلے سے ہی اپنی ساکھ پر ناقابل نظرا نداز سوال رکھنے والا یہ ادارہ اب حکومت پر اپنے سالانہ جائزوں میں کس طرح غیر جانبدار سمجھا جائے گا اور مخالف صوبائی حکومتوں کے باب میں اس کی رائے کتنی مستند باور کی جاسکے گی ؟ اس سے قطعِ نظر اصل سوال ہے کہ کیا یہ اقدام درست سمت میں ایک مثبت قدم ہے؟ نواز حکومت کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ خود اپنی راست بازی پر حد سے زیادہ ایمان رکھتی ہے۔ اور اپنے اوپر اُٹھنے والے کسی بھی سوال کے جواب میں پچھلی حکومتوں کو اس کا ذمہ دار قرار دیتی ہے۔ یہ روش ایک ہولناک طرزِفکر کوجنم دیتی ہے جس کا سب سے بڑا اور پہلا نقصان خود اِسی حکومت کو پہنچتا ہے۔ نواز حکومت کو ایک آدرش جمہوریت کے رومان پرور خواب نے طاقت اور حمایت دی تھی۔ وہ کسی تقابل کی پیداوار نہیں۔ پیپلز پارٹی کی ناکامیوں یا عمران خان کی بیوقوفیوں سے مسلم لیگ (ن) کی حکومت اپنے لئے حمایت کشید نہیں کرسکتی۔ اور نہ ہی اپنی بداعمالیوں پر کوئی پردہ ڈال سکتی ہے۔پرویز رشید کی گفتگو چسکے کے لئے تو اچھی ہے ،مگر مسلم لیگ (ن) کے کردار کے تعین کے لئے ہرگز ہرگز موزوں نہیں۔ ان تمام جماعتوں کو ایک دوسرے کے مقابل دیکھنے کے بجائے انہیں اپنی اپنی خوبیوں اور خامیوں کے آئینے میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ یہی ایک درست تناظر ہے۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رائے اب ایک آلودہ رائے متصور ہو گی۔ یہی نہیں اب اُسے اپنے اوپر عائد بہت سے پچھلے الزامات میں بھی کوئی برأت نہ مل سکے گی ،مگر پھر بھی اِسے جوں کاتوں لے لیجئے۔تب بھی ایک مسئلہ یہ ہے کہ ادارے کی طرف سے بدعنوانیوں کی نشاندہی کے بعد نوازحکومت کیا کچھ کر پائے گی؟ اس کا پہلا جواب ایک دوسرے سوال میں ہے کہ اِس حکومت نے پہلے سے معلوم بدعنوانیوں کے معاملے میں کون سی کارکردگی دکھائی ہے؟ہمار امسئلہ بدعنوانیوں کی نشاندہی کا نہیں، بلکہ اس کے سدِباب کا ہے۔ جو حکومت پہلے سے معلوم بدعنوانیوں کا بھی سدِباب نہ کر پارہی ہو ، وہ مزید اس باب میں معلومات کو اکٹھی کرکے کیا کرسکے گی؟اس طرح حکومت خود ہی جمہوریت پر عوامی اعتماد کومزید کمزور کرے گی اور نظام کے خلاف جذبات کو زیادہ شدید بنائے گی۔اب ذرا تصور کیجئے کہ عادل گیلانی صاحب ہر روز بدعنوانیوں کی نشاندہی کرتے جائیں اور وزیراعظم اس پر کوئی مناسب کارروائی کرنے سے گریزاں رہیں تو وہ اپنے ہی خلاف جذبات کو مزید ہوا دیں گے۔ دراصل نوازحکومت کواس معاملے میں ایک پورے تناظر پر نگاہ رکھنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان میں اصل مسئلہ جواب دہی کا ہے۔ یہاں پر کسی بدعنوان کی نشاندہی کافی نہیں ہوتی، کیونکہ ہر بدعنوان کو یہ یقین ہے کہ وہ نظام کے چور راستوں سے اپنے احتساب کو ٹال سکتا ہے۔ اخلاقی طور پر مکمل روبہ زوال معاشرے میں کسی پر بدعنوانی کا الزام اُسے بے چین بھی نہیں کرتا۔ اُس کے سماجی رتبے کو کسی گراوٹ سے دوچار بھی نہیں کرتا۔ مغربی معاشروں میں کسی پر بدعنوانی کا الزام لگنا ہی کافی ہوتا ہے، جس کے بعد وزرا روتے ہوئے استعفے دیتے نظر آتے ہیں ۔ بعض مثالوں میں تو بدعنوان افراد کی خاندانی زندگیاں بھی تہ وبالا ہوجاتی ہیں۔ بیویاں تک طلاقیں لے لیتی ہیں، مگر پاکستان کے بدعنوان تو کسی اور ہی مٹی کے بنے ہیں۔اس کا سبب یہ ہے کہ یہاں پر جواب دہی کا کوئی موثر نظام ہی نہیں۔ یہاں پر عملاً ’’لے کے رشوت پھنس گیا ہے، دے کے رشوت چھوٹ جا‘‘ کا ماحول ہے۔ پولیس سے لے کر تفتیشی اداروں تک اور عدالت سے لے کر حکومت تک سب کے سب افراد اور ادارے یہاں پر بدعنوانوں کو تحفظ دینے کے لئے کوشاں رہتے ہیں ۔ایسے ماحول میں کچھ عبرتناک مثالیں قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ مواخذے کے ماحول کو بلاروک ٹوک اور بلاامتیاز برپاکرنے کی ضرورت ہے۔ یہ کام کوئی بدعنوان حکومت نہیں کرسکے گی۔اِسے کوئی شفاف قیادت ہی کر سکتی ہے۔ نواز حکومت نے تاحال احتساب کی ہیبت کو قائم ہی نہیں کیا۔ میاں نوازشریف نے ایک زبردست مغالطے کو اپنے سینے سے لگا لیا ہے ۔ اُنہوں نے جمہوریت کے ساتھ وابستگی کو چند بدعنوان عناصر کے تحفظ کے ہم معنی بنا دیا ہے۔جس کی پشت پر یہ مغالطہ موجود ہے کہ سیاستدانوں کے احتساب سے جمہوری نظام کمزور ہوتا ہے اور تیسری قوت کو اقتدار پر قبضے کا موقع ملتا ہے۔ اس مغالطے نے جمہوریت کو لوٹ مار کے لئے ایک سانجھے کی ہنڈیا بنا دیا ہے اور اس نظام پر یقین کو کمزور کردیا ہے۔ اگر جمہوریت انسانی دانش سے بروئے کار آنے والا سب سے قابلِ اعتبار نظامِ حکومت ہے تو پھر اسے اجتماعی زندگی اور نظمِ حکومت کی تمام خرابیوں کا ایک حل بھی بن کر نظر آنا چاہئے۔ وگرنہ یہ ایک دھوکے سے بڑھ کر کوئی دوسری چیز نہیں لگے گا۔ یہ کیسا بھیانک مذاق ہے کہ اب تک پیٹرولیم بحران اور لوڈ شیڈنگ کے ذمہ داران کو وزیراعظم کی طرف سے کوئی سزا نہیں دی گئی۔ اس سے بھی بڑھ کر بدترین رجحان یہ دیکھنے میں آیا کہ شاہد خاقان عباسی نے اپنا ذہن استعفے کے لئے تیار کیا تو اُنہیں خاندان کے لوگوں نے یہ کہہ کر روک دیا کہ جب سارے ہی بدعنوان لوگ مسلط ہیں اور کوئی بھی خود کو اخلاقی طور پر اس کا ذمہ دار قرار نہیں دے رہا تو اُنہیں ایسا کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ اس نظام میں ایسی کیا کربناک نحوست ہے کہ یہ کسی اچھے قدم کا راستا روک دیتا ہے۔ عظمت شاہدخاقان عباسی کا انتظار کر رہی تھی، مگر اُنہوں نے کان نمک کی طرف رخ کیا۔ جب سامنے کے بحرانوں کے ذمہ داران بھی سزانہ پاسکیں گے تو پھر عادل گیلانی کی نشاندہی سے کیا ہو سکے گا؟اس کا ایک دوسر ا سبب زیادہ خطرناک ہے۔ دراصل پاکستان میں قوت کا مفہوم بدل چکا ہے۔ یہاں قوت کسی قانون یا اصول میں نہیں رہی، بلکہ یہ افراد میں منتقل ہو چکی ہے جو بلااستثنیٰ کسی بھی اخلاقی اصول پر پورا نہیں اُترتے۔ اس نے پاکستان میں جتھوں کی نفسیات پیدا کر دی ہے۔ طالبان دہشت گردی کرتے ہیں، مگر سیاست دان بھی طالبان ایسی ہی نفسیات سے اپنے اپنے دائرے میں بروئے کار رہتے ہیں۔ پاکستان مکمل طور پر ایک اشرافیہ کی ریاست بن چکاہے۔ عسکری اور سیاسی اشرافیہ یہاں ایک ہی طرح سے بروئے کار آتی ہے۔ یہاں انصاف کسی بھی اُصول کی بنیاد پر نہیں مل سکتا۔ جو شخص، ادارہ یا گروہ اس اشرافی ٹولے کو جتنا بھی دباؤ میں لے سکے گا وہ اُتنا ہی اپنا حق یافت کر سکے گا۔ عمران خان نے کچھ بھی مختلف نہیں کیا تھا جب وہ اسلام آباد کے گھیراؤ کے بعد حکومت کو مکمل طور پر ڈھیر کرنے میں کچھ وقت کے لئے کامیاب ہوا تھا۔ اُس نے مذاکرات سے انکار کیا۔ ٹھیک اسی طرح جب حکومت نے طاقت پالی اور عمران خان اپنے ہی فیصلوں کا شکار ہو گیا تو پھر حکومت نے مذاکرات سے دامن چھڑانا شروع کردیا۔ دونوں ایک دوسرے کے مقابل ایک ہی طرح کے ذہن سے بروئے کار ہیں۔ کوئی کسی سے مختلف نہیں۔ ریاست کے قویٰ مضمحل ہوگئے۔ اس کا آہنگ بگڑ چکا۔ یہاں دباؤ ہی ایک موثر ہتھیار ہے۔ حکومت طاقت کی زبان سمجھتی ہے۔ ملک کے طاقت ور حلقے ابھی تک خود کو ہر نوعی احتساب سے بے نیاز تصور کرتے ہیں۔ جب تک مواخذے کی روایت بالائی طبقات کے لئے پیدا نہیں کی جائے گی، محض بدعنوانیوں کی نشاندہی سے کچھ بھی حاصل نہیں ہو گا۔ مواخذے کا احساس ہی نظم مملکت کی خرابیوں کو روکتا ہے۔ بدعنوانیوں کو جڑ پکڑنے نہیں دیتا، مگر ہماری حکومتوں کو مواخذے سے نہیں ،بس بدعنوانیوں کی نشاندہی سے دلچسپی ہوتی ہے، کیونکہ ہر حکومت دوسرے کی بدعنوانیوں سے اپنے لئے طاقت حاصل کرتی ہے۔ افسوس فوجی حکومتوں میں بھی یہی ہوتا رہا جب بدعنوانیوں کے ثبوت سیاسی حمایت کے حصول کے لئے استعمال کئے گئے۔ مشرف نے اپنے دورِ سیاہ میں اس طریقے سے ایک پوری سیاسی جماعت کھڑی کی۔ کیا نواز حکومت کے لئے بہتر یہ نہ تھا کہ وہ پہلے پیٹرولیم بحران کے ذمہ داروں کو کیفرِ کردار تک پہنچاتی، پھر عادل گیلانی سے وزیراعظم ہاؤس کو رونق بخشتی۔

مزید : کالم