سلمان تاثیر قتل کیس ، اہلکاروں کو کسی کو مرتد قرار دیکر مارنے کا اختیار کس نے دیا: اسلام آباد ہائیکورٹ

سلمان تاثیر قتل کیس ، اہلکاروں کو کسی کو مرتد قرار دیکر مارنے کا اختیار کس نے ...
سلمان تاثیر قتل کیس ، اہلکاروں کو کسی کو مرتد قرار دیکر مارنے کا اختیار کس نے دیا: اسلام آباد ہائیکورٹ

  

اسلام آباد(این این آئی) اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر قتل کیس میں موت کی سزا پانیوالے ممتاز قادری کی اپیل کی درخواست پر سماعت کے دوران ریمارکس دیئے ہیں کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کو کسی کو مرتد قرار دے کر موت کے گھاٹ آتار دینے کا اختیار کس نے دیا ہے ؟جب ملک میں توہین مذہب کا قانون موجود ہے تو پھر فیصلہ کرنے کا اختیار عدالت کے پاس ہے کسی شخص کے پاس نہیں،بادی النظر میں مجرم ممتاز قادری نے قانونی راستہ اختیار کرنے کے بجائے قانون ہاتھ میں لے لیا۔

 اسلام آباد ہائیکورٹ میں جسٹس نورالحق قریشی اور جسٹس شوکت عزیز صدیقی پر مشتمل اپیلٹ کورٹ نے سلمان تاثیر قتل کیس میں ممتاز قادری کی اپیل کی سماعت کی۔سماعت شروع ہوئی تو ممتاز قادری کے وکیل خواجہ محمد شریف نے اپنے دلائل میں کہا کہ ان کے موکل سے اقبالی بیان اسلحے کی نوک پر لیا گیا جس میں اُنہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ گورنر پنجاب سلمان تاثیر کو توہین رسالت کے قوانین کی مخالفت کرنے پر قتل کا ارادہ کر لیا تھا اور یہ کہ انہوں نے متعلقہ حکام سے درخواست کر کے اپنی ڈیوٹی گورنر پنجاب کی سکیورٹی پر لگائی تھی۔انہوں نے کہا کہ انسداد دہشتگردی کی عدالت میں جب آن پر جرح کی گئی تو ممتاز قادری نے اس بات سے انکار کیا کہ انہوں نے منصوبہ بندی کے تحت اپنی ڈیوٹی لگوائی تھی جبکہ حقیقت میں متعلقہ حکام نے ان کے موکل کی ڈیوٹی سلمان تاثیر کے ساتھ لگائی تھی۔خواجہ شریف نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ مقتول سلمان تاثیر کے ایک بیٹے آتش تاثیر نے اپنی کتاب میں اپنے باپ کے بارے میں شراب نوشی،خنزیر کا گوشت کھانے اور مذہب سے لگاﺅ نہ رکھنے کا لکھا۔

بینچ کے سربراہ نے کہاکہ شراب پینے کے جرم سے متعلق قانون موجود ہے اور محض شراب پینے اور حرام گوشت کھانے پر کسی کو موت کے گھاٹ نہیں اتارا جا سکتا۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کو یہ اختیار کس نے دیا ہے کہ وہ کسی کو مرتد قرار دے کر قتل کر دیں۔ جسٹس شوکت صدیقی نے ریمارکس دیئے کہ توہین رسالت کے حوالے سے کسی طرح کی بحث کا سوچ بھی نہیں سکتے ، نہ ہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنے والے کی حمایت پر کوئی بحث ہوسکتی ہے۔سماعت کے دوران ممتاز قادری کا مجسٹریٹ کے روبرو ریکارڈ کرایا گیا بیان بھی سنایا گیا عدالت نے کہاکہ بادی النظر میں مجرم ممتاز قادری نے قانونی راستہ اختیار کرنے کے بجائے قانون ہاتھ میں لے لیا۔

اس موقع پر ممتازقادری کی طرف سے لاہور ہائی کورٹ کے سابق جج میاں نذیر احمد نے بھی دلائل دئیے اورمزید سماعت جمعہ تک ملتوی کردی۔

مزید : اسلام آباد