مسلم لیگ ن نے پنجاب سے86 امیدواروں کے انٹرویوز مکمل کر لئے

مسلم لیگ ن نے پنجاب سے86 امیدواروں کے انٹرویوز مکمل کر لئے

اسلام آباد(آئی این پی)مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی بورڈ نے سینٹ کے انتخابات کیلئے پنجاب سے 96 درخواست دہندگان میں سے 86امیدواروں کے انٹرویوز کر لئے ہیں، نجکاری کمیشن کے چیئرمین وزیر مملکت زبیر عمر ‘ مسلم لیگ (ن) سندھ کے رہنما نہال ہاشمی سمیت10 رہنماء انٹرویو دینے کیلئے نہیں آئے‘پنجاب کے متوقع گورنر چوہدری سعود مجید ‘ چوہدری جعفر اقبال ‘ رانا نذیر احمد خان ‘غلام دستگیر احمد خان ‘ رانا محمود الحسن ‘ گل حمید روکھڑی ‘ سعید مہدی ‘ بیگم نجمہ حمید ‘ طارق فاطمی سمیت دیگر رہنما انٹرویوز دینے والوں میں شامل ہیں۔ بدھ کو پارلیمانی بورڈ کا اجلاس مسلم لیگ (ن) کے چیئرمین راجہ ظفر الحق کی صدارت میں مسلم لیگ ہاؤس میں ہوا جس میں وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف ‘ وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر پرویز رشید ‘ سیکرٹری جنرل اقبال ظفر جھگڑا‘ گورنر خیبر پختونخواہ سردار مہتاب عباسی ‘ پیر صابر شاہ ‘ سردار ثناء اللہ زہری ‘ سردار یعقوب ناصر ‘ اسماعیل راہو اور دیگر رہنما شریک ہوئے۔ انٹرویو کے دوران معروف (ن) لیگی رہنماؤں کو صرف ایک ایک منٹ کیلئے پارلیمانی بورڈ کے سامنے بلایا گیا اور انہیں یہ کہہ کر واپس بھیج دیا گیا کہ بورڈ پارٹی کیلئے آپ کی خدمات سے بخوبی آگاہ ہے۔ وزیر اعظم کے معاون خصوصی خارجہ امور طارق فاطمی جب انٹرویو کیلئے آئے تو انہوں نے یہ کہا کہ دفتر خارجہ سے ریٹائر منٹ کے بعد جب سابق صدر پرویز مشرف نے جمہوری حکومت کا تختہ الٹا تھا تو وہ مسلم لیگ (ن) میں شامل ہو گئے اور (ن) لیگ کے خارجہ امور پر پارٹی قیادت کو گائیڈ لائن دیتے رہے او راس حوالے سے اپنی خدمات انجام دی ہیں۔ سابق پرنسپل سیکرٹری سعید مہدی کو جب بلایا گیا تو بورڈ کے ارکان نے کہا کہ سعید مہدی صاحب آپ کو کون نہیں جانتا؟ آپ سے زیادہ سوالات نہیں کریں گے آپ چائے پئیں ۔ گوجرانوالہ سے مسلم لیگ (ن) کے 2 مرکزی رہنما غلام دستگیر خان اور رانا نذیر احمد خان کو جب بلایا گیا تو ان سے سینٹ سے متعلق کوئی سوال نہیں پوچھا گیا بلکہ ان سے چند منٹ کیلئے رسمی سی باتیں کی گئیں ۔پنجاب کے نئے متوقع گورنر چوہدری سعود مجید بھی انٹرویو دینے پہنچے تو وزیر اعلیٰ پنجاب نے کہا کہ آپ کو سب اچھی طرح جانتے ہیں آپ بیٹھ جائیں۔ پارلیمانی بورڈ میں مرزا یعقوب نامی ایک امیدوار میں اس وقت دلچسپ صورتحال پیدا کر دی جب پارٹی خدمات کے حوالے سے طویل بات کر رہے تھے تو شہباز شریف نے انہیں کہا کہ مختصر بات کریں تو مرزا یعقوب نے کہا کہ آپ جو مرضی کر لیں میں اپنی بات مکمل کر کے ہی خاموش ہوں گا ویسے آپ کو معلوم ہوا گا کہ فلاں جنازے میں میاں نوا ز شریف صاحب سے میری ملاقات ہوئی تھی اور کئی جنازوں میں آپ سے بھی مل چکا ہوں جس پر شہبا زشریف نے مسکراتے ہوئے کہا کہ مرزا صاحب کیا آپ جنازے ہی پڑھتے ہیں کیا شادیوں میں نہیں جاتے جس پر تمام رہنماؤں نے زبردست قہقہہ لگایا اور ماحول خوشگوار ہو گیا۔ وفاقی وزیر مشاہد اللہ کا جب نام پکا را گیا تو مسلم لیگ (ن) کے مقامی ترجمان عاصم نیازی نے بتایا کہ وہ علاج کیلئے لندن میں مقیم ہیں جس پر بورڈ کے ارکان نے ان کی جلد صحت یابی کیلئے خصوصی دعا کی۔ پارلیمانی بورڈ میں ایک مرحلہ میں پھر دلچسپ صورتحال اس وقت پیدا ہو گئی جب میانوالی سے تعلق رکھنے والے سینئر مسلم لیگی رہنما گل حمید روکھڑی نے بتایا کہ ان کی عمر80 سال ہے جس پر وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے کہا کہ روکھڑی صاحب آپ 60 سال سے زائد کے نہیں لگتے۔ 10 رہنما انٹرویو دینے کیلئے نہیں پہنچے جن میں تحریک انصاف کے نائب صدر اسد عمر کے بھائی نجکاری کمیشن کے چیئرمین وزیر مملکت ڈاکٹر زبیر عمر ‘ نہال ہاشمی اور مسلم لیگ (ن) جاپان کے رہنما شیخ انصر محمود شا مل ہیں۔ ذرائع کے مطابق زبیر عمر کو پارلیمانی بورڈ میں اس لئے انٹرویو دینے نہیں آئے کہ انہیں ٹکٹ ملنے کی کوئی یقین دہانی نہیں کرائی گئی تھی اور ان کی سفارش کرنے والے پارٹی کے اہم رہنما بھی پارلیمانی بورڈ میں موجود نہیں تھے۔ جبکہ نہال ہاشمی مسلم لیگ (ن) سندھ کے جنرل سیکرٹری ہیں اور انہوں نے سلیم ضیاء کی طرح پنجاب سے سینیٹر بننے کیلئے درخواست دی ہے۔ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس اب (آج) جمعرات کو دوبارہ ہو گا جس میں اسلام آباد ‘ فاٹا ‘ خیبر پختونخواہ ‘ سندھ اور بلوچستان سے پارٹی امیدواروں کے انٹرویوز کئے جائیں گے۔ انٹرویو مکمل

مزید : صفحہ آخر