معلوماتی سفرنامہ۔ ۔ ۔ پانچویں قسط

معلوماتی سفرنامہ۔ ۔ ۔ پانچویں قسط
معلوماتی سفرنامہ۔ ۔ ۔ پانچویں قسط

  

بارہ لاکھ میں کینیڈا کی جنت

میرا نمبر آیا توبمشکل ایک منٹ میں خاتون نے مجھے فارغ کردیا۔ رسید دیتے ہوئے انہوں نے مجھ سے کہا کہ تین ہفتے میں سن (SIN)کارڈ میرے گھر کے پتے پر پہنچ جائے گا۔ تاہم بعد میں صرف دو ہفتے میں مجھے یہ کارڈ مل گیا۔ وہاں ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ یہ پاکستانی تھے اور بارہ لاکھ روپے دے کر غیر قانونی طریقے پر اس ’’جنت‘‘ میں پہنچے تھے۔ چالیس سالہ یہ صاحب جن کی ایک ٹانگ میں سقم بھی تھا، ایک بہتر مستقبل کی امید میں نجانے کس طرح بارہ لاکھ جمع کرکے جعلی کاغذات پر کینیڈا آئے تھے۔ واپسی پر مجھے امتیاز بھائی نے بتایا کہ حکومت کی طرف سے انہیں اپنی معذوری کا بھی کچھ الاؤنس ملے گا۔

معلوماتی سفرنامہ۔۔۔ چوتھی قسط پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

بینک اکاؤنٹ

اگلا مرحلہ بینک اکاؤنٹ کا تھا۔ ہمارے گھر کے قریب واقع مال(Mall) میں ایک مشہور بینک کی برانچ تھی۔ یہ مال ایک بہت بڑے رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔ اس میں عام ضرورت کی تمام چیزیں ایک ہی چھت تلے جمع کردی گئی ہیں۔ بینکس، پوسٹ آفس، بڑے بڑے سپر اسٹورز، عام اشیائے صرف ، کھانے پینے اور دیگر ضروریاتِ زندگی کی چیزوں کی دکانیں سب ایک جگہ موجودہیں۔ ایسے مال یہاں اکثر علاقوں میں بنے ہوئے ہیں۔

بینک میں ہم ’’ نئے اکاؤنٹ‘‘ کی تختی کے نیچے جاکر کھڑے ہوئے تو دیکھا کہ کاؤنٹر خالی ہے۔ اتنے میں ایک خاتون ہمیں دیکھ کر دور سے آئیں اور ہمیں ریسیپشن پر موجود ایک دوسری خاتون کے پاس لے گئیں۔ انہوں نے ہمیں بتایا کہ آج بینک میں عملہ کچھ کم ہے اس لیے ہم ایک گھنٹے بعد کا اپائنٹ منٹ(appointment) لے لیں۔ ہم نے بااصرار چار گھنٹے بعد یعنی تین بجے کا ٹائم لیا۔ بینک سے نکلتے ہوئے میں نے کہا کہ ہمیں ہیلتھ کارڈ کے لیے جانا ہے۔ اگر انہوں نے کوئی شناخت مانگی تو ہم کم از کم بینک اکاؤنٹ کی شناخت تو پیش کرسکتے ہیں۔ لہٰذا پہلے بینک اکاؤنٹ کھلنا چاہیے۔ چنانچہ ہم واپس لوٹ آئے اور ان سے کہا کہ ہمیں بارہ بجے کا ہی وقت دے دیں۔

میں یہ سمجھ رہا تھا کہ وہ اللہ کی بندی کم از کم دو چارصلوٰتیں توضرور سنائے گی کہ جب میں نے کہاتھا کہ یہ وقت لے لو تو کیوں نہیں لیا اور اب تو میں رجسٹر پر لکھ چکی ہوں اس لیے کچھ نہیں ہوسکتا۔ لیکن ایسا نہ ہوا۔ ہماری بات سن کر وہ ایک اور خاتون سے بات کرنے گئی اور واپس آکر کہا کہ آپ بیٹھیں۔ پھر ایک خاتون کی طرف اشارہ کرکے کہا کہ یہ پانچ منٹ میں آپ کو بلالیں گی۔ میں ایک صوفے پر بیٹھ کر سوچنے لگا کہ کہ اگر یہی کچھ مملکتِ خدادا دمیں ہوا ہوتا تو کیا ہوتا۔

ٹورنٹو بمقابلہ جدہ

میں ایک بات کی یہاں وضاحت کرنا چاہوں گا۔ قارئین یہ نہ سمجھیں کہ میں گوروں سے بہت زیادہ مرعوب ہوں اور بلا وجہ ان کی قصیدہ گوئی کیے جارہا ہوں۔ اللہ گواہ ہے کہ ایسی کوئی بات نہیں۔آپ آگے چل کر دیکھ لیں گے کہ میں ان کی تہذیبی بنیادوں پر کیسی تنقید کرتا ہوں۔ بات صرف اتنی ہے کہ میں ایسے ملک کا رہنے والا ہوں جہاں ہر کرسی والا، چاہے کلرک کی کرسی ہی کیوں نہ ہو، پوری کوشش کرتا ہے کہ سامنے والے کے کام میں روڑے اٹکائے اور اسے تنگ کرے ۔ تاکہ اسے کام نہ کرنا پڑے اور کرنا پڑے تو اسکااضافی ’’حقِ خدمت‘‘ بھی اسے ملے۔ اور اگر ان میں سے کچھ نہ کر سکے تو اپنے رویے سے ایسا ظاہر کرے کہ گویا وہ سا منے والے کی سات پشتوں پر احسان کررہا ہے۔ مگر ان لوگوں میں اسلام نہ سہی ،کم از کم انسانیت تو موجود ہے۔ بد قسمتی سے ہم میں اس کے خصائص بھی تیزی سے ختم ہوتے چلے جارہے ہیں۔اس وضاحت کے بعد میں ایک واقعہ نقل کرناچاہوں گا۔ البتہ قارئین کے قہر و غضب سے محفوظ رہنے کے لیے پاکستانیوں سے موازنہ نہیں کروں گا، سعودیوں سے کروں گا۔ سب مسلمان بھائی بھائی ہیں اور دنیا میں جہاں کہیں ہوں اکثرایک ہی جیسے کردار کا مظاہرہ کرتے ہیں۔

جدہ میں جاب کے دوران میں اور میرے بھائی رضوان نے بینک اکاؤنٹ کھلوانا چاہا۔ رمضان کے دن تھے۔ہم تمام ضروری کاغذات تیار کرکے بینک پہنچے۔ لیکن متعلقہ شخص نے ہمیں یہ کہہ کر لوٹادیا کہ آج بہت کام ہے کل آنا۔ ہم اگلے دن بھی چلے گئے۔ مگر پھر وہی جواب ملا۔ ایسا پانچ چھ دفعہ ہوا۔ جب اس شخص کو ہماری ڈھٹائی کا یقین ہوگیا تو آخری دفعہ اس نے ہمیں بٹھالیا اور دونوں کے اکاؤنٹ کھول دیے۔ مگر کتنی دیر میں؟ صرف تین گھنٹے میں۔ جی ہاں اس نے دو اکاؤنٹ کھولنے میں تین گھنٹے لیے۔ اس روز اس نے کوئی دوسرا کام نہیں کیا اور ہر آنے والے فون کے جواب میں یہی کہا کہ آج بہت کام ہے۔ اس طرزِ عمل کا سبب میں انشاء اللہ سعودی عرب کی زندگی کا تجزیہ کرتے وقت بیان کروں گا۔

نو مسلم عائشہ

پانچ منٹ بعد ایک نوجوان خاتون، جو چہرے بشرے سے دیسی مگر لہجے سے انگریز لگ رہی تھیں، ہمارے پاس آئیں اور ساتھ لے جاکر اپنی میز کے پاس بٹھادیا۔ انہوں نے ہمارا لینڈنگ پیپر اور پاسپورٹ دیکھا۔اس کے بعد کوئی فارم فل کرنا پڑا نہ ریفرنس دینا پڑا اور ہمارا کاؤنٹ کھل گیا۔

جن خاتون نے ہمارا اکاؤنٹ کھولا ان کا نام عائشہ تھا۔ یہ ایک نومسلم سکھ خاتون تھیں جنہوں نے ایک پاکستانی سے شادی کی تھی۔ بظاہر یہ لگا کہ یہ شادی اور قبولِ اسلام کسی Love Affair کا نتیجہ ہے۔ مجھے یہ اندازہ ان کے لباس سے ہوا۔ وہ ایک منی اسکرٹ اور بلاؤز میں ملبوس تھیں۔ ایک پیدائشی مسلمان لڑکی سے ، اپنے ماحول کے زیرِاثر ، ایسا لباسٍ پہننا متوقع ہے ۔مگر ایک نومسلم لڑکی جس نے اسلام سوچ سمجھ کر قبول کیا ہو ، ایسا نیم عریاں لباس کبھی نہیں پہن سکتی۔ مجھے ان خاتون سے مل کر گہری مسرت ہوئی جس کا اظہار میں نے ان سے کیابھی، مگرساتھ ہی دکھ بھی ہوا۔ ان خاتون نے دورانِ گفتگو بتایا کہ انہیں نام بدلوانے کے سلسلے میں بڑی بھاگ دوڑ کرنی پڑی جس میں وقت اور پیسہ دونوں ضائع ہوئے۔ انہوں نے یہ ساری مشقت اس لیے اٹھائی کہ انہیں بتایا گیا ہوگا کہ نام کی تبدیلی ، مذہب کی تبدیلی کے ساتھ لازمی ہے۔ یہ بتانے والے غالباً ان کے شوہر ہوں گے۔ کاش وہ انہیں یہ بھی سمجھاتے کہ ایک مسلمہ کے لباس کی حدود و قیود کیا ہوتی ہیں تو شاید وہ اس پر بھی عمل کرلیتیں۔

یہاں یہ بات بھی میں قارئین کی خدمت میں پیش کرنا چاہوں گا کہ اسلام قبول کرنے پر نام بدلنا دین کا تقاضہ نہیں۔ حضورصلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے ایک صحابی کا نام بھی نہیں بدلا۔ حالانکہ وہ سب غیر مسلم سے مسلم ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے کسی کا نام اگر کبھی بدلا تو صرف اس لیے کہ وہ مشرکانہ تھا یا اس کے معنی درست نہیں تھے۔

حیاتیاتی گھڑی

مجھے یہاں آئے ہوئے ایک ڈیڑھ ہفتے سے زیادہ ہوچکا تھا۔ اس عرصے میں ایک مسئلے نے بڑا تنگ کیا جس کا ذکر بھی کرتا چلوں۔ جو لوگ پاکستان سے امریکا یا کینیڈا آتے ہیں انہیں اس مسئلے کا پہلے دن سے ہی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ مسئلہ نیند کے اوقات میں تبدیلی کا ہے۔ دونوں ملکوں کے وقت میں نو گھنٹے کا فرق ہے جس کی بنا پر نوواردوں کو کینیڈا میں سہ پہر سے ہی شدید نیند آنے لگتی ہے اور ا گر سو جائیں تو نصف شب میں اٹھ کر بیٹھ جاتے ہیں۔ دراصل انسان میں اپنے سونے کی عادت کی بنا پر ایک حیاتیاتی گھڑی سی بن جاتی ہے جو نیند کا وقت ہو جانے پر انسان کا جاگنا اور بیداری کے وقت پر سونا ناممکن بنادیتی ہے۔ اس مسئلے کا ایک ہی حل ہوتا ہے کہ بندہ خود پر جبر کرکے نئی جگہ کے اعتبار سے اپنی عادت کو تبدیل کرے وگرنہ نئے حالات میں خود کو ڈھالنا بڑا مشکل ہوجاتا ہے۔ میرے لیے اس مسئلے کو نماز نے جلد حل کردیا۔ کیونکہ عصر،مغرب اور عشا کی نمازیں پڑھنے کے لیے مجھے نیند سے لڑکر جاگنا پڑتا تھا۔ البتہ چند مہینے بعد جب میرے دوست طارق کینیڈا آئے تو وہ اپنی عادت کافی عرصے تک نہ بدل سکے۔ چنانچہ وہ صبح ہی صبح اٹھ کر بیٹھ جاتے اور بچوں کی تصویریں دیکھنے کے بہانے اپنی اہلیہ کی تصویر دیکھتے اور ٹھنڈی آہیں بھرتے رہتے ۔

(جاری ہے۔ اگلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں)

( ابویحییٰ کی تصنیف ’’جب زندگی شروع ہوگی‘‘ دور جدید میں اردو زبان کی سب زیادہ پڑھی جانے والی کتاب بن چکی ہے۔ کئی ملکی اور غیر ملکی زبانوں میں اس کتاب کے تراجم ہوچکے ہیں۔ابو یحییٰ نے علوم اسلامیہ اور کمپیوٹر سائنس میں فرسٹ کلاس فرسٹ پوزیشن کے ساتھ آنرز اور ماسٹرز کی ڈگریاں حاصل کی ہیں جبکہ ان کا ایم فل سوشل سائنسز میں ہے۔ ابویحییٰ نے درجن سے اوپر مختصر تصانیف اور اصلاحی کتابچے بھی لکھے اور سفر نامے بھی جو اپنی افادیت کے باعث مقبولیت حاصل کرچکے ہیں ۔ پچھلے پندرہ برسوں سے وہ قرآن مجید پر ایک تحقیقی کام کررہے ہیں جس کا مقصد قرآن مجید کے آفاقی پیغام، استدلال، مطالبات کو منظم و مرتب انداز میں پیش کرنا ہے۔ ان سے براہ راست رابطے کے لیے ان کے ای میل abuyahya267@gmail.com پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔

مزید :

کھول آنکھ، زمین دیکھ -