کشمیر کی آزادی کے لئے ۔ آزاد کشمیر کو مقبوضہ سے بہتر کرنا ہو گا

کشمیر کی آزادی کے لئے ۔ آزاد کشمیر کو مقبوضہ سے بہتر کرنا ہو گا
کشمیر کی آزادی کے لئے ۔ آزاد کشمیر کو مقبوضہ سے بہتر کرنا ہو گا

  

 آج یوم کشمیر ہے۔ پورے ملک میں کشمیر کی آزادی کے لئے ریلیاں ہوں گی۔ ملک کی تمام سیاسی قیادت کشمیر کے ساتھ اظہار یکجہتی کرے گی۔ کیا یہ کافی ہے۔ کیا اس طرح کشمیر حاصل ہو جائے گا۔ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے۔ بلا شبہ کشمیر کے بغیر پاکستان نا مکمل ہے۔ کشمیر کی آزادی کے لئے جہاں کشمیریوں نے بے پناہ قربانیاں دی ہیں۔ وہاں پاکستان نے بھی کشمیریوں کی مسلسل اخلاقی و سیاسی حمایت جاری کر کے تحریک آزادی کشمیر کو زندہ رکھا ہے۔ یہ کہنا بھی غلط نہ ہو گا کہ پاک بھارت جنگیں بھی مسئلہ کشمیر کی وجہ سے ہوئی ہیں۔ ان جنگوں کی پاکستان نے جو بھی قیمت چکائی ہے ۔ وہ تحریک آزادی کشمیر میں پاکستان کا حصہ ہے۔ اس لئے یہ کہا جاتا ہے کہ بھارت اور پاکستان میں مستقل امن کے لئے مسئلہ کشمیر کا حل نا گزیر ہے۔ کشمیر کے حوالے سے اقوام متحدہ کی قراردادیں موجود ہیں، لیکن یہ قراردادیں بھی مسئلہ حل کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ اس طرح جنگیں ۔ سفارت کاری اور عالمی ادارے اب تک تو مسئلہ کشمیر حل کرنے میں نا کام رہے ہیں، لیکن اس سب کے باوجود مسئلہ کشمیر آج بھی پوری طاقت کے ساتھ اپنی جگہ موجود ہے اور اپنی موجودگی کا احساس دلا رہا ہے۔ اس وقت دو کشمیر ہیں۔ ایک آزاد کشمیر جو پاکستان کے زیر اثر ہے۔ دوسرا مقبوضہ کشمیر جو بھارت کے زیر تسلط ہے۔ اگر ان دونوں کا موازنہ کیا جائے تو صورت حال کا کچھ اندازہ ہوجائے گا۔ بھارتی تسلط میں مقبوضہ کشمیر میں امن و امان کی صورت حال بہت خراب ہے۔ بھارتی فوج وہاں نہتے کشمیریوں پر ظلم کر رہی ہے۔ اس ظلم کی بین الاقوامی ادارے بھی تصدیق کر رہے ہیں، لیکن بھارت اس حوالے سے ایک ہٹ دھرمی والی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ یہ بات بھی اپنی جگہ حقیقت ہے کہ بھارت میں مختلف ادوار میں مختلف جماعتوں کی حکومتیں قائم رہی ہیں، لیکن مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے پالیسی میں کوئی خاص فرق نہیں رہا۔ کشمیری خواتین کی عصمت دری کے واقعات کشمیری نوجوانوں کے قتل اور کشمیر ی قیادت پر پابندیاں وہ حقیقتیں ہیں جن سے انکار ممکن نہیں، لیکن اس سب کے ساتھ یہ بات بھی اپنی جگہ ھقیقت ہے کہ مقبوضہ کشمیر میںیونیورسٹیوں ، اور اعلیٰ تعلیمی اداروں کی تعداد آج بھی آزاد کشمیر سے زیادہ ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں شرح خواندگی آج بھی آزاد کشمیر سے بہتر ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں سڑکوں اور دیگر بنیادی ضروریات زندگی کے معیار بھی آزاد کشمیر سے بہتر ہیں۔دوسری طرف آزاد کشمیر میں امن و امن کی صورت حال مقبوضہ کشمیر سے کیا پاکستان سے بھی بہتر ہے۔ پاکستان میں اس وقت دہشت گردی کا جو مرض کینسر بن کر پھیل چکا ہے۔ کہا جا تا ہے کہ اس کی بنیاد جہاد افغانستان ہے، لیکن اگر اس فلسفہ کا تقابلی جائزہ لیا جائے، تو جہاد کشمیر کی وجہ سے کشمیر میں کوئی دہشت گردی کا مرض نہیں پھیلا، بلکہ یہ بات بھی اپنی جگہ حقیقت ہے کہ پاکستان میں جو دہشت گردی ہے اس کا آزاد کشمیر میں کوئی وجود نہیں ہے۔ آج یوم کشمیر پر ہمیں جہاں کشمیر کی آزادی کے لئے اپنی حمایت کا اعلان کرنا ہے۔ وہاں آزاد کشمیر کی تعمیر و ترقی کے لئے بھی عہد کرنا ہو گا۔ ہمیں یہ عہد بھی کرنا ہو گا کہ ہم جنگی نیادوں پر آزاد کشمیر میں شرح خواندگی کو مقبوضہ کشمیر سے آگے لے کر جائیں گے۔ ہمیں آزاد کشمیر میں سڑکوں کا نظام مقبوضہ کشمیر سے بہتر کرنا ہو گا۔ یہ بات بھی حقیقت ہے کہ آزاد کشمیر میں لولی لنگڑی سہی، لیکن پھر بھی ایک جمہوری حکومت کا تسلسل ہے، لیکن آزاد کشمیر کی حکومتیں آزاد کشمیر کے عوام کی زندگی کو بہتر بنانے کے لئے بھی جنگیں بنیادوں پر کام کریں۔ آزاد کشمیر جس کو دنیا پر جنت کہا جا تا ہے۔ خوبصورت پہاڑ۔ وادیاں۔ دریا۔ سب کچھ موجود، لیکن ہم آج بھی مثالی امن و مان کے باوجود آزاد کشمیر میں سیاحت کو ترقی نہیں دے سکے۔ آج بھی ہم اہل پاکستان کو کشمیر میں سیاحت کے لئے راغب نہیں کر سکے۔ بین الاقوامی سیاح تو دور کی بات ہے۔ آزاد کشمیر کی حکومت کو یہ سمجھنا ہو گا ۔ کہ اگر وہ آزاد کشمیر میں بین الاقوامی سیاح کو لانے میں کامیاب ہو جائیں گے تو مسئلہ کشمیر میں عالمی حمایت اس قدر آسان ہو جائے گی۔ ہمیں اب دنیا کو یہ باور کروانا ہے کہ جو کشمیر ہمارے پاس ہے۔ وہاں ترقی مقبوضہ کشمیر سے زیادہ ہے۔ شرح خواندگی مقبوضہ کشمیر سے زیادہ ہے۔ سیاحت مقبوضہ کشمیر سے زیادہ ہے۔ امن و مان مقبوضہ کشمیر سے زیادہ ہے تب ہی دنیا ہماری یہ بات مانے گی کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے۔ ورنہ جس حالت میں اس وقت آزاد کشمیر ہے۔ اس سے ہمارا دعویٰ کمزور ہو تا ہے۔ اس لئے آج یوم کشمیر منانے والی سیاسی قیادت کو یہ سمجھنا ہو گا ۔کہ یہ مقابلہ کا زمانہ ہے اور یہ مقابلہ جیتنا ہو گا تب ہی فتح ہوگی۔

مزید : کالم