فاٹا انضمام کا مقصد قبائلیوں کے وسائل اور معدنیات پر قبضہ

فاٹا انضمام کا مقصد قبائلیوں کے وسائل اور معدنیات پر قبضہ

  



ٹانک(نمائندہ خصوصی)فاٹا انضمام کا مقصد قبائلیوں کے وسائل اور معدنیات پر قبضہ کرنا مقصود تھا ضم شدہ اضلاع کیلئے دئیے جانے والے 82ارب روپے میں سے 4ارب صرف حکام بالا کی ذاتی اخراجات اور خورا ک کی مد میں صرف کئے گئے تبدیلی سرکارکے ضم شدہ اضلاع کو ملک کے دیگر ترقیافتہ حصوں کے برابرلانے کے دعوے صرف اخباری شہ سرخیوں تک محدود ہوکررہ گئے ان خیالات کااظہار شمالی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے ممبر صوبائی اسمبلی امیر کلام وزیر نے آپریشن سے متاثرہ گھروں کے معاوضہ کی عدم ادائیگی اور بے قاعدگیوں کے خلاف ضلعی انتظامیہ جنوبی وزیرستان کمپاؤنڈ کے سامنے جاری یومحسود احتجاجی دھرنے کے نویں روز اپنے خطاب میں کیاانکا کہناتھاکہ گزشتہ اپریشنوں کے دوران قبائلی عوام نے ملک وقوم کیلئے جو قربانیاں دی ہیں ان کی نظیر تاریخ کے اوراق میں نہیں ملتی لیکن بدقسمی سے اتنی سار ی قربانیوں کے باوجود انکو نظر انداز کرکے معاوضوں کے حق سے محروم رکھنا کہاں کا انصاف ہے انکا مزید کہناتھاکہ ضم شدہ اضلاع کے تعمیر وترقی اور فلاح وبہبود کیلئے مختص کئے گئے 82ارب روپے میں سے 4ارب روپے صرف حکام بالا کے اخراجات کی مد میں خرچ کئے گئے ہیں انہوں نے کہا کہ میں نے اس سے قبل بھی اسمبلی فلور پر قبائلی عوام کیلئے آواز بلند کی ہے اور اسمبلی اجلاس کے رواں سیشن میں اپنے دیگر قبائلی ممبر ان اسمبلی کے ساتھ ملکر بھر پور احتجاج ریکارڈ کرینگے۔

امیر کلام

مزید : پشاورصفحہ آخر