سکویوں کی سیکیورٹی کیلئے فنڈز جاری نہ ہو سکے

سکویوں کی سیکیورٹی کیلئے فنڈز جاری نہ ہو سکے

 لاہور(ذکاء اللہ ملک)محکمہ سکولز ایجوکیشن صوبائی دارالحکومت کے سرکاری سکولوں میں سیکیورٹی انتظامات کی مد میں فنڈ جاری کر سکا نہ ہی نجی سکولوں کے خلاف حفاظتی انتظامات کی مد میں سیکیورٹی فیس وصول کرنے کے خلاف کوئی کاروائی کر سکا جبکہ ایمر جنسی کالز کے لئے مارکیٹ سے 50روپے میں ملنے والی سم سکولوں کو 300روپے میں دی جانے لگی۔سرکاری سکولوں کے اساتذہ اور سربراہان اپنی جیبوں سے سموں کے پیسے دینے لگے ،اطلاعات کے مطابق محکمہ سکولز ایجوکیشن کی طرف سے پہلے صوبائی دارالحکوت کے تمام پبلک سکولوں میں 5موبائل سمیں دینے کی ہدایات دی گئیں جبکہ سکولوں سے پیسے اکھٹے کرنے کے بعد پرائمری اور مڈل سکولوں کو ایک ایک جبکہ ہائی سکولوں کو پانچ پانچ سمیں دی جا رہی ہیں۔دوسری طرف سرکاری سکولوں میں حفاظتی اقدامات کے حوالے سے محکمہ ایجوکیشن کی طرف سے فنڈز جاری نہ ہو سکے،زرائع کے مطابق شہر لاہور کے سرکاری سکولوں کے سربراہان نے سالانہ فنڈز اور مینٹینس فنڈز کو بروئے کار لاتے ہوئے سکول عمارتوں میں سیکیورٹی انتظامات مکمل کر لئے جبکہ اب فنڈز نہ ہونے کے باعث سکولوں کے روز مرہ کے انتظامی معامالات اور یوٹیلٹی بلوں کی ادائیگی بھی جمود کا شکار ہو چکی ہے۔محکمہ سکولز ایجوکیشن نجی سکولوں میں سیکیورٹی انتظامات کو انتظامیہ کی ذمہ داری قرار دیتے ہوئے سیکیورٹی کے نام پر اضافی فیس لینے والے سکولوں کے خلاف کاروائی کی یقین دہانی کرا چکا ہے مگر عملی طور پر کسی ایک سکول کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی جبکہ تمام نجی سکولز سیکیورٹی اقدامات کے نام پر بچوں کی فیسوں میں اضافہ کر رہے ہیں۔رابطہ کرنے پر ایگزیکٹو ایجوکیشن آفیسر پرویز اختر خان کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی کے حوالے سے کئے گئے اقدامات کے فنڈز گزشتہ ہفتے سے سکولوں میں ٹرانسفر ہونا شروع ہو چکے ہیں جبکہ 300روپے میں دی جانیوالی موبائل سم پوسٹ پیڈ ہے جسکی وجہ سے اسکی قیمت کم سے کم رکھی گئی ہے۔نجی سکولوں کے حوالے سے انکا کہنا تھا کہ نجی سکولوں کو سیکیورٹی کے نام پر بچوں سے اضافی فیس وصول کرنے کی اجازت نہیں دی گئی اور نشاندہی ہونے پر ان سکولوں کے خالف قانونی کاروئی عمل میں لائی گی۔

مزید : میٹروپولیٹن 1