مضبوط معیشت ہی مکمل دفاع کی ضامن ہے

مضبوط معیشت ہی مکمل دفاع کی ضامن ہے

کور کمانڈرزکانفرنس میں وفاقی اور صوبائی سطح پر نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کرتے ہوئے ملک سے دہشت گردی ، انتہا پسندی اور فرقہ واریت کے بلا امتیاز خاتمے کا عزم دہرایا گیا۔ 176ویں کور کمانڈرز کانفرنس آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی زیر صدارت منگل کو جنرل ہیڈ کوارٹر راولپنڈی میں ہوئی، جس میں دہشت گردوں کے خلاف جاری فوجی آپریشن کی کامیابیوں پر اطمینان کا اظہار کیا گیا۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ آپریشن ضربِ عضب اور خیبر ایجنسی میں جاری فوجی کارروائیاں کامیابی سے آگے بڑھ رہی ہیں۔8 گھنٹے تک جاری رہنے والی اس کانفرنس میں ملک اور خطے کی سیکیورٹی صورت حال سمیت فوج کے پیشہ وارانہ امور ، ملک کی اندرونی اور بیرونی سلامتی،آپریشن ضربِ عضب، آپریشن خیبر۔ون اور بے گھر افراد کی بحالی کے لئے تمام وسائل بروئے کار لانے پر غور کیا گیا۔ اجلاس میں پاک افغان تعلقات ، ورکنگ باؤنڈری اور کنٹرول لائن پر بھارتی خلاف ورزیوں اورافغانستان سے انٹیلی جنس شیئرنگ سمیت امریکی افواج کی افغانستان سے واپسی کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا۔ امریکی صدر باراک اوبامہ کے دورہ بھارت ، امریکہ اور بھارت کے مابین ہونے والے دفاعی اور جوہری معاہدوں اور اس کے خطے پر پڑنے والے اثرات پر بھی غور کیا گیا ۔ آرمی چیف نے کور کمانڈر ز کو اپنے دورۂ برطانیہ اور چین کے حوالے سے بھی آگاہ کیا، جبکہ فوجی عدالتوں کے کام کرنے کے طریقہ کار کی بھی منظوری دی گئی۔ کور کمانڈرز کانفرنس میں بہت سے اہم معاملات پر غور کیا گیا،جنرل راحیل شریف کا دورۂ چین و برطانیہ خصوصی اہمیت کا حامل تھااور پاکستان میں قومی ایکشن پلان کے نفاذ پربھی سیر حاصل بحث کی گئی۔اس وقت پاکستان کی عسکری قیادت ملک سے دہشت گردوں کے بلا تخصیص خاتمے کے لئے پُرعزم ہے ،قومی ایکشن پلان پر عملدرآمد یقینی بنانے کے لئے ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔ فوجی جوان آپریشن ضربِ عضب کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لئے اپنی جان ہتھیلی پر رکھے کارروائیاں کر رہے ہیں، فضائی و زمینی حملوں میں روزانہ دہشت گرد مارے جا رہے ہیں۔ پاکستانی عوام کی امید کی ڈور اِسی آپریشن سے بندھی ہوئی ہے۔حوصلہ افزا بات یہ ہے کہ اس وقت ہمارے تمام ادارے ایک دوسرے کے مد مقابل نہیں،بلکہ ساتھ ساتھ کھڑے ہیں، جو کسی بھی ریاست کی کامیابی کے لئے ضروری ہے۔افواج پاکستان کی صلاحیت اور طاقت پوری دنیا میں مانی جاتی ہے۔ جنرل راحیل شریف نے آپریشن ضربِ عضب کے آغاز کے بعد سے بہت سے اہم غیر ملکی دورے کئے، جن میں انہیں بھر پور پذیرائی ملی۔ان دوروں کا مقصد دنیا کو باور کرانا تھا کہ پاکستان دہشت گردی کے خاتمے کے لئے سنجیدہ ہے، اپنی جان لڑا رہا ہے، لیکن اس جنگ میں بین الاقوامی ساتھ بھی ضروری ہے۔وہ دنیا کو اپنا موقف بتانے اور سمجھانے میں کامیاب رہے۔امریکہ ، برطانیہ اور چین سے وہ مکمل تعاون کی یقین دہانی کے ساتھ وطن واپس لوٹے۔ جنرل راحیل شریف نے افغانستان کا دورہ بھی کیا، پاکستان اور افغانستان کے تعلقات پر بھی فوجی و حکومتی رابطوں نے مثبت اثرات مرتب کئے،دونوں کے درمیان اعتمادبحال ہوا، معلومات کے تبادلے پر اتفاق ہوا، اِسی کے بل پر دونوں طرف کامیاب آپریشن کئے جا رہے ہیں۔پاکستان اور افغانستان ایک دوسرے کے خلاف اپنی سر زمین استعمال نہ ہونے دینے کا عزم بھی کر چکے ہیں۔ افواج پاکستان کے بلند حوصلے اور شجاعت ہی کی بدولت سات سال بعد پاکستان میں اس سال یوم پاکستان کے موقع پر فوجی پریڈ ہو سکے گی اور امید کی جا رہی ہے کہ چین کے صدر لی جن پنگ 23مارچ کو فوجی پریڈمیں مہمان خصوصی ہوں گے ،اس سے چینی صدر کے گزشتہ سال منسوخ ہونے والے دورے کی چبھن بھی قدرے کم ہو جائے گی۔پاکستان اور چین کے تعلقات ہمیشہ ہی خوشگوار رہے ہیں، دونوں مل کر اس خطے کی بہت بڑی طاقت بن جاتے ہیں۔اس خطے میں جو چینی تعاون پاکستان کو حاصل ہے وہ کسی اور ملک کے نصیب میں نہیں ہے۔چین نے بھارت کے ساتھ مختلف معاہدے تو کئے ہیں لیکن دونوں ممالک کے درمیان مکمل اعتماد کا فقدان صاف نظر آتا ہے۔ بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج اپنے حالیہ دورہ چین میں سلامتی کونسل کی مستقل رکنیت کے لئے چین کی حمایت حاصل کرنے میں بھی ناکام رہی ہیں۔  یہی نہیں ’رعد‘ میزائل کا کامیاب تجربہ بھی ہماری دفاعی طاقت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ سٹیلتھ ٹیکنالوجی کا حامل کروز میزائل ’’رعد‘‘جو350کلو میٹر تک مار کرنے اور ریڈار کی نظر سے بچنے کی صلاحیت رکھتا ہے یقیناًکسی کمال سے کم نہیں ہے۔موجودہ حالات میں تو اس کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔یہ میزائل سمندر،زمین اور فضا میں اپنے ہدف کو کامیابی سے نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور یہ پاک فضائیہ کے استعمال میں ہو گا۔ رعد میزائل کے کامیاب تجربے نے دفاعی لحاظ سے ہمیں بھارت سے ایک قدم آگے لا کھڑا کیا ہے، اس کے پاس فی الحال ایسی کوئی ٹیکنالوجی نہیں ہے، لیکن جوش میں ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ یہ برتری مستقل قائم نہیں رہ سکے گی ، بھارت خاموش نہیں بیٹھے گا،ا س کا کسی نہ کسی طرح جواب ضرور دے گا ، اس طرح دونوں ممالک کے درمیان ہتھیاروں کی یہ دوڑ جاری رہے گی جیسے کسی زمانے میں روس اور امریکہ کے درمیان جاری تھی۔ہم تومستقل برتری کے خواہاں ہیں،جس کے لئے ہمیں اپنے دفاعی نظام کے ساتھ ساتھ معیشت کو بھی مستحکم کرنا ہو گا ،دراصل حقیقی چیلنج یہی ہے۔ہم بین الاقوامی مارکیٹ میںآج تک کوئی ایسی چیز متعارف نہیں کرا سکے، جس نے دنیابھر میں دھوم مچا دی ہو، جس سے ملک کو اربوں ڈالر کا فائدہ ہوا ہو۔ہمارے سائنس دانوں کو معیشت کے استحکام کے لئے نت نئی ایجادات پر غور کرنا چاہئے تاکہ ہم سر اٹھا کر دنیا کا مقابلہ کر سکیں۔ہمیں یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ مضبوط معیشت ہی مکمل دفاع کی ضامن بن سکتی ہے، اسی کے بل بوتے پر ہم دہشت گردی جیسے عفریت کو دوبارہ جنم لینے سے روک سکتے ہیں۔

مزید : اداریہ