پاک فوج نے شمالی وزیرستان کو دہشت گردوں سے پاک کر دیا، امریکہ

پاک فوج نے شمالی وزیرستان کو دہشت گردوں سے پاک کر دیا، امریکہ

واشنگٹن( مانیٹرنگ ڈیسک ،اے این این) امریکہ نے پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کے تحفظ پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اپنے ایٹمی اثاثوں کی سکیورٹی کو بہتر بنانے کیلئے مسلسل اقدامات کررہا ہے، دہشت گردوں کے خلاف ضرب عضب موثر کارروائی ہے، پاک فوج نے شمالی وزیرستان کو دہشتگردوں سے پاک کر دیا ہیتوقع ہے کہ پاک فوج رواں سال دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو ہدف بنانے کا سلسلہ جاری رکھے گی، پاکستان کی حکومت اور فوج دہشت گردی کے خلاف قومی لائحہ عمل پر عملدرآمد کیلئے مل کر کام کررہے ہیں۔ امریکی ڈیفنس انٹیلی جنس ایجنسی کے ڈائریکٹر لیفٹیننٹ جنرل ونسینٹ آرسٹیورٹ نے کانگریس کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے اجلاس میں دنیا بھر میں خطرے کا جائزہ لینے سے متعلق سماعت کے دوران بریفنگ دیتے ہوئے کہاکہ پاکستان اپنے ایٹمی اثاثوں کی سکیورٹی کو بہتر بنانے کیلئے مسلسل اقدامات کررہا ہے ۔ ہم یہ پیش گوئی کرسکتے ہیں کہ پاکستان کروز میزائلوں اور کم فاصلے تک مار کرنے والے ایٹمی ہتھیاروں سمیت نئے ڈیلیوری سسٹمز کی تیاری جاری رکھے گا تاکہ وہ اپنے بیلسٹک میزائلوں کے نظام کو مزید مضبوط کرسکے۔ انہوں نے کہا کہ پاک فوج اور نیم فوجی دستے قبائلی علاقوں اور خیبرپختونخوامیں تعینات ہیں۔ شمالی وزیرستان میں جاری فوج کی زمینی کارروائی میں ریاست مخالف عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں کو ختم کیا گیا ہے، ہم توقع کرتے ہیں کہ 2015ء میں بھی پاک فوج عسکریت پسندوں کے مضبوط گڑھوں کے خلاف کارروائی جاری رکھے گی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو جنوبی ایشیاء میں دولت اسلامیہ کی رسائی اور پروپیگنڈے پر تشویش ہے۔ افغانستان سے متعلق جنرل سٹیورٹ نے کہا کہ ممکن ہے کہ القاعدہ مشرقی افغانستان میں اپنی محدود موجودگی کو مزید وسعت دے کیونکہ وہاں مغرب کے انسداد دہشت گردی کے آپریشنوں میں کمی آئی ہے ۔ بھارت سے متعلق انہوں نے کہا کہ یہ ملک اپنی تینوں مسلح افواج کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔پاکستان اور بھارت کے تعلقات کے حوالے سے امریکی جنرل نے کہا کہ دونوں ملکوں کے تعلقات کشیدگی کا شکار ہیں۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان کنٹرول لائن پر وقتاً فوقتاً فائرنگ کا تبادلہ ہوتا رہا ہے اوران واقعات میں 2013ء کے بعدسے سب سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان پورا سال درپردہ مذاکرات جاری رہے لیکن باہمی تنازعا ت کو حل کرنے میں معمولی پیشرفت ہوئی ۔ انہوں نے کہاکہ بھارت کے چین کے ساتھ بھی سرحدی تنازعات ہیں جس کے باعث وہ پیادہ فوج کی تعداد میں اضافہ کرنے کے علاوہ چینی سرحدوں کے قریب اڈے قائم کرنے میں مصروف ہے ۔

مزید : صفحہ اول