روحانی کرنٹ لگانے والا وہ نانگا بابا جسے ایک پروفیسر نے ایسا کرنٹ لگایا کہ اس نے اپنا راز اگل دیا،کیا کہا ؟یہ سن کر آپ کے ہوش اڑجائیں گے

روحانی کرنٹ لگانے والا وہ نانگا بابا جسے ایک پروفیسر نے ایسا کرنٹ لگایا کہ اس ...
روحانی کرنٹ لگانے والا وہ نانگا بابا جسے ایک پروفیسر نے ایسا کرنٹ لگایا کہ اس نے اپنا راز اگل دیا،کیا کہا ؟یہ سن کر آپ کے ہوش اڑجائیں گے

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

تحریر: پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

ایک بار میری بابا بلھے شاہ کے دربار پر نانگا باباسے ملاقات ہوگئی ۔وہ سرعام بھنگ اور بوٹی پلا رہا تھا۔وہ بھی ان نشہ بازوں کی نسل میں سے تھا جو ’’مصنوعی معرفت‘‘کے لئے اپنے دماغوں کو نشہ سے سن کردیتے ہیں۔ میں نے دربار پر موجود اپنے میزبان سے کہا ’’یہاں تو اس بابے سے ملاقات مشکل ہے کوئی طریقہ نکالو ‘‘

وہ بولا’’ہاں واقعی یہاں ملاقات مشکل ہے، آپ ایسا کریں کل صبح 11 بجے آ جائیں ۔میں آپ کو اس گھر لے جاؤں گا جہاں پہ ٹھہرا ہوا ہے، وہاں رش نہیں ہوتا۔ آپ تسلی سے وہاں جا کر مل لینا‘‘

مجھے اس کی یہ تجویز پسند آئی اور میں صبح اس کی بتائی ہوئی مقررہ جگہ پر پہنچ گیا۔ متولی وہاں پر موجود تھا۔ متولی کی بابا جی کے مرید سے پہلے ہی بات ہو چکی تھی کہ بابا جی سے ملنے کیلئے مری سے ایک بندہ آیا ہوا ہے جو بابا جی سے ملنا چاہتا ہے۔ لہٰذا ہمیں زیادہ دقت نہیں ہوئی ۔ہم صحن سے گزر کر کمرے میں داخل ہوئے تو بابا جی اپنے چند مریدوں کے ساتھ بیٹھے تھے۔ میں نے اور میرے دوست نے مصنوعی عقیدت کا اظہار کیا اور بابا جی کے پاس بیٹھ گئے۔ یہاں پر بابا جی کچھ نارمل لگ رہے تھے۔ شاید ابھی بھنگ نہیں پی تھی، ابھی مرید تیار کر رہے تھے اور دو مرید بابا جی کو دبا رہے تھے۔

سلام دعا کے بعد میں نے بابا جی سے درخواست کی ’’بابا جی! میں عرصہ دراز سے بے شمار بابوں، ملنگوں، فقیروں سے مل چکا ہوں۔ بے شمار لوگوں کی خدمت بھی کی لیکن آج تک کوئی روشنی یا نظارہ نہیں ہوا۔ میرے باطن کا اندھیرا ویسے کا ویسا ہے، خدا نے آپ کو نور اور روشنی سے نوازا ہے کچھ لنگر مجھے بھی دیں۔ میرے من کی کالک بھی ختم کریں‘‘

نانگا بابا میری بات سن کر سیدھا ہو کر بیٹھ گیا اور بولا’’ کرنٹ وہ دے گا جس کے پاس ہو گا ۔جو خود خالی ہو گا وہ کسی کو کیا دے گا‘‘ بابا جی نے اپنی ’’کرامتیں‘‘ بتانی شروع کر دیں۔ اپنے مجاہدے اور ریاضتیں، میں بابا جی کی خرافات اور بکواس آرام سے سنتا رہا۔

جب بابا جی نے اپنی بکواس بند کی تو میں بولا ’’بابا جی! اب ہم کو بھی کچھ عنایت کردیں‘‘

بابا جی بولے’’ لاؤ پیالہ اور اس کو پلاؤ‘‘

مرید پیالہ بھرلایا۔’’ لوجوانو، جنت کی سیر کیلئے تیار ہو جاؤ۔ اب تم آسمانوں کی سیر کرو گے۔ آج تم ایک مرد قلندر کے پاس آئے ہو ۔آج بابا جی کے ہاتھ سے جام پیو اور زمینی اور آسمانی سیر کرو‘‘

میں نے ڈرتے ڈرتے کہا’’ بابا جی! یہ نشہ ہے اور ہمارے پیارے نبی پاکﷺ نے ہر قسم کے نشے سے منع کیا ہے۔ یہ حرام ہے‘‘

بابا جی کو میرے اس جواب کی بالکل توقع نہیں تھی، انہیں لگا میں نے ان کو گالی دی ہے۔ گستاخئ عظیم کر دی ہے۔ ان کو حرام زادہ کہہ دیا ہے۔ بولے ’’مولوی بکواس کرتے ہیں۔ یہ جنت کا پودا ہے ۔یہ جنتی نشہ ہے اور اسی میں فقیری رنگ ہے‘‘

اس کی بکواس سن کر میں بھی غصے میں آ گیا’’ بابا اگر سارا نشہ اس پیالے میں ہے تو آ پ نے کیا کیا؟ آپ کا کیاکمال ہے؟ آپ کا روحانی تصرف کدھر گیا۔ آپ کا روحانی لنگر آپ کی نظر اور توجہ کدھر ہے؟ یہ نشہ سرور تو شراب اور چرس میں بھی ہے تو بندہ وہ پی لے اور جنت کی سیر کر لے‘‘ میرے جوابی حملہ کے لئے وہ بالکل تیار نہیں تھا۔ بولا’’ یہ میرے مرشد کا روحانی لنگر ہے‘‘

میں نے کہا ’’آپ کے مرشد کا نہیں یہ بھنگ کا نشہ ہے۔ شرم کرو حرام پلا کر روحانیت کا دعویٰ کرتے ہو۔ اگر تمہارے اندر کچھ ہے تو وہ دکھاؤ‘‘ مریدوں کو میری گستاخی بالکل اچھی نہیں لگی۔ وہ میرے ساتھ بدتمیزی کرنے لگے۔ میں نے جھوٹ بولا ’’ ادھرپولیس کاایس پی میرا کزن ہے۔ اگر آپ لوگوں نے میرے ساتھ کوئی زیادتی کی تو ابھی پولیس بلا لوں گا‘‘ میری بات سن کر باباڈرگیا۔اور اپنے مریدوں سے کہا ’’تم باہر جاؤ‘‘ مریدوں کے جانے کے بعد مجھ سے مخاطب ہوا’’ میرے پاس کچھ نہیں ہے۔ جاؤ کسی نیک بندے کے پاس اگر کوئی مل جائے تو مجھے بھی بتانا۔ کیوں مجھے ذلیل کر رہے ہو، جاؤ اور کسی نیک بندے کی صحبت اختیار کرو۔ اورمجھے معاف کرو میرا دھندہ خراب نہ کرو‘‘ لہٰذا میں نانگے بابے کو چھوڑ کر واپس مری آ گیا۔وہ ایک ایسا فراڈ بابا تھاجو بھنگ کے پیالے میں روحانیت کا فیض بانٹ رہا تھا۔ نہ جانے ابھی کتنے ایسے بابے یہاں وہاں موجود ہیں مگر لوگ کسی ’’کرامت ‘‘ اور ’’کرنٹ‘‘ کے لئے ان کے سامنے پڑے رہتے ہیں۔

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والی تحریریں لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : مافوق الفطرت