ذیابیطس سے نجات کے لیے جادوئی گولی ایجاد

ذیابیطس سے نجات کے لیے جادوئی گولی ایجاد
ذیابیطس سے نجات کے لیے جادوئی گولی ایجاد

  

نیویارک(نیوزڈیسک)سائنسدانوں نے ایک ایسی حیرت انگیز گولی بنا لی ہے جو ذیابیطس کے مریضوں کے لئے انتہائی مفید ہے اور شوگر جیسے موذی مرض کو ختم کرسکتی ہے۔ نیویارک کی کارنیل یونیورسٹی میں ماہرین نے ایک گولی تیار کی ہے جو کہ بیکٹیریا کے ذریعے ذیابیطس (ٹائپ 1اور2 )کا علاج ممکن بنا ئے گی۔

تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ لبلبہ کی خرابی کی صورت میں انہوں نے ایک گولی کے ذریعے بڑی آنت سے لبلبے کاکام لیا ہے یعنی انسانی جسم میں تبدیلی کر دی ہے۔ تحقیق کار جان مارچ کا کہنا ہے کہ تحقیق میں ایک بہت بڑی کامیابی ملی ہے اور آنے والے دنوں میں لوگوں کو اس گولی کھانے کے بعد کسی اور چیز کی ضرورت نہیں رہے گی۔

وہ آدمی جو برف میں دھنسی گاڑی میں دو ما ہ تک زندہ رہا ،مگرکیسے؟طریقہ انتہائی دلچسپ

سائنسدانوں نے ایک انسانی مادے lactobacillusکا استعمال کرتے ہوئے ایک گولی بنائی جس کے کھانے سے جسم میں داخل ہونے والی خوراک کو انسولین میں تبدیل کیا جاسکے گا۔تحقیق کاروں نے یہ گولی ذیابیطس کے شکار چوہوں

کو 90دن تک دی جبکہ ایک اور چوہوں کے گروہ کو یہ گولی نہیں دی گئی۔ ماہرین نے دیکھا کہ جن چوہوں کو یہ گولی دی گئی ان کا گلوکوز لیول دوسرے چوہوں کی نسبت 30فیصد کم تھا یعنی ان میں ذیابیطس کو کنٹرول کرنے میں مدد ملی۔اس تحقیق میں اہم ترین بات یہ تھی کہ ان چوہوں کی بڑی آنت نے لبلبے کے کام کرنا شروع کردیا تھا۔پروفیسر مارچ نے اس تبدیلی کو انقلابی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے ذیابیطس کا مستقل علاج کرنے میں بہت زیادہ مدد ملے گی۔

انسانی لبلبہ جسم میں گلوکوز کے لیول کو کنٹرول کرتا ہے اور اگر یہ خراب ہوجائے تو شوگر کا مرض شروع ہو جاتا ہے۔لبلبے کا یہ کام ہے کہ وہ گلوکوز کا استعمال کرتے ہوئے انسولین بنا کر اسے باقاعدگی سے خون میں شامل کرتا رہتا ہے لیکن اگر لبلبے میں خرابی پیدا ہوجائے تو انسولین نہیں بنتی اور گلوکوزبراہ راست خون میں شامل ہونا شروع ہو جاتا ہے جو کہ انتہائی خطرناک عمل ہے۔

مزید : تعلیم و صحت