بیوی کا بدلہ ، مگرمچھ مارنے والے شخص کی داستان سامنے آگئی ، مردہ یونیورسٹی منتقل

بیوی کا بدلہ ، مگرمچھ مارنے والے شخص کی داستان سامنے آگئی ، مردہ یونیورسٹی ...
بیوی کا بدلہ ، مگرمچھ مارنے والے شخص کی داستان سامنے آگئی ، مردہ یونیورسٹی منتقل

  

کمپالا(مانیٹرنگ دیسک) چارماہ قبل یوگندا کی جھیل سے پانی لے کے لیے جانیوالی خاتون کی ہلاکت کے بدلے میں قاتل مگر مچھ مارنے والے شخص کی داستان سامنے آگئی ہے جبکہ مردہ مگر مچھ کو مکاریرے یونیورسٹی کمپالامنتقل کردیاگیاجہاں اُس کے پیٹ میں کولے کی ہڈی کی موجودگی کے شواہد پائے گئے ۔

تفصیلات کے مطابق دمتریا نابیری اپنے گھر کے قریب ایک جھیل سے پانی لینے گئیں تو انہیں ایک مگرمچھ نے حملہ کر کے ہلاک کر دیا اور جب وہ مگرمچھ اسی علاقے میں واپس آیا تو اسے نابیری کے شوہر کے غیظ و غضب کا سامنا کرنا پڑا جو اپنی بیوی کی ہلاکت کا بدلہ لینے کے لیے تیار تھے۔

مگرمچھ کی واپسی کی اطلاع پر 50 سالہ مچھیرے نے یہ خبر سن کچھ دوستوں کے ہمراہ کر جھیل کا رخ کیا اوراسے پتھر اور چھڑیاں ماریں مگر اس کا کچھ نہیں بگڑاجس کے بعد وہ مقامی لوہار کے پاس چلے گئے اور وہاں سے پانچ ڈالر کا ایک خصوصی نیزہ تیار کرالیا اورتاحال مگر مچھ جھیل کے کنارے پڑاتھا۔

باتامبوز نے بتایا کہ اُس کے لیے یہ ایک بڑی رقم تھی مگر جس نے مجھ سے میرا مستقبل چھینا میں اسے ضرور ہلاک کرنا چاہتا تھا،ا±ن کے دوست خوفزدہ تھے اور انہوں نے باتامبوز کو باز رکھنے کی کوشش کی لیکن باتامبوز باز آنے والے نہیں تھے۔

بی بی سی کے مطابق باتامبوز نے کہا کہ اُن کے دل میں بہت زیادہ خوف تھا مگر اس نیزے کی وجہ سے میں کامیاب ہوا جس کے سرے پر میں نے رسی باندھ دی تھی تاکہ جب نیزے کا سرا مگرمچھ کے جسم میں اترے تو میں اسے کھینچوں تاکہ وہ زیادہ سے زیادہ جسم کاٹتا ہوا نکلے ،میں نے نیزے کو مگرمچھ کی ایک جانب مارا جبکہ میرے دوستوں نے اس کی پشت پر پتھر مار کر متوجہ کیا۔ مگر مچھ خونخوار ہو کر مجھ پر جھپٹا اور لوگ خوفزدہ ہو گئے، مگر میں ڈٹا رہا کیونکہ میں مرنے سے خوفزدہ نہیں تھا۔ میں نے نیزہ مار کر رسی کھینچی جس سے مگر مچھ غصے میں آ گیا۔

مگرمچھ کو مارنے میں ڈیڑھ گھنٹہ لگا، جس کے دوران کبھی اس پر حملہ کیا جاتا اور کبھی پیچھے ہٹ کر داو¿ پیچ استعمال کیے جاتے۔یوگینڈا کے جنگلی حیات کے اہلکار اوسوالڈ تمیانا کا کہنا ہے کہ مگرمچھ چار میٹر سے زیادہ لمبا تھا اور اس کا وزن 600 کلوگرام تھا۔

مرے ہوئے مگرمچھ کو مکاریرے یونیورسٹی کمپالا لے جایا گیا جہاں ایک جانوروں کے ڈاکٹر ولفرڈ ایمنیکو نے اس کا معائنہ کیاتو مگرمچھ کے پیٹ میں پنڈلی کی ہڈی ملی جو کسی انسان کی لگتی تھی۔

چارلس ڈارون یونیورسٹی آسٹریلیا کے مگرمچھوں کے ماہر ایڈم بریٹن نے کہا کہ یہ ممکن نہیں ہے کہ 12 ہفتے کے بعد ایک جانور کے پیٹ میں اس کے 12 ہفتے پرانے کھائے ہوئے انسان کی ہڈیاں ہوں۔

بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق باتامبوز کا کہنا ہے کہ مقامی افراد انھیں ہیرو مانتے ہیں جس نے ایک درندے سے ان کی جان بچائی۔

مزید : بین الاقوامی