ایک شخص نے عمران فاروق کو دبو چا، دوسرے نے وارکئے: 3عینی شاہدین کے بیان ریکارڈ

ایک شخص نے عمران فاروق کو دبو چا، دوسرے نے وارکئے: 3عینی شاہدین کے بیان ریکارڈ

  



اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) انسداد دہشت گردی کی عدالت نے عمران فاروق قتل کیس میں 3 عینی شاہدین کے بیان ویڈیو لنک کے ذریعے ریکارڈ کرلیے۔ انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج شاہ رخ ارجمند نے ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس کی سماعت کی، اس موقع پر تینوں گرفتار ملزم محسن علی سید، خالد شمیم اور معظم علی کو بھی پیش کیا گیا۔عدالت نے 7 برطانوی گواہوں کو بیان ریکارڈ کرانے کے لیے طلب کر رکھا ہے جن کے لندن میں پاکستانی ہائی کمیشن سے ویڈیو لنک رابطے کے ذریعے بیان ریکارڈ کیے گئے۔انسداد دہشت گردی کی عدالت نے ڈاکٹر عمران فاروق کی ہمسایہ خواتین لارا ہیکک اور ایلیسن کوسنر سمیت 3 گواہوں کے بیان قلمبند کیے۔ گواہ لارا ہیکک نے بیان دیاکہ میں نے پولیس کو ویڈیو ریکارڈنگ کے ذریعے بیان ریکارڈ کرایا، میں نے اپنے پڑوس میں ایک شخص کو اینٹ سے وار کرتے دیکھا تو میں نے پولیس کو کال کرکے جلد آنے کا کہا۔ میں نے دروازہ کھول کر دیکھا تو ہمسائے کو زمین پرگرا پایا، یقین سے نہیں کہہ سکتی کہ میرے پڑوسی پر کتنے لوگوں نے حملہ کیا مگر ایک شخص کو میں نے دیکھا۔گواہ میکس ڈیوس نے بیان دیا کہ جائے واردات کے نزدیک ہی میں شام کو والی بال کھیل رہا تھا، میں نے دیکھا 2 افراد نے ایک شخص پر حملہ کر دیا، ایک شخص نے عمران فاروق کو دبوچ رکھا تھا اور دوسرا وار کر رہا تھا۔عدالت نے انٹیلی جنس اینالسٹ جوناتھن بانڈ، پولیس افسر پال ہال مین اور ڈِٹیکٹو کانسٹیبل جیمز لنچ کے بیانات بھی ریکارڈ کرلیے ہیں۔عدالت نے 2 برطانوی گواہوں محمد اکبر اور معین الدین شیخ کو 5 فروری کو طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔ طلب کیے گئے گواہوں میں ایک ٹیکسی ڈرائیور اور ایک عمران فاروق کے فلیٹ کا مالک ہے۔

عمران فاروق

مزید : پشاورصفحہ آخر