لاپتہ افراد کیس میں کمشنر پشاور اور ملاکنڈ سے جواب طلب

لاپتہ افراد کیس میں کمشنر پشاور اور ملاکنڈ سے جواب طلب

 پشاور(نیوزرپور ٹر)َپشاور ہائیکورٹ نے لاپتہ افراد کیس میں کمشنر پشاورو کمشنر ملاکنڈ سے جواب طلب کرلیاپشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس مظہر عالم میاں خیل اور جسٹس داؤدپر مشتمل دو رکنی بنچ نے دس لاپتہ افراد کے کیس میں سماعت کی ٗ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل و ڈپٹی اٹارنی جنرل منظور خلیل سمیت اسسٹنٹ کمشنر ملاکنڈ بھی عدالت میں پیش ہوئے-واجد نامی شہری کی گمشدگی کیس میں اسسٹنٹ کمشنر ملاکنڈ رپورٹ پیش نہ کرسکے اور کہا کہ انہیں مزید وقت دیا جائے جس پر چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک دن کا کام ہے کیا آپ لوگوں کے پاس انٹرمنٹ سنٹرز میں رکھے جانیوالے افراد کی فہرستیں نہیں چیف جسٹس نے کیس میں ایک ہفتے میں رپورٹ جمع کرنے کی ہدایت کی جبکہ اور سائٹ بورڈ کی رپورٹ بھی اگلی پیشی پر پیش کرنے کے احکامات جاری کردئیے باجوڑ کے رہائشی قبائلی کے کیس میں دو رکنی بنچ کو بتایا گیا کہ اسے غلنئی میں رکھا گیا ہے تاہم ملاقات کی اجازت نہیں دی جارہی حالانکہ اسکی لئے درخواستیں بھی دے چکی ہیں جس پر دورکنی بنچ نے کمشنر پشاور سے جواب طلب کرلیا کہ ملاقات کی اجازت کیوں نہیں دی جارہی اور اس حوالے سے پچھلی پیشی پر طلب کی جانیوالی اور سائٹ بورڈ کی رپورٹ کیوں پیش نہیں کی گئی نور تاج نامی شخص کے پانچ افراد کے گمشدگی کیس میں عدالت کو بتایا گیا کہ چار افراد کو بلیک قرار دیا گیا ہے جبکہ ایک شخص پی اے مہمند کے حوالے کردیا گیا ہے مسماۃ پشمینہ کی جانب سے دائر رٹ میں عدالت کو بتایا گیا کہ متعلقہ شہری کے ملاقات نہیں کی جارہی جس پر دو رکنی بنچ کو بتایا گیا کہ پولٹیکل انتظامیہ کی جانب سے پیش ہونیوالے اقبال درانی ایڈووکیٹ عدالت میں پیش نہیں اور ان کی کوارڈینیشن نہیں جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا ہم آپ کی کوارڈینیشن لائیں 2012 ء میں لاپتہ ہونیوالے میوہ خان نامی شہری کے کیس میں عدالت کو بتایا گیا کہ یہ 2012 ء میں گرفتار ہوا ہے اور اسے بلیک کیٹگری میں رکھا گیا ہے جس پر دو رکنی بنچ نے کیس نمٹا دیا -

مزید : علاقائی