بیوی پرشوہر کوحبس بے جا میں رکھنے کا الزام

بیوی پرشوہر کوحبس بے جا میں رکھنے کا الزام

 لاہور(نامہ نگار)مردوں کی طرف سے کسی کو حبس بے جا میں رکھنے کے بے شمار واقعات دیکھنے میں آتے ہیں ،لیکن سیشن کورٹ میں ایک ایسا کیس پیش ہوا جس میں لڑکی ماہم پرشوہروسیم کو حبس بے میں رکھنے کا الزام عائد کیا گیا،ماہم کراچی کی رہائشی ہے، اس نے ایم اے اکنامکس کررکھا ہے جبکہ لڑکا آٹھویں جماعت پاس ہے اور پینٹ کا کام کرتا ہے ،دونوں نے محبت ہونے پر شادی کرلی،ماہم لڑکے کے ساتھ سپرٹاؤن فیکٹری ایریا کے قریب رہائش پذیر ہوگئی سیشن عدالت میں لڑکے کے والد لیاقت علی نے حبس بے جا کی درخواست دائر کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ اس کی بہو نے اس کے بیٹے وسیم کو زبردستی حبس بے جا میں رکھا ہوا ہے، عدالتی بیلف نے چھاپہ مارا تو لڑکے وسیم نے خود دروازہ کھولا باہر آیا اور بیلف کے ساتھ عدالت پہنچ گیا ،عدالت میں وسیم نے مؤقف اختیار کیا کہ ڈیرھ سال سے اس کی بیوی ماہم نے اسے مقید کر رکھا ہے جب وہ والدین کے پاس جانے لگتا ہے تو وہ خودکشی کی دھمکی دے دیتی ہے،اس اثناء میں اس کی بیوی بھی عدالت پہنچ گئی ،اس نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ یک اکیلی عورت ہے جس نے محبت میں سب کچھ قربان کردیا ہے اور اب وہ اپنے خاوند کو حبس بے جا میں کیسے رکھ سکتی ہے ایڈیشنل سیشن جج اعجاز احمد بٹر نے دلائل سننے کے بعد وسیم کو آزاد کردیا جبکہ خاتون کو فیملی عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت کی ہے۔

مزید : میٹروپولیٹن 4