فوڈ اتھارٹی کا قبلہ درست کرنے کی ضرورت؟

فوڈ اتھارٹی کا قبلہ درست کرنے کی ضرورت؟
 فوڈ اتھارٹی کا قبلہ درست کرنے کی ضرورت؟

  

لاہور اور پاکستان فوڈ کلچر کی وجہ سے پوری دنیا میں مشہور ہے۔ کچھ عرصہ قبل جب فوڈ اتھارٹی کی میڈیا فیم آفیسر عائشہ ممتاز نے ہوٹل اور ریسٹورنٹس پر چھاپے مارنے شروع کئے اور ان چھاپوں کے نتیجے میں طرح طرح کی بریکنگ نیوز اور ٹکرز برآمد ہونا شروع ہوئے تو نہ صرف لاہوریوں نے ہوٹلوں کا رخ کرنا چھوڑ دیا بلکہ دنیا بھر میں بھی پاکستان کی جگ ہنسائی ہوئی۔ خاص کر جب عائشہ ممتاز نے سینکڑوں من کے حساب سے گدھوں اور لاہور ریلوے اسٹیشن سے سور کا گوشت برآمد کرنے کا دعویٰ کیا تو لوگ پوری طرح سکتے میں آ گئے ۔ میرے سمیت تمام ٹی وی پروگرام کرنے والے اینکر، لکھنے والے کالم نگاروں اور تجزیہ کاروں کا بھی پارہ آسمان کو چھونے لگا اس دوران مجھے لاہور ریسٹورنٹس ایسوسی ایشن کے ایک اجلاس میں جانے کا اتفاق ہوا۔ مجھے جب اظہار خیال کیلئے کہا گیا تو میں نے ریسٹورنٹس مالکان کو کہا کہ آپ پیسے کے لالچ میں اس قدر اندھے ہو گئے ہو آپ گوشت کے نام پر ہم کو آج تک کیا کھلاتے رہے ہو اس پر کچھ ریسٹورنٹس مالکان نے وضاحت کی کوشش کی مگر ہم نے ان کو وضاحت کے قابل بھی نہ سمجھا انہی دنوں مجھے ذاتی طور پر بعض ریسٹورنٹس پر جانے کا اتفاق ہوا۔ لاہور کے بڑے بڑے ریسٹورنٹس خالی ہو چکے تھے لوگوں کی کروڑوں روپے کی انویسٹمنٹ ڈوب رہی تھی ۔ سوشل میڈیا ، پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر چلنے والی بریکنگ نیوز اور ٹکروں نے فوڈ انڈسٹری سے وابستہ افراد کو نیم پاگل کر رکھا تھا۔ میرے سمیت ہر شہری عائشہ ممتاز کو مسیحا سمجھ رہا تھا۔ چیف منسٹر پنجاب عائشہ ممتاز کو بلا کر نہ صرف تھپکی دے چکے تھے بلکہ اپنی مکمل سپورٹ اور ایک عدد خوبصورت شیلڈ سے بھی نواز چکے تھے اس دوران فوڈ اتھارٹی نے تقریباً 18000 ہزار کے لگ بھگ مختلف فوڈز آئٹمز کے سیمپل لئے مگر ان میں سے صرف 4 ہزار سیمپل درست ثابت ہوئے ۔ یاد رکھیے میڈیا ٹرائل کا سامنا 18000 ہزار یونٹس کو ہی کرنا پڑا۔ یہ صرف محکمہ فوڈ اتھارٹی کی ایک تصویر ہے جو میں نے مختصر آپ کے سامنے پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ اب تازہ ترین لیبارٹری رپورٹ سامنے آئی ہے جس میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ ماضی میں عائشہ ممتاز نے جس گوشت کو سور کا گوشت قرار دیکر میڈیا ٹرائل کی انتہا کر دی تھی وہ دراصل بھینس کا گوشت تھا اس وقت اس ایشو پر دنیا بھر میں خبریں شائع ہوئی تھیں کئی ماہ تک اس پر تبصرے ، تجزیے اور لعن طعن کا سلسلہ جاری رہا تھا مگر آپ لیبارٹری کی رپورٹ کو فوڈ اتھارٹی کی موجودہ انتظامیہ نے فائلوں میں دبا دیا ہے میں نے اس حوالے سے ذاتی طور پر ڈی جی فوڈ اتھارٹی نور الامین مینگل سے رابطہ کیا اور ان سے پوچھا کہ حضور آ پکی ایک آفیسر نے صرف خبریں لگوانے کیلئے سینکڑوں لوگوں کا کاروبار تباہ کر دیا ۔ لہٰذا فوڈ اتھارٹی کو جھوٹا الزام لگانے پر کم از کم ایسے لوگوں سے معافی تو مانگنی چاہیے اس کے جواب میں مینگل صاحب نے لیبارٹری کی رپورٹ کی تو تصدیق کی البتہ مجھے ساتھ ہی ساتھ یہ بھی مشورہ دے ڈالا کہ ماضی کو چھوڑیں جو ہونا تھا ہو گیا اب ہم نے لوگوں کو ڈرانے دھمکانے کی بجائے فوڈ فیکٹریوں ، ہوٹلز اور ریسٹورنٹس وغیرہ کی اصلاح کیلئے باقاعدہ ایس او پی تیار کئے ہیں اب بلاوجہ خبر لگوانے کیلئے کسی کا ریسٹورنٹ بند نہیں کیا جائیگا بلکہ بند کرنے کی بجائے اس کو ٹھیک کرنے پر فوکس ہو گا میں نے ڈی جی فوڈ کو دوبارہ عرض کیا کہ حضور آپ کے ادارے کے افسران کی وجہ سے جن افراد کا ناجائز میڈیا ٹرائل کیا گیا ان سے معافی کیلئے کم از کم ایک اشتہار ہی دے دیں۔ جس پر وہ اپنی میٹھی میٹھی گفتگو کرتے رہے اور مسکراتے رہے اور مجھے بار بار کہتے رہے کہ ماضی کو چھوڑو آگے بڑھو ۔ اب ایسا نہیں ہو گا۔ عائشہ ممتاز کے ڈرائیور جس کو اینٹی کرپشن نے گرفتار کر رکھا ہے، سنا ہے اس نے عائشہ ممتاز کے نام کو استعمال کرتے ہوئے فوڈ اتھارٹی میں باقاعدہ ایک مافیا بنا رکھا تھا۔ اس ڈرائیور کے با اثر ہونے کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ موصوف نے عائشہ ممتاز کی طرف سے 3120 بند کی جانے والی فوڈ فیکٹریوں کو غیر قانونی طور پر مالکان کے ساتھ ملی بھگت کر کے ڈی سیل کروا دیا جبکہ اس دوران صرف 20 فیکٹریاں ایسی تھیں جن کو باقاعدہ قانونی کارروائی کا عمل مکمل کر کے کھولا گیا اس پر نور الامین کافی دیر تک چپ رہے اور انہوں نے کہا کہ یہ بدقسمتی ہے مگر ایسا ہوتا رہا لیکن میں اس کرپشن کا الزام عائشہ ممتاز پر نہیں لگاتا ہو سکتا ہے کہ اس کا نام استعمال کیا گیا ہو ۔ البتہ ڈرائیور کچھ لوگوں کے ساتھ مل کر ایسی کارروائیاں کرتا رہا ہے۔نور الامین مینگل کی کچھ ہاں اور کچھ ناں پر غور کرتا ہوں پھر عائشہ ممتاز کے جاہ و جلال کو دیکھتا ہوں اور ساتھ ہی ساتھ جن حضرات کا صبح و شام میڈیا ٹرائل ہوا ان پر غور کرتا ہوں تو میں بہت دور نکل جاتا ہوں اور میں ساری کہانی میں بطور میڈیا پرسن اپنا کردار دیکھتا ہوں تو مجھے اس پر بھی فخر نہیں بلکہ افسوس ہوتا ہے کیونکہ عائشہ ممتاز کے ڈرائیور کے مطابق ان کے ساتھ بہت سے اصلی اور جعلی صحافی بھی تھے جو عائشہ ممتاز کا نام استعمال کر کے اپنی غربت دور کرتے رہے ہم اس حوالے سے اس معاملہ پر تو بہت زور دیتے ہیں کہ اس تمام کہانی میں کئی بزنس مینوں کو کروڑوں کا نقصان ہوا کئی حضرات نے چھوٹی موٹی دیہاڑیاں لگا لیں مگر کیا ہم سے کتنے ایسے ہیں جو سوچتے ہیں کہ اس منفی مہم کے نتیجے میں پاکستان اور لاہوری فوڈ کلچر کی شکل کو جس قدر بگاڑ کر پوری دنیا کے سامنے پیش کیا گیا۔ اس سے پاکستان کے امیج ، فوڈ اور کلچر اور سیاحت کو کس قدر نقصان پہنچا ہے ۔ عائشہ ممتاز تو کسی اور محکمہ میں پوسٹنگ لے لیں گی ان کا ڈرائیور بھی رہا ہو جائیگا کیونکہ مالی طور پر وہ بھی اس قابل ہو چکا ہے کہ انصاف کو خرید سکے لیکن عوام کے دلوں اور ذہنوں میں جو سوال ہیں ان کا جواب کون دے گا ؟ کیا موجودہ ڈی جی نور الامین مینگل ہر ماہ مختلف ریسٹورنٹ میں مقابلے کروا کر نئے ایس او پی بنا کر پاکستان کا وہ امیج اور چہرہ دنیا میں بحال کر سکیں گے جو بگڑ چکا ہے۔ سچ اور حقیقت کو سامنے لا کر فوڈ انڈسٹری کی اصلاح کرنا موجودہ ڈی جی کیلئے جہاں پر بہت بڑا چیلنج ہے وہاں پر ایسا کرنا ان کا فرض بھی ہے اور ان پر قرض بھی ہے۔نور الامین مینگل یہ قرض کیسے اتاریں گے ، کیا وقت ان کو مہلت بھی دے گا یا وہ بھی کسی بڑے کے غضب یا کسی سازش کا شکار ہو کر گھر چلے جائیں گے ۔ان کو مختلف افواہوں اور قصے ، کہانیوں سے بھرپور فوڈ اتھارٹی کو ٹھیک کرنے کیلئے کافی محنت کرنی پڑے گی اور ان کو اس بات پر بھی غور کرنا ہے کہ جس طرح عائشہ ممتاز کا نام استعمال کر کے کچھ لوگوں نے دیہاڑیاں لگائیں کہیں کوئی ان کے نام کو استعمال تو نہیں کر رہا۔

مزید :

کالم -