وہ دھات جس نے کرہ ارض سے ڈائنو سارز کاخاتمہ کیا اس کی مدد سے سائنسدانوں نے کینسر کا علاج دریافت کرلیا

وہ دھات جس نے کرہ ارض سے ڈائنو سارز کاخاتمہ کیا اس کی مدد سے سائنسدانوں نے ...
وہ دھات جس نے کرہ ارض سے ڈائنو سارز کاخاتمہ کیا اس کی مدد سے سائنسدانوں نے کینسر کا علاج دریافت کرلیا

  

لندن (ڈیلی پاکستان آن لائن) سائنسدانوں نے اس دھات کے ذریعے کینسر کا علاج ڈھونڈنے کا دعویٰ کیا ہے جس کی وجہ سے کرہ ارض سے ڈائنو سارز سمیت 70 فیصد زندگی کا خاتمہ ہوگیا تھا۔

دنیا کی سب سے نایاب دھات اریڈیم کے ذریعے سائنسدانوں نے کینسر کا علاج ڈھونڈ نکالنے کا دعویٰ کیا ہے۔ یہ دھات لگ بھگ 6 کروڑ 60 لاکھ سال قبل خلا سے زمین میں آئی تھی۔ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ اریڈیم نامی دھات گلف آف میکسیکو میں اس چٹان کے ساتھ آئی تھی جو سات میل کے دائرے میں پھیلی ہوئی تھی۔ اس دھات کے باعث نہ صرف زمین ڈائنو سارز کا کرہ ارض سے نام و نشان مٹ گیا بلکہ یہاں موجود 70 فیصد زندگی اس دھات نے ختم کردی تھی۔

اریڈیم کو دنیا کی نایاب ترین دھات سمجھا جاتا ہے، اسے ایلین دھات بھی کہا جاتا ہے۔ سائنسدانوں نے ایک حالیہ تحقیق میں پتا لگایا ہے کہ جب اریڈیم پر لیزر بیم ماری جاتی ہے تو اس کے نتیجے میں آکسیجن کی انتہائی زہریلی قسم پیدا ہوتی ہے جس سے کینسر کے سیلز کا خاتمہ ہوجاتا ہے۔ اس نئی ایجاد کے باعث کینسر کی انتہائی موذی اقسام کا خاتمہ ممکن ہوسکے گا۔سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اریڈیم پر لیزر پڑنے سے پیدا ہونے والی زہریلی آکسیجن کینسر سیلز کے نیوکلیس کو پھاڑ دیتی ہے۔

برطانیہ کی ریسرچ یونیورسٹی واروک کے پروفیسر پیٹر سیڈلر کا کہنا ہے کہ زہریلی آکسیجن کینسر کے نیوکلیس میں اریڈیم کو داخل کردیتی ہے ، جب اریڈیم کو روشنی دی جاتی ہے تو وہ ایکٹو ہوجاتا ہے اور چن چن کر کینسر کے سیلز کا خاتمہ کردیتا ہے۔اگر یہ نئی تحقیق کامیاب طریقے سے ڈاکٹرز کو منتقل کردی گئی تو اس سے ناقابل علاج کینسرز کا بھی علاج ممکن ہوسکے گا، اس ایجاد سے کیموتھراپی کے سائڈ افیکٹس پر بھی قابو پایا جاسکتا ہے۔

سائنسدان کینسر کے اس علاج کے ابتدائی مرحلے میں ہیں ، اس پر مزید تحقیق اور تجربات ہونا باقی ہے۔ محققین نے واضح کیا ہے کہ یہ نئی ایجاد کینسر کے مریضوں کیلئے تو سودمند ہے لیکن صحت مند افراد کیلئے تباہ کن بھی ثابت ہوسکتی ہے۔

مزید : برطانیہ /تعلیم و صحت