کوئلے اور خام لوہے کی درآمد‘4 جہازوں کی ایل سی کھولی جائیں گی

کوئلے اور خام لوہے کی درآمد‘4 جہازوں کی ایل سی کھولی جائیں گی

کراچی (آن لائن) پاکستان اسٹیل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر میجر جنرل (ر) ظہیر احمد خان نے کہا ہے کہ کوئلے اور خام لوہے کی درآمدکے لئے فروری اور مارچ2015 ءکے لئے 2/2 جہازوں کی”ایل سی“LC کھولی جارہی ہیں، پاکستان اسٹیل کے اسٹاک یار ڈ میں نہ صرف کوئلہ اور خام لوہے کے وافر ذخائرموجودہ ہیںبلکہ مزید 55/55 ہزار میٹرک ٹن کوئلے کے 2 جہاز وں میں سے ایک بحری جہاز جنوری2015 ءمیں پہنچ چکا ہے اور دوسرا بحری جہازرواں ماہ ءمیں پورٹ قاسم کی جیٹی پر لنگر انداز ہو جائے گا ، اس کے علاوہ 50 ہزار میٹرک ٹن کا خام لوہے کا بحری جہاز پہلے ہی پاکستان اسٹیل کی جیٹی پر لنگر انداز ہوچکا ہے جس سے خام مال کے ذخائر کی صورتحال مزید بہتر ہوجائے گی ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے کراچی آئرن اینڈ اسٹیل مرچنٹس ایسوسی ایشن کے چیئرمین حاجی غلام محمد کی قیادت میں 6 رُکنی وفد کے دورہ پاکستان اسٹیل کے موقع پر ملاقات کے دوران کیا ۔ وفد میں صدر شمون باقر علی، محمد احمد، محمد اقبال ، چوہدری محمد رفیق اور محمد اشرف چاﺅلہ شامل تھے۔پاکستان اسٹیل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کی معاونت پرنسپل ایگزیکٹو آفیسر(کمرشل / اے اینڈ پی) حامد پرویز نے کی ۔ اس موقع پر ادارے کے دیگر سینئر افسران بھی موجود تھے۔سی ای او پاکستان اسٹیل نے کانفرنس روم ، آپریشنز بلڈنگ میں وفد کو پاکستان اسٹیل کی حالیہ کارکردگی کے حوالے سے بتاتے ہوئے کہاکہ حکومت ِ پاکستان کی جانب سے18 ارب50 کروڑ روپے کے مالیاتی پیکیج کی بدولت پاکستان اسٹیل کی پیداواریت میں نہ صرف روز افزوں اضافہ ہورہا ہے بلکہ موجودہ مالی سال2014-15 ءکی تیسری سہ ماہی یعنی اپریل2015 ءتک پاکستان اسٹیل کئی برسوں بعد بریک ایون پوائنٹ(Breakeven Point ) کا سنگ میل عبور کرنے میں کامیاب ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ 7 اپریل2014 ءکو میری تعیناتی سے قبل پاکستان اسٹیل کی مجموعی پیداوار1.4 فیصد کی سطح تک گر چکی تھی ، لیکن پاکستان اسٹیل کے ملازمین(افسروان و کارکنان) کی شب رو ز محنت کی بدولت پاکستان اسٹیل کے 35 سال پُرانے کارخانوں سے 40 سے 45 فیصد پیداوار حاصل کی جارہی ہے۔ مالیاتی پیکیج کی آخری قسط کے3 ارب روپے گذشتہ ماہ ہی موصول ہوئے ہیں ۔

جس سے خام مال (آئرن اوور/ کوئلہ) درآمد کرنے کے لئے ”ایل سی“ LC کھولی جارہی ہیں ، جبکہ مئی2014ءسے اکتوبر 2014 ء، یعنی 7 ماہ کے دوران 15 ارب 50 کروڑ روپے میں سے پاکستان اسٹیل کی موجودہ انتظامیہ نے ضرورت کے مطابق خام مال (آئرن اوور/ کوئلہ) درآمد کیا اور ملازمین کو تنخواہیں ادا کرنے کے ساتھ ساتھ پانی، بجلی اور گیس کے بلز کے علاوہ گریجویٹی اور پی ایف کی مد میں بھی باقاعدہ ادائیگیاں کی گئیں ہیں- سی ای او پاکستان اسٹیل نے کہا کہ مالیاتی پیکیج میں 9 ارب روپے خام مال کی درآمد کے لئے مختص کئے گئے تھے-انہوں نے کہا کہ فروری اور مارچ2015 ءکے لئے کوئلے اور خام لوہے کے 2/2 جہازوں کے لئے ”ایل سی“LC کھولی جارہی ہیں، جبکہ پاکستان اسٹیل کے اسٹاک یارڈ میں وافر مقدار میں تیار اسٹیل مصنوعات مارکیٹ میں فروخت کے لئے بالکل تیار ہیں۔ چیئرمین (KISMA ) نے پاکستان اسٹیل کی حالیہ کارکردگی پر چیف ایگزیکٹو آفیسر پاکستان اسٹیل میجر جنرل(ر) ظہیر احمد خان کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ آپ کی سربراہی میں کام کرنے والی ٹیم یقینا مبارکباد کی مستحق ہے۔آپ نے 10 ماہ کے دوران شب و روز محنت کرکے پاکستان اسٹیل کو مزید تباہی سے بچالیا اور ملازمین کے روزگار کا تحفظ کرکے ادارے کی پیداوار کو بڑھایا ۔اس موقع پر چیئرمین(KISMA) نے سی ای او پاکستان اسٹیل سے درخواست کی کہ حکومت ِ پاکستان کی جانب سے جاری کردہ غیر ضروریSRO's کا فوری خاتمہ کرایا جائے جس کو ہر سطح پر اُجاگر کرنے کی ضرورت ہے ۔ اس سلسلے آئرن اینڈ اسٹیل مرچنٹس ایسوسی، میجر جنرل(ر) ظہیر احمد خان کی سربراہی میں پاکستان اسٹیل کی اسٹیل مصنوعات کی فروخت اور ترقی میں بھرپور تعاون کریگی۔جس نے نہ صرف پاکستان اسٹیل کی کارکردگی میں نمایاں بہتری آئے گی بلکہ حکومت پاکستان کو بھی ریونیو(Revenue ) کی شکل میں خطیررقم حاصل ہوگی۔آئرن اینڈ اسٹیل مرچنٹس ایسوسی ایشن نے وفد نے نیب کی جانب سے، قیمتیں فکسڈ کرنے کے معاملے میں نوٹسز کے اجراءپرتحفظات کا اظہار کیا اور درخواست کی کہ نیب کے چیئرمین کے ساتھ میٹنگ کا اہتمام کرکے اس معاملے کو فوری حل کرایا جائے جس کے جواب میں سی ای او پاکستان اسٹیل نے خوشخبری دیتے ہوئے کہا کہ اس سلسلے ایک میٹنگ چیئرمین(نیب) سے کراچی میں ہوچکی ہے اور اس معاملے کو مزید حل کےلئے اسلام آباد میں بھی ایک میٹنگ کی جائے گی تاکہ نیب کے کیسسز کا معاملہ جلد ازجلد حل ہوسکے اور اسٹیل ڈیلرز میں پائی جانے والی بحرانی کیفیت کا خاثمہ ممکن ہو۔ جس پر تمام اسٹیک ہولڈرز نے سی ای او پاکستان اسٹیل کی جانب سے کی جانے والی کاوشوں کو سراہا اور اپنی غیر مشروط تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

مزید : کامرس