بم کو ناکارہ بنانے کے لیے ساری تاریں کیوں نہیں کاٹی جا سکتیں؟مفید معلومات

بم کو ناکارہ بنانے کے لیے ساری تاریں کیوں نہیں کاٹی جا سکتیں؟مفید معلومات
 بم کو ناکارہ بنانے کے لیے ساری تاریں کیوں نہیں کاٹی جا سکتیں؟مفید معلومات

  

 برمنگھم (نیوز ڈیسک) جدید الیکٹرانک سرکٹ سے لیس بموں کو ناکارہ بنانے کیلئے ماہرین نہایت باریکی اور عرق ریزی سے مطلوبہ تار تلاش کر کے کاٹنے ہیں تاکہ بم کو پھٹنے سے روکا جائے اور اکثر یہ سوال پوچھا جاتا ہے کہ کیا یہ بہتر اور آسان طریقہ نہیں ہے کہ ساری تاریں کاٹ دی جائیں تاکہ بم بالکل بے کار ہو جائے۔ایک وقت تھا کہ یہ سادہ طریقہ ممکن تھا جب بم میں ایک سادہ سرکٹ ہوتا تھا جو ایک ڈیٹونیٹر، انیشی ایٹر اور ایک بیٹری پر مشتمل ہوتا تھا۔ اس سرکٹ میں جہاں سے بھی تار کاٹ دی جاتی بم ناکارہ ہو جاتا تھا مگر پھر جدید بم آ گئے جن میں متعدد تاریں اور پیچیدہ سرکٹ ہوتا ہے انہیں اس طرح بنایا جاتا ہے کہ ایک خاص تار کٹنے سے یہ بم پھٹ سکتا ہے اور چونکہ یہ سمجھنا باآسانی ممکن نہیں ہوتا کہ وہ تار کون سی ہے لہٰذا یہ ممکن نہیں کہ سب تاروں کو کاٹ دیا جائے کیونکہ یہ بم کو چلانے کے مترادف ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین ساری تاریں کاٹنے کی بجائے نہایت باریکی سے مطلوبہ تار تلاش کرتے ہیں اور اکثر اس کیلئے کچھ تاروں کو ایک ایک کر کے کاٹا جاتا ہے۔

مزید : صفحہ آخر