فلسطین اور کشمیر کی تحاریک کا انجام

فلسطین اور کشمیر کی تحاریک کا انجام
فلسطین اور کشمیر کی تحاریک کا انجام

  



انجینئر گلبدین حکمت یار المعروف حکمت یار 1979میں اشتراکی افواج کے افغانستان پر قبضے کے بعد افغانوں کی تحریک آزادی کا ایک انتہائی معتبر نام ہے۔ سات جماعتی اتحاد ِ اسلامی مجاہدین افغانستان کی حزب اسلامی کے سربراہ گلبدین حکمت تیار جہاد افغانستان کے داعی جنرل محمد ضیاء الحق اور جہاد افغانستان کے معمار آئی ایس آئی کے جنرل اختر عبدالرحمٰن کی آنکھوں کا تارا تھے۔ گوریلا کا رروائیوں کے ذریعے اشتراکی افواج کو کاری زخم لگانے میں ان کا کوئی ثانی نہیں تھا یہی وجہ ہے کہ امریکی صدر رونا لڈ ریگن اور سی آئی اے چیف ولیم کیسی بھی انہیں پسند کرتے تھے۔ گلبدین حکمت یار 79 میں اشتراکی افواج کے افغانستان پر قابض ہونے سے پہلے ہی پاکستان ہجرت کر آئے تھے۔ اشتراکیت پسند طلبہ نے جب کابل یونیورسٹی میں ”اللہ کا جنازہ“نکالا تو حکمت یار نے اس کے خلاف بھرپور احتجاج کیا اور پھر اشتراکیوں کے خلاف ایک مڈ بھیڑ میں انہوں نے جنازہ نکالنے والوں کے کابل یونیورسٹی کے سرغنہ کو قتل کر دیا۔ ظاہر ہے اس کے بعد وہاں رہنا ممکن نہیں تھا۔

پروفیسر برہان الدین ربانی کے ساتھ ہی یہاں پاکستان ہجرت کر آئے ربانی افغانستان کی جماعت اسلامی کے سربراہ تھے یہاں پاکستان میں بھی ان کے رابطے تھے گلبدین حکمت یار جنرل نصیر اللہ بابر کے ذریعے ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ ملے اور پھر پشتونستان کے نعرے کے خلاف، بھٹو صاحب کی حکمت عملی کا حصہ بنے۔ سردار داؤد کے دورہ پاکستان کے بعد یہ مسئلہ کسی حد تک حل ہونے لگا تھا کہ اشتراکیوں نے کابل میں سردار داؤد کی حکومت کا تختہ الٹ کر حفیظ اللہ امین کی قیادت میں افغانستان پر براہ راست قبضہ کر لیا، پھر ربانی و حکمت یار کی جدو جہد بین الاقوامی حیثیت اختیار کر گئی حتٰی کہ اشتراکیوں کی افواج کو 89میں یہاں سے شکست خوردگی کا داغ لئے رخصت ہونا پڑا۔ حکمت یار نے ہمیں 1983ء میں ایک ملاقات میں بڑی تاریخی بات بتائی۔ ان کے بقول، وسط ایشیاء کے مسلمان، ہم سے زیادہ جری، بہادر اور آزادی پسند تھے۔ انہوں نے بالشویک انقلاب کے خلاف شاندار جدو جہد کی۔ طویل مزاحمت کی، لیکن کیونکہ انکی پشت پناہی کے لئے کوئی پاکستان نہیں تھا اس لئے ان کی جدوجہد آزادی کامیاب نہ ہوسکی۔ ہماری جد جہد آزادی ضرور کامیاب ہوگی، ہم اشتراکیوں کو شکست دیں گے۔ ہمارے لئے پاکستان نہ صرف ہماری گوریلا تحریک کے لئے ایک محفوظ پناہ گاہ ہے، بلکہ سفارتی جد جہد کا بھی ایک مضبوط مرکز ہے، اس لئے ہم ضرور کا میاب ہوں گے“۔

پھر ہم نے دیکھا کہ اشتراکیوں کے خلاف افغانستان کی تحریک آزادی کامیابی سے ہمکنار ہوئی اشتراکی افواج شکست کھا کر واپس چلی گئیں اور یہ واپسی روسی استعمار کی 5سو سالہ تاریخ میں پہلی اور آخری ثابت ہوئی کیونکہ اس کے بعد عظیم الشان اشتراکی سلطنت 16ٹکڑوں میں تقسیم ہو کر عالمی منظر سے ہٹ گئی۔ بات ہورہی ہے تحریک آزادی کی جو گزری صدی میں افغانستان میں کامیاب ہوئی عالم اسلام میں اس وقت دو تحاریک آزادی نمایاں ہیں ایک فلسطینی مسلمانوں کی اور دوسری کشمیری مسلمانوں کی۔ فلسطینی مسلمانوں کی تحریک 70 سالوں سے جاری ہے یہودیوں نے ان کی زمین پر قبضہ کیا۔ بر طانوی استعمار نے ارض فلسطین پر قبضہ کیا۔ یہودیوں کو موقع دیا کہ وہ وہاں آبسیں اور پھر ایک طے شدہ منصوبے کے مطابق فلسطینیوں کی زمین پر ریاست اسرائیل قائم کرکے ایک ایسا مسئلہ کھڑا کیا جو خطے میں سات دہائیوں سے کشت و خون کا باعث بنا ہو ا ہے۔

برطانوی عیسائیوں اور صلیبیوں نے ریاست اسرائیل کو تخلیق کیا امریکی صہیونی اس کی پرورش کرتے رہے ہیں فلسطینی اپنی ہی سر زمین پر مہاجرقرار پا چکے ہیں ایک خطہ زمین حاصل کرنے کے لئے فلسطینیوں کی تین نسلیں جد جہد کرتی رہی ہیں امریکہ نے دو ریاستی فارمولے کے تحت اس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کی ہے جو کامیاب ہوتی نظر نہیں آرہی ہے فلسطینیوں میں آزادی کی تحریک بھی موجود ہے اور خالصتاًاسلامی جہادی تحریک بھی موجود ہے۔ بات چیت اور مذاکرات کے ذریعے فلسطینی ریاست قائم کرنے کے حامی بھی موجود ہیں اور مسلح جد جہد کے ذریعے یہودیوں کو شکست دینے کے حامی بھی موجود ہیں۔ فلسطینیوں میں آزادی کی تحریک توانا اور فعال ہے، لیکن عربوں، عرب ممالک کی حمایت، طاقتور حمایت کے بغیر یہ تحریک کامیاب نہیں ہوسکتی ہے ایسے ہی جیسے وسط ایشیائی مسلمانوں کی تحریک آزادی، توانا و طاقتور ہونے کے باوجود کا میاب نہیں ہوسکی تھی۔

کشمیری مسلمانوں کی تحریک آزادی طویل عرصے سے جاری ہے، لیکن اس میں اہم موڑ اس وقت آیا جب برصغیر کو دو ریاستوں مسلم اور ہند و میں تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔تقسیم ہند کے فارمولے کے مطابق کشمیر پاکستان کا حصہ بننے جا رہا تھا ریڈ کلف ایوارڈ میں ریاستوں کو یہ حق دیا گیا تھا کہ وہ دونوں یعنی پاکستان اور ہندوستان میں سے کسی ایک کے ساتھ الحاق کر لیں۔ ریاست حیدر آباد اور جونا گڑھ ہندواکثریتی تھیں، لیکن جوناگڑھ کا حکمران مسلمان تھا، جبکہ ریاست جموں و کشمیر مسلم اکثریتی ریاست تھی جس کا حکمران ڈوگر ہ تھا۔ ہندوستان نے حیدر آباد پر فوج کشی کرکے حید ر آباد پر قبضہ کر لیا کہ وہاں ہندو اکثریت میں تھے، لیکن کشمیر کے لئے اس فارمولے کا لحاظ نہیں رکھا گیا جب کشمیریوں نے پاکستان کے ساتھ الحاق کا فیصلہ کیا تو بھارت سرکار نے وہاں فوج اتارنا شروع کردی۔ اس طرح جنگِ کشمیرشروع ہوگئی۔

کشمیر ی مسلمانوں کی جد جہد رنگ لا رہی تھی کہ نہرو نے اقوام متحدہ کا دروازہ کھٹکھٹایا اور کشمیریوں کو حق ِ خود ارادیت دینے کا وعدہ کیا، لیکن سات دہائیوں سے زیادہ وقت گزرنے کے باوجود کشمیریوں کو یہ حق نہیں دیا گیا، بلکہ 5 اگست 2019کو مودی سرکار نے کشمیرپر جا برانہ قبضہ کر لیا ہے۔ کشمیر کی تحریک آزادی توانا و فعال ہے۔ یہاں سیکولر بنیادوں پر، قومی بنیادوں پر آزاد کشمیر ریاست قائم کرنے کی تحریک بھی موجود ہے اور خالصتاًدینی بنیادوں پر الحاق پاکستان کی تحریک بھی موجود ہے مسلح جد جہد کرنے والے گروہ بھی موجود ہیں۔ 5اگست کے بعد کشمیر کے خصوصی سٹیٹس کو برقرار رکھنے کے حامی کشمیری قائدین کی حیثیت صفر ہوگئی ہے بھارت نواز یہ کشمیری قیادت کہیں منہ دکھانے کے لائق نہیں رہی ہے کشمیری اپنی آزادی کے لئے، بے بہا جانی اور مالی قربانیاں دیتے رہے ہیں وہ اب بھی قربان گاہ میں موجود ہیں انہوں نے قربانی دینے اور دیتے رہنے سے ذرا سا بھی انحراف نہیں کیا ہے اور نہ ہی کسی قسم کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔

یاد رہے پاکستان کشمیر کی تحریک آزادی کا بیس کیمپ ہے کشمیریوں کی تحریک آزادی کشمیر دراصل تکمیل ِ پاکستان کی تحریک ہے بانی پاکستان نے جذباتی طورپر نہیں، بلکہ شعوری طور پر کہا تھا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے۔ پاکستان ایک زرعی ملک ہے اس کی معیشت میں زراعت بنیادی اہمیت رکھتی ہے اور پانی اس کی روح ہے جس کے سوتے کشمیر سے نکلتے ہیں یہی وجہ ہے کہ قائداعظم نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ کہا تھا اور کوئی بھی ملک اپنی شہ رگ دشمن کے ہاتھوں میں دے کر زندہ نہیں رہ سکتا ہے۔ کشمیر ی اپنے حصے کی قربانی دے چکے ہیں ہندوستان 70سالوں سے ان کی استقامت اور مقاومت کو آزما چکا ہے کشمیر یوں کی تین نسلیں آزادی کی قیمت چکا چکی ہیں۔ ان کی آزادی کے لئے استقامت، الحاق ِ پاکستان کے لئے قربانیوں کا ثمر ہے کہ ہندوستان انہیں 70سالوں سے دبانے میں ناکام ہوگیاہے اور یہی وجہ ہے کہ 5اگست کو مودی سرکار نے جب کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا اعلان کیا تو اسے 9لاکھ فوجی بھی وہاں تعینات کرنا پڑے، کرفیولگانا پڑا۔ کیا یہ کشمیر یوں کی جد جہد آزادی کا ثمر نہیں ہے کہ گزرے 6ماہ سے کشمیر پر ظلم و جبر کی ایک گہری چادر تان دی گئی ہے، لیکن ایک بات یاد رکھئے۔ تاریخ کا سبق یاد رکھئے۔ وسط ایشیائی مسلمان بھی استقامت اور مقاومت میں طاق تھے ان کی جد جہد آزادی لازوال تھی، لیکن ان کے پاس کوئی بیس نہیں تھا و ہ کامیاب نہیں ہوسکے اب کشمیریوں کی جد جہد آزادی کی کامیابی، پاکستان کی استقامت پر منحصر ہے۔ کشمیر ی اپنے حصے کی جد جہد کر چکے اس سے زائد ممکن نہیں ہے پاکستان کے بغیر، پاکستان کی استقامت اور مقاومت کے بغیر کشمیریوں کی جد جہد آزادی، کامیابی کا سویرا طلوع ہوتے نہیں دے سکتی ہے۔

مزید : رائے /کالم