اشیاء کے نرخ۔۔۔ ضلعی انتظامیہ کا غیر حقیقت پسندانہ اقدام!

اشیاء کے نرخ۔۔۔ ضلعی انتظامیہ کا غیر حقیقت پسندانہ اقدام!

ضلعی انتظامیہ نے شہریوں کو ضروریاتِ زندگی سستی مہیا کرنے کے لئے نرخ مقرر کئے ہیں۔ ان کے مطابق بکرے کا گوشت 500روپے فی کلو، گائے کا گوشت250 روپے فی کلو، چینی 51روپے فی کلو فروخت ہو گی۔ اِسی طرح دالوں وغیرہ کی قیمتیں بھی مقرر کی ہیں۔ ڈی سی او کی طرف سے یہ ہدایت بھی کی گئی ہے کہ ان سرکاری نرخوں پر اشیاء فروخت نہ کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی اور پرائس کنٹرول مجسٹریٹ چھاپے ماریں گے۔یہ درست ہے کہ مُلک بھر میں ذخیرہ اندوزی اور منافع خوری کا رجحان ہے، بلکہ ایسے مافیا بن چکے ہیں، جو اشیاء کے نرخ اپنی مرضی اور پسند سے مقرر کراتے ہیں۔ ضلعی انتظامیہ آج تک ان حضرات کا کچھ نہیں بگاڑ سکی اور جب بھی کوئی کارروائی ہوتی ہے۔ غریب پرچون فروش قابو آتے اور سزا پاتے ہیں، حالانکہ وہ تھوک فروشوں کے مرہون منت ہیں اور جو نرخ تھوک مارکیٹ کے ہوتے ہیں۔ انہی کے مطابق پرچون کے نرخ مقرر کئے جاتے ہیں۔ یہ امکان ہو سکتا ہے کہ بعض علاقوں کے پرچون فروش بھی منافع خوری کرتے ہوں، مگر یہ بہت کم ہوتی ہے۔فی الحال تو ضلعی انتظامیہ کی صلاحیت کا اندازہ لگائیں کہ جو نرخ مقرر کئے گئے، وہ اتنے غیر حقیقت پسندانہ ہیں کہ ان کے مطابق اشیاء کی فروخت ممکن ہی نہیں۔ بکرے کے گوشت کی مثال کافی ہو گی کہ اس وقت بازار میں بکرے کا گوشت پرچون کی دکانوں پر670سے720 روپے فی کلو کے حساب سے فروخت ہوتا ہے۔ قصاب سے جھگڑا کیا جائے، تو اس کا جواب یہ ہے کہ منڈی مہنگی ہے۔اب اگر 500روپے کے حساب سے چھاپوں کا سلسلہ شروع ہوا، تو کوئی قصاب بھی گوشت فروخت نہیں کر پائے گا۔ یہی حال گائے کے گوشت اور دوسری اشیاء کا ہے۔ضرورت تو اس امر کی ہے کہ اشیاء سستی کرنے کے لئے تھوک منڈیوں کا رُخ کیا جائے اور تھوک کے نرخوں پر کنٹرول کیا جائے تاکہ پرچون تک نوبت آ جائے ورنہ یہ بیکار کی مشق ہے۔ انتظامیہ کی توجہ کے لئے عرض ہے کہ سیل بند اشیاء صابن، شیمپو، ڈبل روٹی، بسکٹ اور ایسی دوسری اشیاء جو بڑی کمپنیاں بنا کر بازار میں بیچتی ہیں وہ نرخ خود مقرر کر کے پرنٹ بھی کرتی ہیں۔ ضلعی انتظامیہ کے حکام کو دعوت ہے کہ وہ ان کمپنیوں کے نرخ معہ دودھ اور دہی ملاحظہ فرمائیں اور پھر کمپنیوں سے نرخ کم کرا کے عوام تک سہولت پہنچائیں ،تو کچھ بات بھی ہو، اِسی طرح فروٹ اور سبزیوں کے لئے بھی تھوک فروخت پر نظر رکھنا ہو گی، ورنہ یہ مشق سستی شہرت کے سوا کچھ نہیں، اس کا نتیجہ اشیاء کی قلت کا ذریعہ بن سکتا ہے اور پھر بلیک مارکیٹ کا دھندا ہو سکتا ہے۔ اگر انتظامیہ حقیقت پسندانہ فیصلے اور درست اقدام نہیں کر سکتی، تو لوگوں کو ان کے حال پر چھوڑ دیا جائے کہ اشیاء مل تو جاتی ہیں۔

مزید : اداریہ