ہوئے تم دوست جس کے، چوہدری محمد سرور کے خلاف محاذ!

ہوئے تم دوست جس کے، چوہدری محمد سرور کے خلاف محاذ!
ہوئے تم دوست جس کے، چوہدری محمد سرور کے خلاف محاذ!

  

تجزیہ:۔ چودھری خادم حسین

سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا یہ بڑا بے رحمانہ کھیل ہے اس میں تو سگے اپنے سگے کی نعش پر پاؤں رکھ کر گزر جاتے ہیں۔ آج کی سیاست میں تو رکھ رکھاؤ اور مہذب پن بھی نہیں رہا کوئی کسی کا لحاظ نہیں کرتا۔ صبح اگر کوئی اچھا ہے تو اگلے ہی روز وہ بدترین شخصیت بن جاتا ہے۔ پنجاب کے سابق گورنر اور برطانوی پارلیمینٹ میں پہلے مسلمان رکن چودھری محمد سرور کل تک اچھے تھے۔ خود وزیر اعظم محمد نواز شریف نے ان کو پاکستان کے لئے خدمات ادا کرنے کو کہا وہ برطانوی شہریت ترک کر کے اپنے آبائی وطن واپس آ گئے تو ان کو گورنر پنجاب بنایا گیا انہوں نے بھی خوشی خوشی یہ عہدہ قبول کر لیا۔

اس تقرری اور دوستی کا المناک ترین پہلو یہ ہے کہ دونوں طرف سے مزاج اور آئین کو سمجھے بغیر اتنا بڑا فیصلہ کر لیا گیا شریف صاحبان چودھری محمد سرور کے ماضی کو دیکھتے ہوئے یہ نہ سوچ سکے کہ وہ برطانیہ میں اختیارات کے حامل رکن پارلیمینٹ تھے اور اس سے پہلے بلدیات سے بھی اختیارات استعمال کرتے چلے آئے تھے۔ ایسا لگتا ہے کہ چودھری سرور نے پیشکش قبول کرتے وقت آئین پاکستان کا مطالعہ نہیں فرمایا تھا کہ پاکستانی آئین کے مطابق گورنر بے اختیار ہوتا ہے، بہر حال انہوں نے ڈیڑھ سال تک اس بے اختیاری میں بھی شعبہ تعلیم میں کچھ کرنے کی کوشش کی اور پینے کے صاف پانی کے لئے مہم شروع کر دی ا ور یہ بھول گئے کہ تعلیمی نصاب میں تبدیلی یا نئے تعلیمی اداروں کے لئے صاف پانی کے آلات وغیرہ کے لئے فنڈز ان کے حاکم یا خواہش سے نہیں مختص ہوں گے یہ ایک ایسا عمل ہے پہلے وزیر اعلیٰ کی اجازت اور پھر بجٹ کی منظوری کا مرہون منت ہے اور یہاں بھی وزیر اعلیٰ کی ہدایت پر ہی اسمبلی سے منظوری ملتی ہے۔ چوہدری سرور جب کچھ نہ کر سکے تو اختلاف ہو جانا ضروری تھا۔

اب خود استعفیٰ دیا یا استعفیٰ لیا گیا ہے یہ بے معنی بات ہے۔ حقائق یہ ہیں کہ وہ مستعفی ہو گئے اور اس کے بعد انہوں نے ایسی باتیں کیں جو ان کی خواہشات پر مبنی اور ردعمل ہیں، یہ باتیں ان کو ناگوار گزری ہیں۔ ادھر سے تحمل کا مظاہرہ نہیں کیا گیا۔ برطانیہ میں مسلم لیگ کے کرتا دھرتا زبیر گل نے چوہدری سرور پر الزامات کی بوچھاڑ کر دی اور ان کو پاکستان دشمن قرار دے دیا یہاں اپنے رانا ثناء اللہ نے ان کو قبضہ مافیا کے حوالے سے چیلنج کر دیا ہے ایسا لگتا ہے کہ یہ شاہ سے زیادہ شاہ کی وفاداری والا قصہ ہے۔

چوہدری سرور یہاں سے برطانیہ جاتے ہوئے اس امر کی تردید کر کے گئے تھے کہ وہ تحریک انصاف میں شامل ہو رہے ہیں۔ جو لوگ ان سے ملے اور جنہوں نے انٹرویو کئے ان کا تاثر یہ ہے کہ سابق گورنر فی الحال کسی سیاسی جماعت میں شامل نہیں ہو رہی بلکہ وہ ایک آزاد سیاست دان کی حیثیت سے اپنی پسند کی باتیں اور سیاست کرنا چاہتے ہیں جبکہ کسی جماعت میں شامل ہونے سے جماعتی پالیسی کی پابندی لازم ہو جاتی ہے۔ تاہم اب ان کے ساتھ چھیڑ خانی کر لی گئی تو شاید ان کو اپنا ارادہ بدلنا پڑے۔ وہ واپس آئیں گے تو پتہ چلے گا۔ مسلم لیگ (ن) کے ان راہنماؤں کو جو ان سے الجھ پڑے ہیں شاید یہ اندازہ نہیں کہ چودھری محمد سرور کی باتوں کو کتنی پذیرائی ملی ہے؟ ان کو حکومت اور مسلم لیگ (ن) کا دشمن بنا لینا دانش مندی نہیں۔

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے سیاسی استاد قابل داد ہیں کہ عمران مسلسل وکھری ٹائپ کی باتیں کرنے میں کمال حاصل کر چکے ہوئے ہیں، اب وہ کہتے ہیں کہ وہ محمود غزنوی کی طرح بار بار حملے کرتے رہیں گے۔ غالباً تاریخ سے ان کو بھی ہم جیسی واقفیت ہے۔ تحقیق سے غرض نہیں، ورنہ وہ یہ بھی تو جانتے ہیں کہ محمود غزنوی حملہ کرتے دشمن کو تاراج کرتے مال غنیمت سمیٹ کر واپس چلے جاتے تھے۔ مستحکم حکومت نہیں قائم کر سکے کیا عمران خان بھی ایسا ہی چاہتے ہیں۔؟

عمران خان کی چیف الیکشن کمشنر سے ملاقات ایک حد تک تو بارآور ثابت ہوئی ہے۔ چیف الیکشن کمشنر نے الیکشن ٹربیونل کے سربراہوں کو باقاعدہ خط لکھ کر انتخابی عذر داریوں کے فیصلے جلد کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔ بلکہ 28 فروری تک کی ڈیڈ لائن بھی دے دی ہے۔ عمران خان کے پانچ نکاتی مطالباتی فارمولے میں اہم نکتہ ہی یہ تھا و اس طرح پورا کر دیا گیا۔

اب ان کو ہر دو صورتوں میں اپنا آئندہ لائحہ عمل مرتب کرنے میں آسانی ہو گی جو وہ طے کر چکے ہوئے ہیں کیونکہ اطلاع کے مطابق وہ مختلف شہروں میں ریلیوں کے علاوہ لاہور میں دھرنا بھی دیں گے۔ اس کی کوئی میعاد نہیں یہ ایک تقریب کے لئے بھی ہو سکتا ہے اور طوالت بھی پکڑ سکتا ہے یہ فیصلہ وہ وقت پر کریں گے۔

عمران خان کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ وہ بقول خود ضدی ہیں، اور یہ ان کی ضد ہی تو ہے کہ وہ 2013ء کے انتخابات کو جعلی قرار دلانے اور اس سال نئے انتخابات کے مطالبات پر قائم جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں حالانکہ ان کی حکمت عملی کے مطابق اگر یہ حکومت گر جاتی اور اسمبلیاں نئے انتخابات کے لئے برخاست ہو جاتی ہیں تو ان کی خواہش کے مطابق نہ تو وہ خود مختار اور آزاد ترین الیکشن کمیشن ہو گا اور نہ ہی احتساب کا نظام وضع ہوگا اس کے لئے موجودہ انتخابی ضابطوں کی تبدیلی کے لئے آئینی اور قانونی ترامیم کی ضرورت ہے جو اسمبلیاں ہی کر سکتی ہیں۔ ان کو یہ شرائط پہلے منوانا ہوں گی اور ترامیم کرانا پڑیں گی وہ نہیں کرتے تو پھر واقعی محمود غزنوی ثانی ہوں گے؟

مزید : تجزیہ