سراج الحق اور اونٹ کی سواری ۔۔۔ خیالات کی پرواز کو قابو رکھنے کی ضرورت

سراج الحق اور اونٹ کی سواری ۔۔۔ خیالات کی پرواز کو قابو رکھنے کی ضرورت
سراج الحق اور اونٹ کی سواری ۔۔۔ خیالات کی پرواز کو قابو رکھنے کی ضرورت

  

تجزیہ : قدرت اللہ چودھری

آج کے اخبارات میں ایک تصویر شائع ہوئی ہے جس میں امیر جماعت اسلامی سراج الحق بہاول پور میں ایک اونٹ پر بیٹھ کر کسانوں کی ایک ریلی کی قیادت کررہے ہیں ۔اس ریلی میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے حکمرانوں سے کہا کہ وہ اس وقت سے ڈریں جب کسان اسلام آباد کا رخ کریں گے ، اونٹ کی سواری سے پہلے وہ لاہور میں رکشا ڈرائیوروں کے ایک جلوس کی قیادت کے لئے رکشا ڈرائیور کی نشست پر بیٹھ گئے تھے، غالباً انہوں نے کچھ فاصلے کے لئے رکشا چلایا بھی تھا، دونوں واقعات کا مقصد بظاہر شرکائے ریلی کو خوش کرنا اور ان کی ہمدردیاں حاصل کرنا تھا جو اچھی بات ہے، آج کی سیاست میں ووٹ حاصل کرنے کے لئے ووٹروں کو خوش کرنا بنیادی بات ہے، رکشا ڈرائیوربھی بڑی تعداد میں ووٹ رکھنے والی کمیونٹی ہے اور کسان تو پورے ملک میں پھیلے ہوئے ہیں ہماری 70فیصد آبادی دیہات میں رہتی ہے اور اس آبادی کا زیادہ تر انحصار زمین سے حاصل ہونے والے رزق پر ہے، کسان اگر آج گونا گوں مسائل کاشکار ہے اور وہ اپنے کاز کے لئے مختلف سیاستدانوں سے ہمدردی کا طالب ہے تو یہ بھی اچھی بات ہے اس سے پہلے بھی بہت سے سیاستدان کسانوں کی ہمدردی میں ان کی ریلیوں میں شریک ہوتے رہے ہیں لیکن اونٹ کی سواری کا تصور کسی بھی ذہن رسا میں نہیں آیا تھا، سراج الحق نے اونٹ کی سواری کرکے سب کو پیچھے چھوڑ دیا ہے، خیر یہ تو ان کا شوق ہے جیسے چاہیں پورا کریں لیکن کسانوں کی ریلی میں انہوں نے کچھ ایسی باتیں ضرور کی ہیں جن کی سید ابوالاعلیٰ مودودی کی جماعت کے امیر سے توقع نہ تھی، سید مودودی نے اپنی جوانی کے ایام میں ایک سیاسی (ومذہبی) جماعت کی بنیاد رکھی، اس جماعت کے ابتدائی بنیادی ارکان کی تعداد 72تھی، جس میں وقت کے ساتھ ساتھ اضافہ ہوتا رہا، آج اس جماعت کے ہزاروں رکن اور لاکھوں ہمدرد ہیں ، یہ سارے لوگ سید مرحوم کی فکر سے متاثر ہوکر جماعت اسلامی میں شامل ہوئے ، اکیلے سید مودودی نے اتنا وسیع لٹریچر غوروفکر کے لئے ورثے میں چھوڑا کہ پوری پوری جماعتیں اور تنظیمیں مل کر اس کا عشر عشیر بھی تیار نہ کرسکیں، سید مودودی تقریر کے نہیں، تحریر کے مرد میدان تھے، ان کی نثرمیں سادگی کے ساتھ ساتھ ایک بانکپن تھا، ان کے قلم سے جو بات نکلتی وہ اس پر ڈٹ جاتے جو تقریرکرتے اس کا ایک ایک لفظ ناپ تول کر بولتے، بعد میں اگر اس تقریر کو شائع کیا جاتا تو وہ اس کی زبان کو تحریر کی زبان بنانے کے لئے معمولی ردوبدل تو کرتے تھے مگر تقریر کی روح کو متاثر نہیں ہونے دیتے تھے ان کی ادارت میں شائع ہونے والے ’’ترجمان القرآن‘‘ کا ایک ایک لفظ ان کی نگاہ سے گزرتا تھا، حتیٰ کہ کوئی مختصر اخباری بیان بھی اس وقت تک اشاعت کے لئے نہیں بھیجتے تھے جب تک اسے اچھی طرح دیکھ نہیں لیتے تھے، انہیں اپنی کہی یا لکھی ہوئی بات کی وضاحت کی کبھی ضرورت پیش نہ آئی، ان کا رویہ ہمیشہ سنجیدہ اور متین ہوتا، اللہ تعالیٰ نے انہیں مزاح کا ملکہ بھی فراخ دلی سے عطا کیا تھا لیکن ان کے مزاح میں بھی ایک طرح کی متانت ہوتی تھی۔ یوم شوکت اسلام پر وہ ٹرک میں ضرور سوار ہوئے مگر اونٹ اور رکشے کی سواری انہیں بھی نہ سوجھی۔

جب جنرل ایوب خان کے عہد میں دارالحکومت کراچی سے اسلام آباد منتقل کرنے کی تیاریاں ہورہی تھیں کراچی میں عمومی طورپر اس اقدام کے خلاف فضا پائی جاتی تھی، لوگوں کے جذبات کی نمائندگی کے لئے ایک بڑے اخبار کے چیف رپورٹر نے اس موضوع پر سیاسی رہنماؤں کے خیالات شائع کرنے کا منصوبہ بنایا، اس مقصد کے لئے انہوں نے حسین شہید سہروردی سے بات کی تو انہوں نے اپنے مخصوص انداز میں تبصرہ کیا ، ایوب خان دارالحکومت کو ٹرین میں اسلام آباد لے کر جارہے ہیں ، میں اسے جہاز میں واپس لے کر آؤں گا۔ اس بیان کا چھپنا تھا کہ سہروردی کی واہ واہ ہوگئی، چند دن بعد میاں ممتاز دولتانہ کراچی آئے تو اس رپورٹرنے ان سے یہی سوال کیا کہ کیا دارالحکومت کراچی ہونا چاہئے یا اسلام آباد تو میاں دولتانہ نے جواب دیا کہ ان پر ایبڈوکی پابندیاں ہیں، وہ سیاسی بیانات سے پرہیز کرتے ہیں تاہم ان کا خیال ہے کہ دارالحکومت اسلام آباد منتقل کرنے کا فیصلہ درست ہے، لوگ ’’پنجاب کے رہنما‘‘ دولتانہ کے اس بیان سے ناخوش ہوئے، اور بعض نے ان کے پتلے بھی جلاڈالے ، اس واقعے کے چند دن بعد مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی بیرون ملک جارہے تھے اور ٹرانزٹ مسافر کی حیثیت سے کراچی ائرپورٹ پر رکے ہوئے تھے جب وہ جہاز میں دوبارہ سوار ہونے کے لئے جارہے تھے تو رپورٹر صاحب نے فوراً ہی اپنا سوال داغ دیا، مولانا اس حالت میں کوئی جواب دینے کے موڈ میں نہ تھے، چنانچہ انہوں نے یہ کہہ کر معاملہ مزاح میں ٹال دیا ’’میرے خیال میں تو دارالحکومت کے لئے میرا یہ بریف کیس (جوانہوں نے ہاتھ میں اٹھایا ہوا تھا) ہی مناسب ہے۔ بات سراج الحق کی ہورہی تھی جنہوں نے کسانوں کی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا زکوٰۃ وعشر کے علاوہ جی ایس ٹی سمیت کسی ٹیکس کو نہیں مانتے، کوئی ان سے پوچھ سکتا ہے کہ کیا وہ جواشیاء استعمال کرتے ہیں ان پر جی ایس ٹی ادا نہیں کرتے ؟

پٹرول پر جی ایس ٹی کی شرح27فیصد ہے کیا جس گاڑی میں وہ سفر کرتے ہیں اس میں پٹرول استعمال نہیں ہوتا، بجلی کا بل وہ ادا کرتے ہوں گے اس پر بھی جی ایس ٹی نافذ ہے اور بھی انواع واقسام کے ٹیکس ہیں جو وہ ادا کررہے ہیں ۔جب ٹیکس عملاً ادا ہورہے ہیں تو پھر ماننا اور کس کو کہتے ہیں ؟ سراج الحق ایک بڑی جماعت کے امیر ہیں جو ایک صوبے کی حکومت کا حصہ ہے تو کیا ان کے صوبے میں ان کی حکومت زکوٰۃ وعشر کے سوا کوئی ٹیکس جمع نہیں کرتی، وہ خود صوبے کے وزیر خزانہ رہے کیا اس حیثیت میں انہوں نے اپنے صوبے میں زکوٰۃ کے سوا ہرقسم کے ٹیکس ختم کردیئے تھے وہ اپنی وزارت خزانہ کے طورپر کون کون سے ٹیکس لگاتے اور وصول کرتے رہے یا اب بھی ان کی حکومت وصول کررہی ہے بھلے سے وہ انہیں نہ مانیں لیکن عملاً سب ٹیکس وصول کئے جاتے ہیں۔ دینے والے دیتے ہیں اور لینے والے لیتے ہیں۔ لگتا ہے اونٹ کی سواری نے سراج الحق کے خیالات کو اس طرح مہمیز لگائی کہ وہ اپنی (مخلوط) حکومت اور اپنی وزارت خزانہ کو بھی بھول گئے اور انہیں یاد نہ رہا کہ وہ سید مودودی کی جماعت کے امیر ہیں جس نے اپنی تمام تر جدوجہد قائدے اور قانون کے اندر رہ کرکی، سراج الحق سے اتنی گزارش تو ضرور کی جاسکتی ہے کہ وہ بھلے سے رکشاڈرائیور کی نشست پر بیٹھیں اور اونٹ کی سواری کریں لیکن اپنے خیالات کی پرواز کو تو قابو میں رکھیں۔

مزید : تجزیہ