آؤٹ آف فارم

آؤٹ آف فارم
 آؤٹ آف فارم

  

 وزیراعظم محمد نواز شریف مُلک کی لئے ناگزیر ہیں یا مسلم لیگ (ن) نااہلوں کی جماعت ہے۔ یہ دونوں تاثر یکسر غلط ہیں۔ نواز شریف آج ہی وزارت عظمیٰ سے دستبردار ہو جائیں تو ان کا جانشین ممکنہ طور پر بہتر کارکردگی دکھا سکتا ہے۔ اگر اس سے بھی توقعات پوری نہ ہوں تو موجودہ دور سے زیادہ حالات کیا خراب ہوں گے؟ 2013ء کے عام انتخابات کے موقع پر عوام نے مسلم لیگ (ن) کو تیسری بار بھرپور مینڈیٹ دیا۔ یہ توقع کی جا رہی تھی کہ حکومت کرنے کا تجربہ رکھنے والی جماعت عوامی مسائل حل کرنے کے لئے جنگی بنیادوں پر درست اقدامات کرے گی، ہوا مگر اس کے عین برعکس۔ آج ہمیں طرح طرح کے بحرانوں کا سامنا ہے۔ قوموں کی تاریخ میں ایسے مواقع بھی آتے ہیں کہ جب انہیں مصائب کے پہاڑ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ قیادت کا عزم پختہ اور سمت درست ہو تو کٹھن امتحان کے یہی ادوار ترقی کے زینوں میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ اس وقت ہمیں بجلی، پانی، گیس، امن و امان، مہنگائی، صحت عامہ کی ناقص صورتحال، نظام تعلیم کی مزید گرتی ہوئی ساکھ، صنعتی، تجارتی اور زرعی شعبوں میں بدحالی یا کرپشن جیسی لعنتوں کا سامنا ہے۔ ان سب سے چھٹکارا ممکن ہے، لیکن ہمارا سب سے بڑا مسئلہ دراصل کمزور قیادت ہے۔ ایک ایسی حکومت جو مناسب وقت تو کیا ٹائم گزر جانے کے باوجود درست فیصلے کرنے کی صلاحیت سے عاری ہے۔ پٹرول بحران اس کی تازہ تازہ دلیل ہے۔ تگنی کا ناچ کہہ کر بھی تسلی نہیں ہو سکتی یوں سمجھیں کہ عوام کو زنجیروں سے باندھ کر رقص کرنے پر مجبور کیا گیا۔ ذمہ داروں کا تعین کیا خاک ہونا تھا؟ وزراء ہی ایک دوسرے کی جانب انگلیاں اٹھاتے نظر آئے۔ وزیراعظم نے یہی بہتر جانا کہ چند سرکاری افسروں کیخلاف کارروائی کر کے اصل میں ملوث افراد کو صاف بچا لیا جائے۔ نواز شریف 1985ء سے 1990ء تک وزیراعلیٰ پنجاب رہے۔ 1990ء اور پھر 1996ء میں وزارت عظمیٰ مقدر بنی۔ سیاسی مخالفین اور خدا واسطے کا بیر رکھنے والے خواہ لاکھ شور مچائیں، یہ حقیقت جھٹلائی نہیں جا سکتی کہ انہوں نے مختلف ادوار میں کئی ترقیاتی کام کرائے۔ پاکستان کو مثالی ملک تو نہ بنا سکے، مگر ایک محنتی اور وژنری لیڈر کے طور پر خود کو منوایا۔ ان کے طرزسیاست سے اختلاف کیا جا سکتا ہے، لیکن یہ بھی تسلیم کرنا ہو گا کہ انہوں نے ملک کی اصل حکمران اسٹیبلشمنٹ کو بھی محدود کرنے کیلئے عملی کاوشیں کیں۔ وزارت عظمیٰ کے لئے ان کا تیسرا دور عوام کے لئے بھیانک خواب بنتا جا رہا ہے۔ یہ سمجھا جاتا ہے کہ عمر اور تجربے میں اضافے کے ساتھ سیاست دان مزید پختہ ہو جاتے ہیں۔ نوازشریف کے حوالے سے یہ بات درست ثابت نہیں ہو رہی۔ اب تو ان پھبتیوں میں بھی وزن ہے کہ کہاں گیا تجربہ؟ مسلم لیگ (ن) کی گورننس کے بارے میں طرح طرح کے تبصرے اور تجزیے کئے جا رہے ہیں۔ بسااوقات تو محسوس ہوتا ہے کہ نوازشریف بطور حکمران اور سیاسی قائد خوداعتمادی کھو چکے ہیں۔ تذبذب میں مبتلا وزیراعظم ملک و قوم تو کیا اپنی پارٹی کے حوالے سے بھی عجیب و غریب کنفیوژن میں ہیں۔ یہ ایک کھلا راز ہے کہ اہم ترین وفاقی وزراء ایک دوسرے سے ہاتھ ملانا تو کجا ساتھ ساتھ بیٹھنے کو بھی تیار نہیں۔ قیادت کو بات کا علم ہے، مگر کسی کو راہ راست پر لانے کے لئے اشارہ تک کرنے کی ہمت بھی جمع نہیں کر پا رہی ہے۔ کارکردگی کے حوالے سے اب تک کئی ایک وزراء کو فارغ ہو جانا چاہئے تھا، لیکن یہاں حالت یہ ہے کہ جس وزیر کا جو جی چاہے کرتا پھرتا ہے، کوئی پوچھنے والا نہیں۔ ایک کے بعد ایک بحران کے باعث اب تو حکومتی ارکان بھی جلد احتجاجی جلوس نکالنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ حالات کی روش تبدیل نہ ہوئی تو ملک کی بڑی اور مقبول سیاسی جماعت کا شیرازہ بکھر کر رہے گا۔ ناقص کارکردگی کے ساتھ مدت مکمل کر بھی لی گئی، تو حاصل کیا ہو گا۔ مریم نوازیا حمزہ شہباز کو ولی عہدی کی صورت میں وہ ملبہ ملے گا کہ جس کے بوجھ تلے ان کی اپنی سیاست بھی دب کر رہ جائے گی۔ حکومت کی ناقص کارکردگی کے اثرات ملک کے تمام شعبوں پر مرتب ہو رہے ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ بھی کچھ بہتر نہیں کر سکی۔ خارجہ پالیسی کا مکمل کنٹرول حاصل کئے جانے کے باوجود امریکی صدر اوباما کے دورہ بھارت کے دوران ہونیوالی پیشرفت آنکھیں کھول دینے کے لئے کافی ہے۔ بڑے طمطراق سے کہا جا رہا تھا کہ افغانستان کے راستے پاکستان میں بھارتی مداخلت کے ٹھوس شواہد پینٹاگون کو پیش کر دیئے گئے ہیں۔ اوباما نے نئی دہلی میں یہ بیان دے کر تمام خوش فہمیاں دور کر دیں کہ امریکہ، بھارت کو افغانستان میں اپنا اہم سٹرٹیجک پارٹنر سمجھتا ہے۔ یوں تو اس دورے کے دوران اور بھی بہت کچھ ہوا جس کا احاطہ ان سطور میں ممکن نہیں۔ مختصراً کہا جا سکتا ہے کہ امریکہ نے ایک بار پھر اس تاثر کی نفی کر دی ہے کہ وہ پاکستان اور بھارت کے ساتھ یکساں نوعیت کے تعلقات رکھنا چاہتا ہے۔ ملک سے فرار ’’غدار‘‘ حسین حقانی نے اس حوالے سے ایک چشم کشا مضمون بھی لکھ مارا ہے۔ اس مضمون سے ’’محب وطن‘‘ حلقے سیخ پا بھی ہوئے ہیں، لیکن کیا وہ وقت آ نہیں گیا ہے کہ بلی کو دیکھ کر کبوتر کی مانند آنکھیں بند کرنے کا انداز ترک کر دیا جائے۔ اس بات کا جائزہ لینا ہو گاکہ اگر دفاعی اور خارجہ امور سمیت کئی دیگر شعبوں کا کنٹرول کلی طور پر اسٹیبلشمنٹ کے حوالے کر دیا گیا ہے تو اس کا حاصل وصول آخر ہے کیا؟  ملک چلانے، بلکہ بچانے کے لئے حکومتی کارکردگی کو بہتر بنانا ہو گا۔ صرف اسی صورت میں دیگر ادارے بھی پُرسکون طور پر بہتر انداز میں اپنا اپنا کام کر سکیں گے۔ وزیراعظم کو ایک مدبر کا کردار ادا کرنا چاہئے۔ اگر وہ خود حکومت نہیں چلا سکتے تو کسی اور کو آگے لے آئیں۔ جیسا کہ پہلے عرض کیا کہ نوازشریف پاکستان کے لئے ہرگز ناگزیر نہیں۔ مسلم لیگ(ن) میں ایک سے ایک قابل شخصیات آج بھی موجود ہیں۔ انہیں قائدانہ صلاحیتیں دکھانے کا موقع کیوں نہیں ملنا چاہئے؟ زیادہ وقت نہیں بچا۔ وزیراعظم نواز شریف حکومت نہیں چلا سکتے اور خود اپنے وزراء کو کنٹرول کرنے میں ناکام رہتے ہیں تو اسٹیبلشمنٹ اور سیاسی اپوزیشن سے رحم کی امید ہرگز نہ رکھیں۔ کمزور ہی سہی، حکومت آج بھی قائم ہے، پارٹی آج بھی بے حیثیت نہیں ہوئی۔ اب آگے بڑھنا ہو گا، نااہل اور سازشی وزراء برطرف کرنا ہوں گے۔ بے جان مسلم لیگ(ق) سے دامن چھڑا کر آنے والے پرانے (ن) لیگیوں کے لئے بھی راستے کشادہ کرنا ہوں گے۔ مشاہد حسین کو حکومتی صفوں میں شامل کرنے سے اچھے نتائج حاصل ہو سکتے ہیں۔ وسیم سجاد جیسے قابل ماہر قانون نے ایک حالیہ انٹرویو میں مسلم لیگ (ن) کو ہی حقیقی مسلم لیگ قرار دے کر اپنے دل کی بات واضح کر دی ہے۔ وزارتی ٹیم اور پارٹی عہدوں کے حوالے سے نئی صف بندی تیزی سے گرتی ہوئی حکومتی ساکھ کو فوری سنبھالا اور عوام کو ریلیف دینے کا موجب بن سکتی ہے۔ فیصلہ مگر وزیراعظم کو ہی کرنا ہے جو تاحال تذبذب کا شکار ہیں اور واضح طور پر آؤٹ آف فارم بھی۔ گورنر پنجاب چودھری سرور نے خود استعفیٰ دیا یا ان سے لیا گیا۔ اب یہ بیکار بحث ہے۔ ہمارے سیاسی نظام کے تقاضے کچھ اور ہیں۔ برطانوی پارلیمنٹ سے گورنر ہاؤس تک سفر کے دوران چودھری سرور شاید اس کا پورا ادراک نہ کر پائے۔ فروغ تعلیم اور پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے حوالے سے وہ ہمیشہ پرجوش نظر آتے تھے۔ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے وطن کے اندر اپنے مختلف مسائل کے حوالے سے انہیں ’’مسیحا‘‘ کا درجہ دے ڈالا۔ چودھری سرور آگے بڑھے تو قدم قدم پر رکاوٹیں پیش آئیں۔ کرپٹ بیوروکریسی اور انتہائی پیچیدہ قانونی و عدالتی مسائل ’’دیوارچین‘‘ بن کر حائل ہو گئے۔ رہ گئیں حکومتی شخصیات تو یہ بھی سچ ہے کہ وزیراعلیٰ اور ان کے صاحبزادے تو کجا صوبائی وزراء بھی گورنر صاحب کو کسی قسم کی گنجائش دینے پر تیار نہ تھے۔ بات یہ نہیں کہ چودھری سرور کو یہ علم نہ تھا کہ گورنر کا عہدہ محض نمائشی ہے۔ وہ اپنے اس حوالے سے پوری طرح باخبر تھے۔ آئینی رول ایک طرف رکھ کر یہ ارینج منٹ کیا جا سکتا تھا کہ انہیں فلاحی منصوبوں کے حوالے سے حکومتی معاونت فراہم کی جاتی۔ ایسا کچھ نہ ہو سکا۔ چودھری سرور کا متحرک ہونا اور میڈیا سے براہ راست میل ملاپ بھی کئی آنکھوں میں کانٹے کی طرح چبھنے لگا۔ عمران خان اور طاہرالقادری کے دھرنوں کے حوالے سے ’’لندن پلان‘‘ اور بعد میں پیش آنیوالے واقعات بھی غلط فہمیوں میں اضافے کا سبب بنے۔ چودھری سرور اپنی تعیناتی کے وقت ہی سے اس بات کے پرجوش حامی تھے کہ حکومت کو فوج سے بنا کر رکھنی چاہئے۔ خواہ اس کے لئے مشرف کی باعزت رہائی کا کڑوا گھونٹ ہی کیوں نہ پینا پڑے۔ ذاتی مشاہدے کی بات یہ کہہ سکتا ہوں کہ چودھری سرور عزت کرنے اور عزت کرانے والی شخصیت ہیں۔ افسوس ہم ان کی صلاحیتوں سے فائدہ نہ اٹھا سکے۔ اب یہ اشارے دیئے جا رہے ہیں کہ وہ عملی سیاست میں قدم رکھنا چاہتے ہیں۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ ان کا اگلا ٹھکانہ عمران خان کی تحریک انصاف ہو سکتی ہے۔ برطانیہ سے لے کر پاکستان تک کی سیاست کے نشیب و فراز کے تجربات کرنے والی شخصیت کو اس کے سوا کیا مشورہ دیں ’’جناب! بچ بچا کر چلئے گا‘‘۔

مزید : کالم