ایک سال کی سزایاجزا، سعید اجمل کے ٹیسٹ کا فیصلہ آج متوقع

ایک سال کی سزایاجزا، سعید اجمل کے ٹیسٹ کا فیصلہ آج متوقع
ایک سال کی سزایاجزا، سعید اجمل کے ٹیسٹ کا فیصلہ آج متوقع

  

لاہور (ویب ڈیسک) پاکستان کرکٹ ٹیم کےا ٓف سپنر سعید اجمل کے بائیو مکینکس ٹیسٹ کی رپورٹ آج آئے گی تاہم واضح نہیں ہے کہ سعید اجمل نے ٹیسٹ کلیئر کرلیا ہے یانہیں، پی سی بی حکام نے چنئی فون کرکے رپورٹ کا نتیجہ معلوم کرنے کی کوشش کی لیکن ابھی وہ کچھ بتانے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ امکان ہے کہ سعید اجمل کلیئر ہونے کے بعد اب اپنے ایکشن کو مزید بہتر بنانے کے لئے کام کریں گے۔ سعید اجمل کے باﺅلنگ ایکشن کا بائیو مکینکس ٹیسٹ 24 جنوری کو چنئی میں ہوا۔ طریقہ کار کے مطابق 14 روز میں رپورٹ آئی سی سی کو موصول ہوگی جو ہوم بورڈ کو نتائج سے آگاہ کرے گی۔

 چیئرمین پی سی بی شہریار کا کہنا ہے کہ سعید اجمل کی سپیشل ڈلیوری ”دوسرا“ پراب بھی کدشات ہیں۔ البتہ ان کی پرانی ڈلیوریز اور نئی ورائٹی کیرم بال اور سیم اپ کے بارے میں امید ہے کہ وہ کلئر ہوجائیں گی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ری ماڈل باﺅلنگ ایکشن کو موثر بنانے کے لئے سعید اجمل کو مزید محنت کرنا ہوگی۔ قبل ازیں آئی سی سی نے مشکوک ایکشن کی پاداش میں سعید اجمل کوباﺅلنگ سے روک دیا تھا۔ آئی سی سی کے مطابق بائیو مکینک کے آزاد ماہرین کی رپورٹ کے مطابق سعید اجمل کی تمام گیندیں 15 ڈگری سے تجاوز کرتی ہیں جو کسی بھی باﺅلر کے باﺅلنگ ایکشن کی قانونی حد ہے۔

 واضح رہے کہ پاکستان اور سری لنکا کے درمیان گال میں کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ میچ کے دوران امپائرز نے سعید اجمل کی بعض گیندوں کے قوانین کے منافی ہونے کے بارے میں رپورٹ کی تھی جس کے بعد قواعد و ضوابط کے تحت انہیں 21 دن کے اندر اپنے باﺅلنگ ایکشن کی درستگی کے لئے آئی سی سی کی منظور شدہ کسی بھی بائیومکینک لیبارٹری سے رجوع کرنا تھا۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے سعید اجمل کو ٹیسٹ سیریز کے اختتام پر برسبین بھیجا جہاں 25 اگست کو نیشنل کرکٹ سنٹر میں ہیومن موومنٹ کے ماہرین نے ان کے باﺅلنگ ایکشن کا ٹیسٹ لیا جس میں وہ ناکام رہے، 36 سالہ سعید اجمل دوسری مرتبہ مشکوک باﺅلنگ ایکشن کی زد میں آئے۔ ماضی میں سعید اجمل یہ موقف اختیار کرتے آئے ہیں کہ ایک ٹریفک حادثے کی وجہ سے ان کا بازو متاثر ہوا تھا جس کی وجہ سے آئی سی سی نے انہیں 15 ڈگری سے زیادہ کی چھوٹ دے رکھی تھی۔ ان کے حالیہ ٹیسٹ کے آج آنیوالے نتیجے کے مطابق اگر وہ فیل ہوتے ہیں تو انہیں 1 سال تک پابندی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

مزید : کھیل