چرس کا ادویات کے لئے استعمال؟

چرس کا ادویات کے لئے استعمال؟

  



وفاقی وزیر امور مملکت شہریار آفریدی کی تجویز پر سخت تنقید کی جا رہی ہے،اس میں انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم کی خواہش ہے کہ ضبط شدہ چرس ضائع کرنے کی بجائے اسے ادویات میں استعمال کیا جائے۔شہریار آفریدی کی یہ تقریر وائرل ہوئی ہے،اسے ہی مزاح کا نشانہ بھی بنایاجا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے ممکن ہے کہ بین الاقوامی قوانین کے باعث کوئی رکاوٹ ہو،لیکن ہم تیراہ میں فیکٹری لگائیں گے۔ان کے مطابق انسداد منشیات کے ادارے بھی بڑی بڑی کھیپ پکڑتے ہیں اور اسے جلا دیا جاتا ہے۔وزیر موصوف کی اس تجویز پر تنقید یا ان کا مذاق اڑانے کی بجائے اس پر غور کر لینا چاہئے کہ چرس یا کوئی اور نشہ آور شے اگر برائی کے لئے استعمال کی جاتی ہے تو اسے مفید بھی بنایا جا سکتا ہے کہ ہماری ایلو پیتھک ادویات میں افیون اور ایفی ڈرین کا بھی استعمال ہوتا ہے اور اس کے لئے باقاعدہ سرکاری کوٹہ دیا جاتا ہے۔انسداد منشیات کے اداروں کی بہترین کوشش کے باوجود نہ تو پوست کی کاشت رکی اور نہ ہی افیون اور چرس کا استعمال بند ہوا، بلکہ یہ سلسلہ منافع بخش ہے اور منشیات فروخت کرنے والے منافع ہی کی خاطر یہ سب کرتے ہیں، اگر حقیقتاً ان نشہ آور اشیاء سے مفید ادویات بنا کر ان سے صحت یابی کا کام لیا جا سکتا ہے،تو اس تجویز پر بُرا منانے کی کیا ضرورت ہے۔بہتر ہے کہ اس کا استعمال ریگولرائز کر لیا جائے۔اس سے پوست کے کھیتوں سے لے کر ادویات سازی تک نگرانی بھی کی جا سکتی ہے۔البتہ یہ خیال رکھنا ہو گا کہ یہاں تو ایفی ڈرین کے غلط استعمال کے بھی کیسز موجود ہیں،اس لئے افیون پرمٹ اور لائسنس پر دی جا سکتی ہے تو پھر چرس (اگر مفید ہو) کیوں سرکاری بندوبست کے تحت فروخت نہیں کی جا سکتی،پوست پیدا کرنے والوں کو ان کی فصل سے آمدنی ہو تو وہ یقینا نشہ آور چرس فروخت نہیں کریں گے۔اس تجویز پر غور کرنے اور مفید ہونے کی صورت میں عمل میں کوئی حرج نہیں۔

مزید : رائے /اداریہ