نائن الیون ، القاعدہ کے گرفتار رکن کا سعودی شاہی خاندان سے متعلق بڑا دعویٰ ، ملزم ذہنی مریض ہے:تحقیقاتی کمیشن

نائن الیون ، القاعدہ کے گرفتار رکن کا سعودی شاہی خاندان سے متعلق بڑا دعویٰ ، ...
نائن الیون ، القاعدہ کے گرفتار رکن کا سعودی شاہی خاندان سے متعلق بڑا دعویٰ ، ملزم ذہنی مریض ہے:تحقیقاتی کمیشن

  

نیویارک (مانیٹرنگ ڈیسک) کولوریڈو کی جیل سپرمیکس میں عمر قید کی سزا کاٹنے والے القاعدہ کے آپریٹر زکریا موساوی نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی عرب کے شاہی خاندان کے بعض افراد دہشت گردی کے نیٹ ورک کی سب سے زیادہ پشت پناہی کررہے ہیں۔ نیویارک ٹائمز کے ساتھ انٹرویو میں 46 سالہ زکریا موساوی نے دعویٰ کیا کہ سعودی عرب کے شاہی خاندان کے چند ارکان 1990ءکی دہائی میں القاعدہ کی مالی معاونت کرتے رہے ہیں اور انہوں نے امریکہ میں سعودی سفارت خانے کے ایک رکن سے امریکی صدر کے جہاز کو سٹنگر میزائل کے ذریعے مار گرانے کے منصوبے پر بات چیت بھی کی تھی جس کا مقصد سٹنگر میزائل سے امریکی صدر کا طیارہ گرانے اور سعودی شاہی خاندان اور اسامہ بن لادن کے درمیان پیغامات رسانی تھا۔

نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق نائن الیون حملوں میں ہلاک ہونے والوں کے لواحقین کی طرف سے دائر کردہ ایک درخواست کی سماعت کرنیوالے نیویارک کی ایک عدالت کے جج جارج بی ڈینیل کوایک خط ارسال کیا تھا جس میں انھوں نے اس مقدمے میں اپنا بیان ریکارڈ کرنے کی خواہش ظاہر کی تھی۔

موساوی نے سعودی عرب کے موجودہ شاہ سلمان اور شاہی خاندان کے دیگر افراد سے اپنی ملاقاتوں کی تفصیل فراہم کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے اسامہ بن لادن کے پیغام ان تک پہنچائے تھے۔سعودی عرب نے افغانستان میں سویت یونین کے قبضے کے دوران امریکہ کے ساتھ مل کر ’مجاہدین‘ کی بھرپور حمایت کی تھی۔ بعد ازاں یہ ہی مجاہدین القاعدہ کے لیے افرادی قوت حاصل کرنے کا اہم ذریعہ ثابت ہوئے۔

نیویارک ٹائمز کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سعودی سفارت خانے سے سوموار کی رات کو جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ 11 ستمبر کے حملوں کی تحقیقات کرنے والے کمیشن نے ان الزامات کی تردید کر دی تھی کہ سعودی حکام یا سعودی حکومت القاعدہ کی مالی معاونت کرتے رہے ہیں۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ موساوی ذہنی طور پر بیمار مجرم ہے اور ان کے اپنے وکلا یہ ثبوت پیش کر چکے ہیں کہ وہ ذہنی توازن کھو چکے ہیں لہٰذا ان کے بیان کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔

زکریا موساوی کی جانب سے یہ الزامات ایک ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب سعودی عرب اور امریکہ کے تعلقات نازک دور سے گزر رہے ہیں اور حال ہی میں سعودی عرب میں شاہ عبداللہ کی وفات کے بعد انتقال اقتدار ہوا ہے۔

مزید : بین الاقوامی