غازی آ باد 52 سالہ خاتون کا قتل ،پولیس لواحقین اور ملزموں کا پتہ نہ لگا سکی

غازی آ باد 52 سالہ خاتون کا قتل ،پولیس لواحقین اور ملزموں کا پتہ نہ لگا سکی

 لاہور(کرائم سیل)غازی آباد کے علاقہ میں دو روزقبل نامعلوم افراد کے ہاتھوں قتل ہونے والی خاتون کے لواحقین کا تاحال پتہ نہیں چلا ،پولیس قاتل کا بھی پتہ نہ لگا سکی،کیس پولیس کے لیے معمہ بن گیا۔تفصیلات کے مطابق 3فروری کی دوپہر کو تھانہ غازی آباد کے علاقہ علی پارک گرین ہومز سے مقامی افراد کو ایک گھر میں 52سالہ خاتون کی نعش ملی تھی۔تفتیشی افسر محمد جمیل ،ہمسایہ محمد نعمان،لیاقت اور اہل علاقہ نے نمائندہ\" پاکستان\" سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ نسرین بی بی ایک سال سے یہاں کرایہ کے مکان میں رہائش پذیر تھی۔ اس کے بچے نہیں تھے جبکہ عمران نامی شخص سے اس کی شادی ہوئی تھی لیکن گھریلو لڑائی جھگڑے کی وجہ سے ان کی کئی سال قبل علیحدگی ہو چکی تھی اور وہ علیحدہ رہتے تھے۔نسرین کا علاقہ میں کسی سے ملنا جلنا نہیں تھا اور کبھی کبھار کوئی اس سے ملنے آتا تھا۔3فروری کی دوپہر کو محلہ کی ایک خاتون کھانے کا سامان لوگوں کے گھروں میں بانٹ رہی تھی ،اس نے نسرین بی بی کے گھر کا دروازہ کھلا ہوا دیکھا تو اس میں داخل ہو گئی ۔گھر کی نچلی منزل میں کوئی نہیں تھا ، وہ اوپر والی منزل میں گئی جہاں اس کو بند کمرے میں سے شدید بدبو آئی جس پر اس نے اہل محلہ کو اطلاع دی جنہوں نے پولیس کو بلا لیا۔پولیس نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر کمرے کا دروازہ کھولا تو نسرین بی بی کی نعش بیڈ پر پڑی ہوئی تھی ۔اس کو سر پر وار کر کے قتل کیا گیا تھا جبکہ اس کے ہاتھ پاؤں بندھے ہوئے تھے اور نعش کی حالت سے پتہ چلتا تھا کہ واقعہ 3سے چار روز قبل کا ہے۔پولیس نے مقتولہ کی نعش کو پوسٹ مارٹم کے لیے میو ہسپتال کے مردہ خانہ میں جمع کروا دیااور جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر کے دفعہ 302 کے تحت نا معلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔اہل محلہ کے مطابق نسرین بی بی لال پل کے علاقہ سے یہاں آئی تھی اور اس کے گھر میں پولیس اہلکاروں اور دیگر با اثر افراد کا آنا جانا تھا ،وہ ان کو گھر کے کمرے چند گھنٹوں کے لیے کرایہ پردے کر گزر بسر کرتی تھی۔پولیس مقتولہ کے لواحقین کی تلاش کر رہی ہے، جلد ہی ان کا سراغ مل جائے گا۔اس کے علاوہ گھر میں آنے جانے والوں کا بھی سراغ لگایا جا رہا ہے۔

مزید : علاقائی