کپتان کے لئے اصل خطرہ!

کپتان کے لئے اصل خطرہ!
کپتان کے لئے اصل خطرہ!

  



آئی ایم ایف کا وفد 13فروری 2020ء تک پاکستان میں رہے گا۔ 13فروری تک عوام پر کیا کیا قیامتیں ٹوٹتی ہیں، اللہ ہی جانتا ہے، تاہم ایف بی آر نے آئی ایم ایف کے سامنے ہاتھ کھڑے کرکے اقرار کر لیا ہے کہ ٹیکسوں کا ہدف پورا نہیں ہو سکا، جس پر ذرائع کے مطابق پرانے فارمولے کے تحت عوام کا کچومر نکالنے کے لئے یہ فرمائش رکھی گئی ہے کہ گیس کی قیمتوں میں 15فیصد اضافہ کر دیا جائے گا۔ گویا جو ٹیکس اکٹھا نہیں ہوا، وہ ٹیڑھی انگلیوں کے ساتھ عوام کی جیبوں سے نکال لیا جائے۔ آئی ایم ایف نے ہمیں چھ ارب ڈالرز دینے ہیں، ابھی ایک ارب ڈالر بھی نہیں دیئے کہ سارے کس بل نکل گئے ہیں۔ عوام دھائی دے رہے ہیں، بچاؤ بچاؤ کی چیخیں سنائی دے رہی ہیں، مگر حکومت ان کی طرف دیکھنے کی بجائے آئی ایم ایف کی طرف دیکھ رہی ہے۔

آئی ایم ایف ایک ایسا خون آشام بھیڑیا ہے جو خون کا آخری قطرہ تک نچوڑنے پر یقین رکھتا ہے۔ اسے اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ لوگ مرتے ہیں یا جیتے ہیں، اسے اپنے پیسے کی حفاظت سے غرض ہے۔ عوام کا پیٹ خالی ہو، یہ اس کا مسئلہ نہیں، ہاں خزانہ خالی نہیں ہونا چاہیے، جس سے اس نے اپنا دیا ہوا قرضہ مع سود واپس لینا ہے۔ آج تک دنیا میں کوئی ایک ملک بھی آئی ایم ایف سے قرضہ لے کر مستحکم نہیں ہوا۔ وہی ممالک خوشحال ہوئے جنہوں نے آئی ایم ایف سے جان چھڑا کر اپنی معیشت کو پاؤں پر کھڑا کیا۔ ہمارے حکمران صرف کشکول توڑنے کے نعرے ہی لگاتے رہے، لیکن ہر نئے حکمران نے پہلے والے سے بڑا کشکول اٹھا کر آئی ایم ایف کے دروازے پر دستک دی۔

حیران کن بات یہ ہے کہ آئی ایم ایف اس بات کی نگرانی نہیں کرتا کہ اس کا قرضہ کہاں خرچ ہو رہا ہے؟ کرپشن کو روکنے کی کوئی شرط بھی اس کے معاہدے میں شائد ہی شامل ہوئی ہو۔ اس کا کام صرف یہ ہے کہ حکومت اس کی ہدایت پر نئے ٹیکس لگائے، اشیاء مہنگی کرے، عوام کو دی گئی سبسڈی ختم کردے، غرض ہر وہ کام کرے جس سے عوام کی زندگی اجیرن ہو جائے۔ قرضوں کا ایک بڑا حصہ لوٹ لیا جاتا ہے، اربوں روپے باہر بھیجے جاتے ہیں۔ اب کرپشن کا چھوٹے سے چھوٹا کیس بھی دوچار سو ارب سے کم نہیں ہوتا، لیکن آئی ایم ایف کو اس سے کوئی سروکار نہیں، بلکہ اسے تو وہ اپنے لئے غنیمت سمجھتا ہے کہ اس لوٹ مار کی وجہ سے ہر نئی آنے والی حکومت کو اس کی ضرورت پڑ جاتی ہے اور وہ اپنی شرائط کو مزید سخت کرکے قرضہ دیتا ہے۔ اب یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ تحریک انصاف کی موجودہ حکومت نے اٹھارہ ماہ کے دوران اتنا قرضہ لے لیا ہے، جتنا مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے پانچ برسوں میں لیا تھا۔ پوچھا جائے تو کہا جاتا ہے کہ قرضے اور سود اتارنے کے لئے قرضے لینے پڑے ہیں، کیونکہ پچھلی حکومت خزانہ تو خالی چھوڑ گئی تھی۔ اب ایسی صورتِ حال میں اگر کوئی یہ امید لگائے بیٹھا ہے کہ مہنگائی کم ہو گی، قیمتیں نیچے آئیں گی، ٹیکس بھی کم ہو جائیں گے تو وہ احمقوں کی جنت میں رہتا ہے۔ ابھی تو دور دور تک یہ امکان بھی نظر نہیں آتا کہ حکومت بڑھتی ہوئی مہنگائی کو ایک جگہ پر روک ہی سکے، نیچے لانا تو دور کی بات ہے۔

اب تو حکومت آئی ایم ایف کو آنکھیں بھی نہیں دکھا سکتی۔ جب تحریک انصاف اقتدار میں آئی تھی تو شیخی بگھارنے کے لئے اس نے کہہ دیا تھا کہ آئی ایم ایف کے پاس نہیں جائیں گے۔ یہ شیخی بہت مہنگی پڑی، ملک دیوالیہ ہونے کے قریب پہنچ گیا، ڈالر کو پر لگ گئے اور اس کی قیمت میں دیکھتے ہی دیکھتے 35فیصد اضافہ ہو گیا۔ حکومت میں آتے ہی اگر بڑھک مارنے کی بجائے آئی ایم ایف سے رابطہ قائم کر لیا جاتا تو شائد اس پر نئی حکومت کا نفسیاتی دباؤ ہوتا۔ معاہدہ نرم شرائط پر طے پا جاتا، مگر اس وقت تو دماغ عرش پر تھا، نوشتہء دیوار کون دیکھتا؟…… جب چاروں طرف سے دروازے بند ہو گئے تو آنکھیں کھلیں، مگر بہت دیر ہو چکی تھی۔آئی ایم ایف کے لئے ایک بہت اچھا شکار تیار ہو چکا تھا، اس شکار کو جیسے چاہے کھایا جا سکتا تھا، کیونکہ اس میں پھڑپھڑانے کی سکت ہی نہیں رہی تھی۔ صرف یہی نہیں ہوا کہ آئی ایم ایف کی فرمائش پر حکومتی ٹیم بدلی گئی، بلکہ چن چن کر ان لوگوں کو مالیاتی اداروں میں بٹھایا گیا جو آئی ایم ایف کے پے رول پر تھے۔ جب شکار پوری طرح جبڑوں میں آ گیا تو معاہدہ عمل میں آیا، جسے آج تک کسی نمائندہ فورم یا پارلیمنٹ میں پیش نہیں کیا گیا۔ اس معاہدے کے خوفناک اثرات رفتہ رفتہ سامنے آ رہے ہیں۔ عوام کے گلے پر چھری پھرتی ہے تو وزیراعظم عمران خان فوراً آوازہ لگاتے ہیں: ”گھبرانا نہیں ہے“……

اب ستم ظریف یہ کہہ رہے ہیں کہ چین میں کرونا وائرس آیا ہوا ہے اور پاکستان میں آئی ایم ایف کا وائرس عوام کو زندہ درگور کر رہا ہے…… کرونا وائرس کی روک تھام تو شائد ہو جائے، لیکن تحریک انصاف کی حکومت آئی ایم ایف کا جو وائرس پاکستان لائی ہے، اس سے پھیلنے والی تباہی سے بچنا آسان کام نہیں۔آئی ایم ایف سے 45کروڑ ڈالرز کی یہ تازہ قسط حاصل کرنے کے لئے ہمارے معاشی منیجرز نجانے کیا پاپڑ بیلتے ہیں۔ لگتا نہیں کہ آسانی سے جان چھوٹ جائے۔ آئی ایم ایف کا شکنجہ لہو نچوڑنے پر آیا ہوا ہے۔ ان کی کڑی شرائط تو ماننا پڑیں گی، کیونکہ سود خور بنئے کے سینے میں دل نہیں ہوتا، نہ ہی اسے اس بات سے غرض ہوتی ہے کہ اس کی شرائط سے کسی پر کیا گزرتی ہے؟ اس وقت قومی معیشت کا عالم یہ ہے کہ ہر شے رکی ہوئی ہے، ہر شعبے میں جمود طاری ہے۔ فیصل آباد میں تو ایک تاجر نے اپنا کاروبار بند کرکے گورنر پنجاب چودھری محمد سرور کو چابیاں پیش کر دیں۔ عوام کی قوت خرید ختم ہو جائے تو کاروبار خود بخود ختم ہو جاتا ہے۔

عوام کو بجلی اور گیس کے بلوں میں ایسا الجھایا گیا ہے کہ دو وقت کی روٹی کھانا بھی دشوار ہو گیا ہے۔ ایسے میں سامانِ تعیش کون خریدے، نئے کپڑے کون بنوائے، الیکٹرانک کی اشیاء کے لئے پیسے کہاں سے لائے؟ ایک طرف ٹیکسوں اور مہنگائی کی طرف سے عوام کی آمدنی کم ہوئی ہے تو دوسری طرف ڈالر اوپر جانے کے باعث اشیاء کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں، یعنی چادر میں سے سر بھی ننگا نظر آ رہا ہے اور پاؤں بھی…… حالات اس قدر نامساعد ہیں کہ جس شخص کو وزیراعظم عمران خان بڑے شوق اور دعوے سے چیئرمین سی بی آر بنا کر لائے تھے، وہ ہاتھ جوڑ کر گھر واپس چلے گئے ہیں۔ شبرزیدی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ بہت منجھے ہوئے ماہر اقتصادیات ہیں۔ مضبوط اعصاب کے مالک ہیں اور کچھ کر گزرنے کا جذبہ رکھتے ہیں، مگر جب سارے حالات آپ کے غیرموافق ہوں تو آپ کی ساری مہارت، سارا تجربہ اور ساری کوششیں دھری کی دھری رہ جاتی ہیں۔

خود حکومت کے اندر ایسے کئی عناصر ہوتے ہیں جو کام کرنے ہی نہیں دیتے، کچھ تو آئی ایم ایف کے ایجنٹ بھی ہوں گے،جن کا کام ہی یہی ہے کہ ملک کی معیشت کو بہتر نہ ہونے دیا جائے۔ خود عمران خان کو تو معیشت کی الف ب بھی شائد معلوم نہ ہو۔ الیکشن سے پہلے اسد عمر پر تکیہ کرکے بیٹھے رہے کہ حکومت میں آتے ہی وہ جادو کی چھڑی گھمائیں گے اور ٹیکسوں کے حجم کو آٹھ ہزار ارب تک پہنچا دیں گے، لیکن ہوم ورک کے بغیر وزیر خزانہ بننے والے اسد عمر کو جب یہ معلوم ہوا کہ خزانہ تو خالی ہے اور اسے بھرنے کی کوئی سبیل بھی دکھائی نہیں دے رہی تو ان کے ہاتھ پاؤں پھول گئے۔ اَدھر اُدھر ٹامک ٹوئیاں مارتے رہے، لیکن اس دوران معیشت کا بیڑاہ غرق ہوتا رہا۔ روپیہ ڈوب گیا اور مہنگائی کا آسیب پورے ملک پر طاری ہو گیا۔ حفیظ شیخ کی سرپرستی میں جو نئی ٹیم لائی گئی، اس سے کسی فلاح کی توقع رکھنا عبث ہے۔ اس کا کام صرف ٹیکس لگا کر، قیمتیں بڑھاکر روزمرہ کا کام چلانا ہے۔ اس کے اقدامات سے غربت و مہنگائی بڑھ سکتی ہے، کم نہیں ہو سکتی۔ اس ٹیم میں اتنی سکت نہیں کہ آئی ایم ایف سے تھوڑی نرمی رکھنے کی بات ہی منوا سکے۔ وزیراعظم عمران خان کو اپنے اتحادیوں سے کوئی خطرہ نہیں، وہ انہیں چھوڑ کر کہیں نہیں جائیں گے۔ پارٹی کے اندر بھی کوئی بغاوت جنم نہیں لے سکتی۔ اپوزیشن بھی مردہ گھوڑا بن چکی ہے۔ کوئی بڑی تحریک چلانا اس کے بس کی بات نہیں، عمران خان کو خطرہ صرف مہنگائی سے ہے، آئی ایم ایف سے ہے، عوام میں بڑھتی ہوئی مایوسی و غربت سے ہے۔ اگر وہ ان پر قابو پالیں تو باقی سب حالات خودبخود ٹھیک ہو جائیں گے، مگر یہ ناممکن کام کسی معجزے کے بغیر ممکن ہوتا نظر نہیں آ رہا۔

مزید : رائے /کالم