کروناوائرس اورحکام کے متضاد بیانات

کروناوائرس اورحکام کے متضاد بیانات
کروناوائرس اورحکام کے متضاد بیانات

  



بیرون ملک مقیم پاکستانی،خواہ وہ مزدور ہوں، اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے طلباء یابزنس مین، ملک کا سرمایہ ہوتے ہیں،جو ملک کو زرِمبادلہ فراہم کر رہے ہوتے ہیں۔پھر اعلیٰ تعلیم کے حصول کا مقصدبھی اپنے ملک کی خدمت ہی ہوتا ہے، مگر چین میں کروناوائرس کی وباء کے دوران وہاں موجود ہمارے سفارتکار،وزارت صحت اور وزارت اوورسیز پاکستانیز اس حوالے سے اپنا فعال کردار ادا کرنے کے معیار پر پورے نہیں اترے اور وہاں موجود پاکستانیوں کے بروقت انخلاء میں اپنی کارکردگی نہیں دکھا سکے، جبکہ بھارت،بنگلہ دیش اور دیگر ممالک نے اپنے ہم وطنوں کو بروقت اور فوری طور پر وہاں سے نکال لیا، جبکہ پاکستان ایسا کرنے میں ناکام رہا…… ووہان جہاں سے اس موذی وائرس نے جنم لیا، وہاں سے محصور طلباء اور ان کے لواحقین جو وہاں قیام پذیر تھے،کی واپسی کے سلسلے میں ہمارے سفارت کاراور حکومتی عہدیدار متضاد بیانات جاری کرتے رہے۔اس حوالے سے چین میں تعینات پاکستانی سفیر نغمانہ ہاشمی اور وزیراعظم کے خصوصی معاون برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کے اخباری بیانات میں تضاد لمحہء فکریہ ہے کہ ووہان سے طلباء کے انخلاء کی ابتدا سے صرف ایک روز قبل ہر دو شخصیات نے جو بیانات جاری کئے ہیں،

ان سے طلباء کے پاکستان میں موجود والدین میں جو شدید تشویش پیدا ہوئی اور ان کو جو پریشانی لاحق ہوئی، اس کا ازالہ اس امر کا متقاضی ہے کہ ہر دوشخصیات اس پر قوم سے معافی مانگیں۔ چین میں پاکستانی سفیر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ پاکستان میں کروناوائرس سے بچاؤ کی سہولتیں موجود نہیں، بہتری اسی میں ہے کہ چین سے طلباء کو نہ نکالا جائے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ کروناوائرس کو چیک کرنے کی ایک ہزار کٹس چین سے پاکستان پہنچائی جا چکی تھیں۔انہوں نے طلباء کی تعداد 800بتائی، حالانکہ چین کے صوبے ہوبے میں 14یونیورسٹیاں ہیں، جن میں 1200سے زائد پاکستانی طلباء زیرِ تعلیم ہیں اور ان طلباء کے ساتھ چین میں مقیم لواحقین کی تعداد بھی 200سے زیادہ ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ چین کے پاکستانی سفارت خانے کے ذمہ داران نے یہ زحمت ہی نہیں کی کہ وہ وہاں موجود پاکستانیوں کی صحیح تعداد سے باخبر رہتے۔

اس سلسلے میں وزارت خارجہ کو نوٹس لینا چاہیے اور سفارت خانے کے ذمہ دار افراد سے بازپرس کی جائے۔اُدھر وزیراعظم کے معاون خصوصی ظفر مرزا نے متعدد بار اپنی پریس کانفرنسوں اور بیانات میں کہا کہ عالمی ادارہئ صحت نے کہا ہے کہ چین میں موجود طلباء اور ان کے عزیز واقارب کو پاکستان واپس نہ لایا جائے،جبکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔یورپی اور دیگر ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے مطابق چین کے متعلقہ حکام نے وہاں محصور پاکستانیوں کی واپسی کے انتظامات شروع کر رکھے تھے، جس کے ثبوت کے طور پر جیسے ہی پاکستان اور چین کے درمیان فضائی سروس بحال ہوئی تو چین نے لگ بھگ 250پاکستانیوں کو وطن واپس جانے کی اجازت دے دی،جو چار مختلف پروازوں کے ذریعے پاکستان پہنچے، جن میں سے دو پروازیں چین سے براہِ راست،ایک پرواز دوحہ قطر سے اسلام آباد پہنچی اور ایک پرواز بیجنگ سے پاکستان پہنچی، جبکہ چین میں پاکستانی سفارت خانے کے کارپردازان اور وزیراعظم کے معاون خصوصی ان سے لاعلم تھے جو ایک المیہ سے کم نہیں۔ وزیراعظم عمران خان کو اس کا نوٹس لینا چاہئے کہ ان کے معاون خصوصی برائے صحت اس اہم اور تشویش ناک صورت حال میں حقائق سے بے خبر کیوں رہے؟جو ان کی کار کردگی پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ عمران خان ملک کو سدھار کے لئے مخلص ہیں اور اس سلسلے میں بھرپور توجہ دے رہے ہیں، مگر ان کی ٹیم میں شامل لوگ ان کی ان کوششوں پر پانی پھیرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کر رہے،جو اصلاحِ احوال کا تقاضا کرتا ہے۔

اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ چین پاکستان کا ایک مخلص اور سچا دوست ہے، جس کا ثبوت اس نے ہر عالمی پلیٹ فارم پر پاکستان کا ساتھ دے کر بہم پہنچایا اور اس مرحلے پر،جبکہ وہ کرونا وائرس کی شکل میں خود ایک کٹھن مسئلے سے دوچار ہے، اس نے چین میں موجود پاکستانیوں کا نہ صرف ہر طرح سے خیال رکھا، بلکہ وہاں سے پاکستانیوں کا انخلاء بھی شروع کر دیا،جبکہ جوابی طور پر حکومت پاکستان نے بھی دوستی کا فرض نبھاتے اور چین سے یکجہتی کا ثبوت دیتے ہوئے کرونا وائرس سے تحفظ کے تین لاکھ ماسکس اور میڈیکل سوٹس،آٹھ سو ہیزمٹ سوٹس (Hazmat Suits)،چھ ہزار آٹھ سو جوڑے دستانے پاکستان سے چین بھجوا دئیے ہیں،جو ایک قابل ِ ستائش امر ہے۔خدا کا شکر ہے کہ پاکستان کے صحت کے اداروں کی طرف سے یہ اعلان کیا گیا ہے کہ وطن عزیز میں کروناوائرس سے متاثر ایک بھی کیس سامنے نہیں آیا۔متعلقہ اداروں کو صرف اس پر ہی اکتفا نہیں کرنا چاہئے،بلکہ ہنگامی بنیادوں پر موثر حفاظتی اقدامات کئے جائیں اور ذرائع ابلاغ کے ذریعے اس مہلک وائرس سے بچاو کی حفاظتی تدابیر سے وسیع پیمانے پرعوامی آگاہی کے لئے تشہیر کی جائے کہ اب تک دنیا کے 27ممالک میں یہ وباء پائی گئی ہے۔

گو کہ تعدادکم ہے، مگر متاثرہ افراد سامنے آئے ہیں، جن میں ہمارے ہمسایہ اور قریبی ممالک بھی شامل ہیں۔ مصدقہ اطلاعات کے مطابق بھارت میں 2، نیپال میں 1،سری لنکا میں 1اور دوبئی میں 5کرونا وائرس کے کیس سامنے آئے ہیں،دریں اثناء ہانگ کانگ کے ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ انہوں نے کرونا وائرس کی ویکسین تیار کر لی ہے، تاہم اس کے نتائج کا جائزہ لینے کے لئے کافی وقت درکار ہے، جو کم ازکم ایک سال کا عرصہ ہو سکتاہے، کیونکہ یہ ویکسین پہلے جانوروں پر آزمائی جائے گی،پھر اس سے برآمد ہونے والے نتائج کے پیش ِ نظر اسے حتمی شکل دی جائے گی۔اُدھر کئی دیگر ممالک میں بھی ایسی ویکسین کی تیاریاں تیزی سے جاری ہیں۔خود چین میں بھی اس پر ہنگامی بنیادوں پر کام جاری ہے اور وہاں کے ماہرین کے مطابق اس کی ویکسین بہت جلد تیار کر لی جائے گی ۔

مزید : رائے /کالم