یورپ میں پاکستانیوں کی ناکام شادیاں

یورپ میں پاکستانیوں کی ناکام شادیاں
یورپ میں پاکستانیوں کی ناکام شادیاں

  

لگ بھگ ساڑھے تین ملین پاکستانی یو کے، یورپ، امریکہ، کینیڈا، نیوزی لینڈ، آسٹریلیا، تھائی لینڈ اور جاپان میں آباد ہیں۔ بیشتر یورپین ممالک میں اب تارکین وطن پاکستانیوں کی تیسری نسل جوان ہو چکی ہے۔ ان کو جہاں اور کئی مسائل کا سامنا ہے،۔ وہیں اپنے بچوں کی شادیوں کے حوالے سے بہت مسائل درپیش ہیں۔ جہاں یہ لوگ اپنے بچوں کو اپنی زبان اور اپنی تہذیب سے روشناس کروانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ وہیں اپنے بچوں کی شادیاں مسلمانوں بالخصوص پاکستانی مسلمانوں میں کرنا چاہتے ہیں۔

اور ان میں زیادہ تر رشتے والدین طے کرتے ہیں۔ جنہیں عرف عام میں ارینج میرج کا نام دیا جاتا ہے۔ چونکہ پاکستانی تارکین وطن کی پہلی کھیپ میں اکثریت ان لوگوں پر مشتمل تھی جو نیم خواندہ متوسط یا غریب طبقے سے تعلق رکھتے تھے اور اپنے ملک میں بے روزگاری کے سبب محنت مزدوری کے لئے تارک وطن ہوئے اور یورپ کے مختلف ممالک میں جا بسے۔ اور پھر آہستہ آہستہ اپنے بیوی بچوں کو بھی بلوا لیا۔ ہمارے یہ تارکین وطن بھائی اپنے ساتھ اپنا آبائی رسم و رواج اور سوچ بھی لائے اور اپنا رہن سہن بھی نہیں بدلا۔

جب بچوں کی شادیوں کا مرحلہ آیا تو ہر کسی کی یہی خواہش تھی کہ وہ اپنے بچوں کی شادیاں اپنے عزیز و اقارب میں کریں، تاکہ اس طرح وہ اپنے خاندان کے بچوں کو بھی یورپ میں آباد کر سکیں۔ دوسرے لفظوں میں یہ اپنے عزیز و اقارب کی مدد تھی۔

یہ سلسلہ اتنا طویل ہوا کہ یورپ میں اس کو کزن میرج کا نام دیکر اسے ایک معاشرتی مسئلہ بنا کر پیش کیا جانے لگا اور آئے روز اخباروں میں یہ خبریں آنے لگیں کہ پاکستانی اپنے رشتہ داروں کو یورپ لانے کے لئے بچوں کی زبردستی کی شادیاں کرتے ہیں۔ اب ارینج میرج کو افورسڈ میرج کا نام دیا جانے لگا۔

یورپ میں اس مسئلہ کی سنگینی کا اظہار اس وقت ہوا جب کئی پاکستانی لڑکیوں نے یہ شکایت کی کہ ان کے والدین ان کی مرضی کے خلاف شادی ان پر مسلط کر رہے ہیں۔اور اس کی وجہ صرف اپنے کسی بھانجے، بھتیجے کو خوشحال کرنے کے لئے یورپ لانا ہے۔ اب ان شادیوں کی ناکامی کی بھی کئی وجوہات تھیں اور اب بھی یہ سلسلہ کسی حد تک جاری ہے۔ پہلی وجہ سوچ اور تہذیب کا بہت بڑا فرق ہے۔

ایک بچی جو یورپ میں پیدا یا جوان ہوتی ہے اور مغربی معاشرے کے ساتھ چلتی ہے اور مغربی تعلیمی اداروں سے تعلیم حاصل کرتی ہے اس کی سوچ اور پاکستان کے کسی دیہات میں پرورش پانے والے خواندہ یا نیم خواندہ نوجوان کی سوچ میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے۔ پاکستان سے یورپ پہنچنے والے نوجوان اپنے ساتھ اپنے خوابوں کی گٹھڑی بھی لاتے ہیں اور یورپ میں قدم رکھتے ہی ان کی تعبیر کے لئے ہاتھ پاوں مارتے ہیں۔

ان پر رومانس اور بیوی کے جذبات سے زیادہ اپنے خوابوں کی تعبیر کا جن سوار ہوتا ہے۔ وہ پیسے کما کر اپنے آبائی وطن میں اپنے عزیز و اقارب کی مدد کرنا، اپنا سماجی اسٹیٹس بہتر کرنا اور اپنے بہن بھائیوں کو بھی یورپ میں سیٹ کرنا چاہتے ہیں۔

دوسری طرف وہ اپنی شریک حیات کو اپنی مرضی کے طابع زندگی گزارنے پر مجبور کرتے ہیں۔ یعنی وہ ان کی مرضی کا لباس زیب تن کرے، ان کی خدمت کرے، پاکستان میں موجود ان کے رشتہ داروں پر واری جائے۔ اور خود وہ جو بھی کریں بیوی اس میں مداخلت نہ کرے۔

وہ خود تو یورپ کے ماحول سے بھی فیض یاب ہونا چاہتے ہیں مگر اپنی بیوی کو باندی بنا کر رکھنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ دوسری طرف لڑکیاں یہ سوچتی ہیں۔ کہ یہ صاحب ہماری وجہ سے یورپ پہنچے ہیں۔ ہم ان کی ہر طرح سے مدد کر رہے ہیں۔ ان کو اٹھنے بیٹھنے کی تمیز سکھا رہے ہیں۔ ان کا ویزہ پکا کروا رہے ہیں۔اور یہ اس پر ممنون ہونے کی بجائے ہم ہی پر پابندیاں لگا رہا ہے۔

بس یہیں سے اعلان جنگ ہوتا ہے، لیکن اسی کشمکش میں ان کے بچے بھی ہو جاتے ہیں۔ پھر علیحدگی کی صورت میں بچوں کی تقسیم کا جھگڑا بھی ہوتا ہے جس کا فیصلہ عدالت کرتی ہے۔ اب کچھ عرصہ سے یورپ میں کزن میرج اور ارینج میرج کو روکنے کے لئے کئی نئے قوانین بھی متعارف کروائے گئے ہیں۔ اور ایسی شادیوں کی ناکامی کے چرچے بھی زبان زد عام ہیں۔

اس ناکامی میں ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ویزہ پکا ہونے تک تو لڑکے اپنی بیوی کے ساتھ جیسے تیسے گزارہ کر ہی لیتے ہیں، لیکن ویزہ پکا ہوتے ہی ان کے تیور بدل جاتے ہیں۔ اور وہ آزاد پنچھی کی طرح اپنی اڑان بھرنے لگتے ہیں، جس کی وجہ سے اب یورپین پاکستانی لڑکیاں لڑکے پاکستان سے اپنا جیون ساتھی ڈھونڈنے کی بجائے یورپ ہی سے تلاش کرتے ہیں اور زیادہ تر اپنی مرضی سے شادی کرتے ہیں۔

اس میں بھی مشکل یہ ہے کہ اپنی پسند اور اپنے جوڑ کا رشتہ آسانی سے نہیں ملتا ہے اور اس کی تلاش کرتے کرتے کئی لڑکیوں کے سروں میں چاندی آ جاتی ہے۔ اب یورپ میں لوگوں کی اکثریت ذات پات سے نکل رہی ہے ان کی خواہش بس اتنی ہوتی ہے کہ ہمارے بچے مسلمانوں میں شادی کریں۔

افسوس اس بات کا ہے کہ تارکین وطن پاکستانیوں نے اپنے اس سماجی مسلے کو حل کرنے کے لئے کوئی مشترکہ کوشش نہیں کی ہے۔ یوں تو یورپی ممالک میں پاکستانیوں کی کئی سماجی اور سیاسی تنظیمیں ہیں، لیکن کسی تنظیم نے اس مسلے کو سنجیدگی سے نہیں لیا ہے۔

اگر کوئی تنظیم ایسا سکول یا ادارہ بنا لے جس میں پاکستان سے جانے والے نوجوانوں کی ابتدائی تربیت ہو جائے اور یورپ سے پاکستان میں شادی کرنے والی لڑکیوں کو بھی لیکچر دے دیا جائے کہ کس طرح دو تہذیبوں کی خلیج کو پاٹاجا سکتا ہے۔ تو ہم اس سماجی مسلے پر قابو پانے میں کامیاب ہو سکتے تھے۔

اور اپنے نوجوانوں کو اس الزام سے بچا سکتے تھے کہ یہ یورپ میں شادی صرف ویزہ حاصل کرنے کے لئے ہی کرتے ہیں۔ اور ویزہ ملتے ہی علیحدگی اختیار کر لیتے ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -