اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 126

اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط ...
اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 126

  

میں بھی اس مہم میں اس کے ساتھ تھا۔ دریائے گنگا کو عبور کرنے میں دو روز لگے۔ تیسرے روز مسلمانوں کا لشکر کیستر کے علاقے میں پہنچ گیا۔ بلبن نے اس شہر میں داخل ہوتے ہی قتل عام کا حکم دید یا۔ لشکریوں نے بادشاہی حکم کی تعمیل میں قتل عام کا بزار گرم کردیا اور عورتوں اور بچوں کے سوا کسی کو نہ چھوڑا۔ بلبن نے باغیوں کو کچھ اس طرح سے موت کی نیند سلایا کہ پھر جلال الدین خلجی کے زمانے تک سنبل او رامروہہ کے علاقوں میں کسی سرکش او رباغی کا نام سنائی نہ دیا۔

اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 125 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں۔

بلبن کے عہد میں یہ دستور تھا کہ جب بادشاہ سفر سے واپس لوٹتا تو دہلی کے تمام امراء اور ارکان سلطنت دو تین منزل پیشوائی کے لئے جاتے اور بادشاہ کو اپنے ساتھ لے کر شہرمیں داخل ہوتے۔ اس موقع پر شہر کو بڑے سلیقے سے سجایا جاتا اور بادشاہ کے صحیح و سلامت لوٹنے کی خوشی میں عیش و عشرت کی محفلیں منعقد کی جاتیں۔ جو رقوم بادشاہ پر سے صدقے کی جاتیں ان کو یک جاکرکے تمام اسلامی ممالک میں بھیج دیا جاتا کہ فقراء اور محتاجوں وغیرہ کو تقسیم کردی جائیں۔

اسی زمانے میں مجھے غیاچ الدین بلن کے ساتھ شہر لاہو رکے سفر کا بھی اتفاق ہوا۔ شمسی حکمرانوں کے عہد میں مغلوں کی۔۔۔ شورش کی وجہ سے شہر لاہور کا حصار جگہ جگہ سے شکست ہوگیا تھا۔ بلبن نے حصار شہر کو دوبارہ تعمیر کروایا شہر کا نواح بھی مغلوں کی لوٹ مار کی وجہ سے ویران ہوگیا تھا۔ بلبن نے اس نواح کو بھی آباد کروایا اور دہلی واپس آگیا۔

لاہور سے واپسی کے بعد ایک روز بلبن کو دربار میں اس کے وزیر امور مملکت نے بتایا کہ فوج کے بہت سے سپاہی ضعیف العمری کی وجہ سے جنگ و جلد کے کام کے نہیں رہے، اس وجہ سے یہ سپاہی اپنے سرداروں کو تھوڑی بہت رقم دے کر اپنے گھر بیٹھے رہتے ہیں اور جنگ میں شرکت نہیں کرتے۔ بلبن نے یہ سنتے ہی حکم دیا۔

فوج سے ان بوڑھے سپاہیوں کو فوراً علیحدہ کردیا جائے۔ ان کی خدمت کے صلے میں انہیں تیس تنگر رقم دی جائے۔ زائد رقم ان سے وصول کرلی جائے۔

بلبن کے اس حکم کی وجہ سے لشکر میں ایک تہلکہ مچ گیا۔ ان معزول لشکریوں میں سے چند معتبر اشخاص بہت سے گراں بہا تحفے لے کر ملک فخر الدین کوتوال کے پاس گئے اور اس سے رو رو کر اپنا حال زار بیان کیا اور کہا ہمیں کیا خبر تھی کہ اس ضعیف العمری میں ہم پر ایسی مصیبت نازل ہوگی۔ اگر ہمیں یہ معلوم ہوتا تو جوانی میں کوئی ایسا کام کرتے جو بڑھاپے میں ہمارے کام آتا۔ فخر الدین کوتوال نے ان کے تحائف قبول کرنے سے انکار کردیا اور کہا ’’اگر تم سے یہ رشوت وصول کرلوں گا تو بادشاہ پر میری سفارش کا کوئی اثر نہیں ہوگا۔‘‘

اس کے بعد کوتوال نے ان لوگوں کو رخصت کردیا اور خود حسب معمول شاہی دربار میں چلا گیا۔ میں نے اس روز کوتوال شہر کو پریشان اور متفکر دیکھا۔ اس بات کو شہنشاہ بلبن نے بھی محسوس کیا اور فخر الدین کو توال سے اس کی پریشان کا سبب پوچھا۔ ’’فخر الدین بڑا تجربہ کار امیر تھا اس نے کہا

’’عالم پناہ! مجھے یہ معلوم ہوا ہے کہ دربار شاہی میں ضعیف العمر لوگوں کی گزارشات پر کوئی توجہ نہیں دی جاتی۔ یہ دیکھ کر مجھے تشویش ہے کہ اگر قیامت کے روز رحمت الہٰی نے بوڑھوں کو اپنے کرم سے محروم کردیا تو میرا کیا حال ہوگا۔‘‘

یہ سن کر بلبن کی آنکھیں آبدیدہ ہوگئیں۔ وہ فخر الدین کوتوال کی اصل بات کو جان گیا تھا۔ اس نے اسی وقت حکم دیا کہ تمام معزول شدہ لشکریوں کو ان کی پوری پوری تنخواہ دی جائے اور اس میں کوئی تبدیلی یا کمی واقع نہ ہو۔

اپنے دوست اور غیاث الدین بلبن کے فرزند ارجمند خان رشید کے محل کے حجلہ خاص کی ایک شام مجھے آج بھی یاد ہے۔ اس شام کا منظر میری آنکھوں کے سامنے ہے۔ دیواروں پر زر بفت کے پردے لٹکے ہوئے تھے، عود و عنبر کے نجور سلگ رہے تھے، سونے چاندی کے شمع دانوں میں شمعیں روشن تھیں، فضا روشن اور معطر تھی شہزادہ خان رشید مجھ سے امیر خسروؒ کے ایک ترانے کے بارے میں بات کررہا تھا۔ جو انہوں نے حال ہی میں ایجادکیا تھا کہ مصاحب خاص نے بادشاہ کے آنے کی اطلاع دی۔ہم ایک دم اٹھے اور بادشاہ کے استقبال کو گئے۔

غیاث الدین بلبن اپنے زرق برق شب کے لباس میں ملبوس زرنگار تلوار لگائے بڑے شان سے چلا آرہا تھا۔ محافظ محل اس کے جلو میں تھے وہ اپنے فرزند ارجمند کے حجلہ خاص میں آگیا۔ اس نے میری طرف دیکھ کر تبسم کیا اور کہا

’’امیر عبداللہ! اچھا ہوا کہ تم بھی اس جگہ موجود ہو میں جانتا ہوں کہ تم میرے بیٹے کے خیر خواہ ہو۔ آج میں اپنے شہزادے بیٹے کی خیر خواہی کے لئے ہی اس سے چند باتیں کرنے آیا ہوں۔

بادشاہ مسجد پر بیٹھ گیا۔ ہم اس کے حضور ترکستانی قالین کے فرش پر ادب سے بیٹھ گئے بلبن نے ایک شفقت بھری نگاہ اپنے بیٹے پر ڈالی اور کہا

’’میرے بیٹے! میں تم سے کچھ باتیں کہنا چاہتا ہوں۔ میری باتوں کو دل کے دروازے کھول کر سننا۔ میں اب بوڑھا ہوگیا ہوں زندگی اور موت اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے لیکن میں جانتا ہوں کہ مجھے ایک روز یہ سلطنت تمہیں سونپ کر خدا کے حضور جانا ہے۔ اس لئے تمہیں کچھ ایسی نصیحتیں کرنا چاہتا ہوں جو تمہارے کام آئیں گی۔‘‘

یاد رکھو رعایا سے خراج وصول کرتے ہوئے میانہ روی اختیار کرنا۔ نہ اس قدر کم رقم وصول کرنا کہ باغیوں اور سرکشوں کو کھل کھیلنے کا موقع ملے اور نہ اتنی زیادہ رقم وصول کرنا کہ رعایا تباہ حال اور پریشان ہوجائے۔ملازموں کو تنخواہ اتنی ہی مقرر کرنا جتنی ان کی سال بھر کی ضروریات کے لئے کافی ہو۔ انہیں ضروریات سے کم تنخواہ نہ دینا کہ وہ غربت و تنگدستی کا شکار ہوجائیں۔ملک کی مہمات کو اپنے خیر خواہ، راست باز، پاکیزہ کردار مشیروں کے مشورے کے بغیر سر نہ کرنا۔سلطنت کے احکام جاری کرتے ہوئے اپنی نفسانی خواہشوں کو پیش نظر نہ رکھنا۔ حق کو اپنے نفس پر قربان نہ کرنا۔

اپنے خدمت گاروں اور غلاموں سے بے اتفاقی مت برتنا، ان کے حالات سے پوری طرح باخبر رہنا۔ ان کی ضروریات کا پورا پورا خیال رکھنا۔ جو کوئی تمہیں ان کے خلاف ترغیب دے اس کی بات پر اس وقت تک یقین نہ کرنا جب تک کہ تم خود خفیہ طور پر معاملے کی چھان بین نہ کرلو۔

ہمیشہ اس شخص کی حمایت کرنا جس نے دنیا سے منہ موڑ کر خدا سے لو لگارکھی ہے اور خدا کی ذلت پر ہی بھروسہ کیا ہوا ہے۔

اس نصیحت کے بعد بادشاہ عازم دہلی ہوا۔ اس وقت میں خان رشید کے ساتھ ملتان میں مقیم تھا۔ اس کے بعد ہمیں خبر ملی کہ لکھنوکے حاکم نے بغاوت کردی ہے او ربادشاہ بغاوت کو فرو کرنے کے لئے لکھنو روانہ ہوگیا ہے۔(جاری ہے)

اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 127 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /اہرام مصرسے فرار