دو پاکستانی نظریہ

دو پاکستانی نظریہ
دو پاکستانی نظریہ

  

اعتبار ایک چھوٹا سے لفظ لیکن ثابت کرنے کو ایک عمر چاہیئے 150 ہر روز تبدیلی حکومت میں ہمارا اعتبار اور آپ سے اعتماد اٹھ رہا ہے۔سمجھوتوں پہ آئی تبدیلی ہر وہ خواب لوٹ رہی ہے جس کو دکھا کر ہمیں شیشے میں اتارا گیا تھا۔ مجھے شرم آتی ہے یہ کہتے ہوئے کہ اس تبدیلی کا علم اٹھائے میں نے لوگوں کوجہالت کے طعنے دیے 150ہاں میرا سر جھک رہا ہے دکھ سے بھی اور اس تکلیف سے بھی کہ جس میں میرے اندر کی ٹوٹ پھوٹ مجھے کل کی تباہی کی نوید سنا رہی ہے۔ میں بڑے فخر سے کہتا تھا کہ مجھے وزیرصحت محترمہ پروفیسر یاسمین راشد کا شاگرد ہونے پہ ناز ہے 150 ہمیں سچائی اور ایمانداری کادرس دینے والی اس ہستی کو جب میں بے بس پاتا ہوں تو مجھے اس معاشرے کا بھیانک چہرہ ہر عزت اور قدر کو نوچتا دکھائی دیتا ہے۔ ریاستِ مدینہ کہنے والوں کے چہروں سے اترتا پردہ مجھے ایک بار پھر اس اعتماد کو لوٹتا دکھائی دیتا ہے جس کے لئے ہم نے سالوں محنت کی۔ کاش کوئی میرے وزیراعظم صاحب کو بتا دے کہ وہی وزیراعظم ہیں 150 کاش آج بھی ملک کی خاتونِ اول انہیں یہ یقین دلانے میں کامیاب ہو جائیں کہ وہی اس ریاست کے والی ہیں۔

دو قومی نظریے کے بعد دو پاکستانی نظریہ جس تیزی سے فروغ پا رہا ہے وہ کل دلوں میں سجے بت گرا دے گا 150 آپ نے جس درجہ اول اور درجہ دوم کے پاکستانیوں کی جماعت بندی کی ہے وہ خان صاحب کے وقار کی نفی کر رہی ہے جسے ہم بچپن سے ہیرو مانتے آئے ہیں۔ آپ کے ہر اس قدم پہ جو ہمارے دل کو چیرتا ہے ہم اس پہ بڑے دھوم سے سوگ منا لیتے ہیں۔ پنجاب کے وزیرِ قانون راجہ بشارت صاحب کا ڈاکٹر طارق نیازی صاحب کو حنیف عباسی کی بیٹی کے لئے فون اور ان کی دھمکی کہ آپ اس سیٹ پہ اب نہیں رہیں گے نئے پاکستان کی بنیادوں میں کیا وہ خون ہے کہ جس میں آپ کی طرف سے ڈاکٹر طارق نیازی کے بارے میں توصیفی جملے ہماری ہمت بندھا گئے تھے۔ لیکن آج جب ان کو ان کے عہدے سے ہٹائے جانے کاحکومتی پروانہ دیکھتا ہوں تو اس دھوکے کا احساس ہوتا ہے جو ہمیں نظریاتی بنا کے آپ کے غیر نظریاتی لوگ ہمیں دے رہے ہیں 150 آپ کے لئے جیتنے والے گھوڑے ہماری ہار لکھ رہے ہیں۔ سچ کہتے ہیں گھاٹ گھاٹ کا پانی پینے والے کب نظریاتی ہوتے ہیں۔ ہم کچھ دن سے پنجاب اسمبلی میں تحریک استحقاق اور اس کے نتیجے میں اپنی پروفیسر صاحبہ پہ دباؤ کی خبریں تو سن رہے تھے لیکن ہمیں اعتماد تھا کس جس میڈم کو ہم جانتے ہیں وہ نہیں جھکیں گی لیکن آپ تو ٹوٹ گئیں۔ مجھے تو اس نظریے میں یہی نظر آیا ہے کہ "وچوں وچوں کھائی جاؤ اوتوں نعرے لائی جاؤ" ۔

یہی وہ نصب العین ہے جہاں دشمنیاں سیاسی اور دوستیاں ازلی ہوتی ہیں۔ درجہ اول میں موجود لوگ حاکم اور درجہ دوم کے محکوم اگر حکم نہ مانیں تو کس طرح لٹکائے جاتے ہیں اس کی عملی تصویر ہمارے سامنے ہیں۔ یہ اس نظریے اور تعلیم کی موت ہے جو ہمیں پڑھایا جاتا تھا کہ نیا سورج ، نئے پاکستان میں سب کو ایک معیار پہ پرکھے گا 150 راجہ بشارت صاحب کا ابھی ساہیوال سانحے پہ قوم کو دیا گیا لیکچر ہضم نہ ہو اتھا کہ ایک اور کارنامہ ہمارے سامنے ہے۔ ہاں کیڑے مکوڑے ہی تو ہیں ہم جب چاہا مسل دیا اور آگے بڑھ گئے۔ ڈاکٹر طارق نیازی صاحب سے ظلم کے اس قدم پہ کیا کوئی ان سے باز پرس کرے گا یا ان سے استعفیٰ لے گا یہ نہیں ہوگا صاحب 150 میری گزارش ہے کہ آپ استعفیٰ دے کر اس تابوت میں پہلا کیل ضرور ٹھونک جائیں جو اس نظام کی تباہی لکھ رہا ہے کہ جس میں فاطمہ اپنی ہے۔احتساب والے کبھی سانحہ ماڈل ٹاؤن اور کبھی ساہیوال کے شہداء کے خون کا حساب کرکے دکانداری چمکا رہے ہیں لیکن کروڑوں کے ارمانوں کے خون کا حساب کون کس سے لے گا۔ کہتے ہیں کہ تحریک انصاف ملک کی سب سے بڑی جماعت ہے۔ لیکن میں پوچھتا ہوں کہ آپ کو ووٹ تو اس لوٹ مار اور ظلم کرنے کے لئے نہیں دیا گیا تھا جس دلدل میں آپ پھنستے جا رہے ہیں خدارا اس سے نکل آئیے 150 یہ قوم دوبارہ بھی آپ کو مینڈیٹ دے سکتی ہیں لیکن ایسے مارے گئے شب خون آپ کو کہیں کا نہیں رہنے دیں گے۔ وہ فون کال سوشل میڈیا پہ سب نے سنی تھی کہ جس میں نئے پاکستان کا طارق نیازی نہایت ادب اور اعتماد کے ساتھ بات کر رہا تھا لیکن رعونت کے داعی کی دھمکی سارے پاکستان نے سنی تھی۔ جہاں تک ڈاکٹر صاحب کے مس کنڈکٹ کی بات ہے تو وہ بھی سب کے سامنے آشکار ہے 150 ماڈل ٹاؤن سانحے میں درجہ اول کے پاکستانیوں نے درجہ دوم والوں پہ الزام لگایا تھا کہ یہ لاشیں خود انہوں نے گرائی ہیں۔ ساہیوال واقعے میں اسلحہ اور خود کش جیکٹ بھی تو مقتولین پہ ڈال دی گئی تھی۔ آج کہتے ہیں کہ ذیشان کے معاملے میں ابھی اور تفتیش کی ضرورت ہے تو پھر کس کے حکم پہ مزید تفتیش کیے بغیر اسے گولیاں ماریں گئیں۔ نہیں صاحب الزام بھی خود ہی لگاؤ گے اور سزا بھی خود ہی دو گے یہ نہیں چلے گا۔ پنجاب کی گورنس سب کے سامنے ایک ناکامی ہے 150 کہتے ہیں کہ اپنے ماتحت سے اگر صاحب کا م نہ لے سکے تو اس کا ذمہ داروہ صاحب اور اس کی نالائقی ہے۔ روز روز کی مذمت مجھے تو یہ حقیقت اور آپ کی بے بسی دکھا رہی ہے جس میں آپ کہتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔

مجھ سے قاتل کا ٹھکانہ نہیں ڈھونڈا جاتا

ہم بڑی دھوم سے بس سوگ منا لیتے ہیں

صاحب کچھ کیجیئے اس سے پہلے کہ آپ کا نیا پاکستان دھڑام سے نیچے آ گرے۔

۔

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید : بلاگ