یوم یکجہتی کشمیر کشمیر بنے گا پاکستان

یوم یکجہتی کشمیر کشمیر بنے گا پاکستان

  



یوم یکجہتی کشمیر!

چودھری خادم حسین

آزادکشمیر، مقبوضہ کشمیر، پاکستان اور دنیا بھر میں آج کشمیری عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لئے ”یوم یکجہتی کشمیر“ منایا جا رہا ہے۔ گزشتہ 30سالوں سے 5فروری کو ہر سال مظلوم کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا جاتا ہے۔ تاہم اس سال اس میں مزید شدت ہو گی کہ حکومت پاکستان نے عالمی سطح پر بھی اہتمام کیا اور دنیا بھر میں اپنے سفارت خانوں کو ہدایت کی ہے کہ اس روز سفارت خانوں میں ایسی تقاریب منعقد کی جائیں، ان میں متعلقہ ممالک کے اہم افراد اور رہنماؤں کو مدعو کرکے تنازعہ کشمیر کا پس منظر اور اہمیت واضح کیا جائے۔ دنیا بھر میں پھیلے کشمیری مسلمانوں کے ساتھ پاکستانی نژاد افراد اور انسانی حقوق کے حامی حضرات بھی اس یوم یکجہتی کی تقریبات، ریلیوں اور احتجاج میں شرکت کریں گے۔ خصوصی طور پر برطانیہ، امریکہ، ناروے،سویڈن، جرمنی اور کینیڈا جیسے ممالک میں مختلف مذاہب اور فکر کے نمایاں حضرات بھی شریک ہوں گے۔ خصوصاً سکھ برادری بڑھ چڑھ کر حصہ لے گی۔

پاکستان میں تنازعہ کشمیر کے حوالے سے کامل اتفاق رائے پایا جاتا ہے اور سیاست اور سماج سے تعلق رکھنے والے تمام جماعتیں اور عناصر آزادی کشمیر کے لئے متفق اور کشمیریوں کے ساتھ ہیں یہی یوم یکجہتی کشمیر ہے جو 1998ء میں اس وقت کے امیر جماعت اسلامی قاضی حسین احمد کی طرف سے کشمیریوں کی حمایت میں ہڑتال کی اپیل کی گئی اور 5فروری 1990ء کو مکمل ہڑتال ہوئی۔ اس کے بعد اس دن کو کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کا یوم قرار دے دیا گیا اور پھر اسے سرکاری طور پر بھی منایا جانے لگا، اب یہ مستقل ہو چکا پہلے 5فروری کو سرکاری تعطیل بھی ہوتی، آج دنیا بھر میں تو ریلیاں نکالی جائیں گی۔ بھارتی سفارت خانوں کے باہر احتجاج ہو گا، تاہم آزادکشمیر اور پاکستان میں بڑی بڑی تقریبات کے علاوہ ہر جماعت اور طبقہ فکر کی طرف سے شرکت ہو گی، جلسے اور جلوسوں کے علاوہ مجالس مذاکرہ بھی ہوں گی اور اقوام متحدہ کے مبصرین کے دفاتر جا کر ان کو یادداشتیں بھی پیش کی جائیں گی۔

آج بھارت نے مقبوضہ کشمیر کے 80لاکھ سے زیادہ کشمیریوں کو یرغمال بنا رکھا ہے۔ پورے مقبوضہ کشمیر میں لاک ڈاؤن کو چھ ماہ سے زیادہ کا عرصہ ہو چکا، مواصلاتی رابطے منقطع اور مقبوضہ کشمیر میں کرفیو ہے، اس موسم سرما میں شدت کے باوجود کشمیری ”خود اپنے خرچ پر اپنے گھروں میں قید ہیں“ ان کے لئے خوراک، بچوں اور بیماروں کے لئے ادویات کا حصول مشکل تر بنا دیا گیا۔ مسلمان تو مسلمان کسی غیر مسلم حتیٰ کہ انسانی حقوق کے حامی ہندوؤں کو بھی بولنے کی اجازت نہیں دی جاتی اور نہ ہی دنیا بھر سے مبصرین کو کشمیر میں داخل ہونے دیا جاتا ہے۔ بھارت کی طرف سے جو دو بار دورے کرائے گئے۔ سفارت کاروں اور ان کے ممالک نے ان کو بھی رد کر دیا کہ یہ فوج کے حصار میں تھے اور ان کو کسی سے ملنے اور آزادانہ بات چیت کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔

مظلوم کشمیریوں کی جدوجہد آزادی شاید دنیا کی معلوم تاریخ میں طویل تر ہے، جواب بھی جاری اور کامیابی سے ہمکنار نہیں ہوئی ماسوا اس کے کہ 1998ء میں مجاہدین نے جہاد کرکے جو حصہ آزاد کرایا وہ آج آزاد جموں و کشمیر کی صورت میں دنیا کے نقشے پر موجود ہے، جہاں جمہوری انداز میں انتخابات ہوتے ہیں، کشمیری مسلمانوں کی جدوجہد تو 1931ء سے شروع ہے، جب ڈوگرہ راج میں مسلمانوں کو نماز عید کے دوران خطبے سے روکنے کی کوشش کی گئی تھی یہ خطہ جو جنت نظیر کہلاتا اور دنیا کی خوبصورت ترین وادی ہے، جسے دیکھنے کے لئے دنیا بھر سے ہر سال لاکھوں سیاح آتے ہیں،1948ء ہی سے بھارتی بربریت کی زد میں ہے اور جدوجہد آزادی میں دو لاکھ سے زیادہ کشمیری اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے جام شہادت نوش کر چکے اور آج بھی ان کا یہ جذبہ سرد نہیں کیا جا سکا۔ وادی کشمیر برصغیر کا حصہ ہے اور یہ مغل تاجداروں کے زیر نگین تھی، جب برصغیر پر زوال آیا اور مغل سلطنت ریزہ ریزہ ہوئی۔ انگریز نے جو ایسٹ انڈیا کمپنی کے نام پر برصغیر میں تجارت کے لئے آیا تھا، مغلوں کی بے عملی اور مسلمانوں میں انتشار سے فائدہ اٹھایا خود بھی سازش کی اس میں ان کا ساتھ برصغیر کے ہندوؤں نے بھی دیا اور وہ بتدریج یہاں قابض ہوتے چلے گئے، حتیٰ کہ 1857ء کی ”جنگ آزادی“ کی ناکامی نے انگریز کو قبضے کا موقع فراہم کر دیا اور وہ پورے برصغیر پر قابض ہو گیا، تاہم ایک ایسا دور آیا، جب پنجاب میں سکھ مہاراجہ رنجیت سنگھ نے پنجاب اور کشمیر میں بھی اپنی حکومت قائم کی اور کشمیر میں گورنر مقرر کیا، اسی دور میں 16مارچ 1846ء کو برطانوی سامراج نے خطہ کشمیر کو مہاراجہ رنجیت سنگھ کے ایک سابق گورنر گلاب سنگھ کے ہاتھ 75لاکھ روپے میں یہ خطہ اور اس میں بسنے والوں کو فروخت کر دیا، یہ بھی معلوم تاریخ کی دنیا میں ایک مثال ہے کہ ریاست کے ساتھ انسان بھی فروخت کئے گئے یوں مسلمان تب سے زیادتیوں کا شکار بننا شروع ہو گئے اور اسی طرح سسک کر زندگی گزارنے لگے کہ پھر وہ دن آ گیا، جب ان کے جذبہ ایمانی کو للکارا گیا، مجاہدکشمیر سردار غلام عباس کے مطابق 29اپریل 1931ء کا وہ روز بد تھا جب ڈوگرہ راج کے سپاہیوں نے ایک فضول اطلاع کے بعد راجہ کی ہدایت پر اس خطیب کو خطبہ سے روکنے کی جبری کوشش کی جو قرآن کی رو سے فرعون و نمرود کا قصہ بیان کر رہے تھے، ہندو پولیس افسروں اور ڈوگرہ راج کے سپاہیوں نے جبر کیا تو نمازیوں کا بھی پیمانہ صبر لبریز ہو گیا۔ پھر چودھری غلام عباس ہی کی قیادت میں مظاہرہ ہوا اور جلوس نکالا گیا، یہی جدوجہد آزادی کشمیر کا سبب بنا کہ پھر برصغیر میں آزادی کی لہر اٹھی۔ ابتداء شہریوں کی مشترکہ جدوجہد سے ہوئی اور کانگریس کے پلیٹ فارم سے سب نے مل کر انگریز سامراج کی غلامی سے انکار کیا، لیکن 1935ء کے ایکٹ کے تحت جب برصغیر میں انتخابات ہوئے اور حکومتیں بنیں تو ہندو کی ذہنیت بھی واضح ہونے لگی۔ چنانچہ جلد ہی بانی پاکستان حضرت قائداعظم محمد علی جناح نے کانگرس سے علیحدگی اختیار کی اور قراردیا کہ ہندو اور مسلمان دو الگ الگ قوتیں ہیں۔اس وقت تک سر آغا خان کی کاوش اور قیادت میں مسلم لیگ کا قیام عمل میں آ چکا تھا، قائداعظم مسلم لیگ میں آ گئے اور پھر 1940ء کے تاریخی روز 23مارچ کو منٹو پارک (آج کے میدان مینا رپاکستان) میں کنونشن (جلسہ) ہوا، اس میں قرارداد پاکستان منظور کر لی گئی ابتداء میں مفہوم کے مطابق مسلمان اکثریت کی ریاستوں (صوبوں) پر مشتمل تھی۔ پھر 1946ء میں مسلم لیگ ہی کی ورکنگ کمیٹی اور جنرل کونسل کے اجلاس میں ایک متحد پاکستان کے لئے ترمیم کر لی، برصغیر کے مسلمانوں کی مسلم لیگ کے پرچم تلے قیام پاکستان کی تحریک شروع ہوئی۔ اس میں کشمیری بھی پیش پیش تھے، بہرحال جدوجہد بر آئی 1947ء آیا اور انگریز نے برصغیر کی تقسیم کو مان لیا، اس کے تحت جو سرحد بنی (مغربی پاکستان والی) تو ضلع گورداس پور کو پاکستان میں شامل کیا گیا تھا، پھر نہرو اور لارڈ ماؤنٹ بیٹن کی گہری سازش کے نتیجے میں جب ریڈ کلف ایوارڈ کا اعلان ہوا تو بہت بڑا دھوکہ کیا گیا، گورداسپور کو پاکستان میں کیا شامل کیا جاتا یہاں تو سرحد اٹھا کر لاہور کے سر پر بٹھا دی گئی اور واہگہ کو بین الاقوامی سرحد قرار دے دیا گیا، اسی کے نتیجے میں مشرقی پنجاب میں مسلمانوں کا قتل عام ہوا اور یہ ایسا بدقسمت تھا کہ مسلمان یا تو شہید ہوئے یا ہجرت کرکے واہگہ کے اس پار آ گئے۔ لاکھوں شہادتیں، بچوں کے ٹکڑے، خواتین کی بے حرمتی اور اغوا کے ساتھ ساتھ مقبوضہ کشمیر کو جانے والا راستہ بھی پاکستان کے ہاتھوں سے چلا گیا اور اسے بھارت کے قبضہ میں دے دیا گیا اور یہ 14اگست 1947ء اگر آزادی پاکستان کا دن ہے تو یہی مظلوم کشمیریوں کے مصائب کا بھی یوم ہے کہ تب سے اب تک کشمیریوں کی چوتھی نسل جدوجہد میں ہے اور بھارتی مظالم کا شکار ہے۔

اس عرصہ میں 1948ء وہ یادگار سال ہے جب مظلوم کشمیریوں کی پکار پر مجاہدین ملت نے بھارت کو للکارا اور اس کی طرف سے کشمیر پر اچانک کئے جانے والے ناجائز قبضہ کو چھڑانے کے لئے جنگ کی۔چودھری غلام عباس کے علاوہ مجاہد اول سردار عبدالقیوم خان بھی جہاد کا حصہ تھے۔ یہ وہ دور تھا جب پاکستان کے حصے میں آنے والی بے سرد سامان فوج کا سپہ سالار جنرل گریسی تھا، اس نے قیادت کی ہدایت کے باوجود پاکستانی فوجیوں کو مجاہدین سے تعاون کی اجازت نہ دی۔ اس کے باوجود مجاہدین نے آج کا پورا آزاد کشمیر آزاد کرا لیا، ان کی پیش قدمی جاری تھی اور سری نگر پر قبضہ کے بھی امکانات تھے، اگرچہ بھارت خود کو حاصل جہازوں کے ذریعے سری نگر میں فوج بھی اتار چکا تھا اس کے باوجود اس کی ہمت و جرائیت جواب دے گئی اور اس وقت کے وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہرو بھاگے بھاگے اقوام متحدہ گئے جہاں سلامتی کونسل کا اجلاس ہوا اور بھارتی وزیراعظم پنڈت جواہر لال کی دہائی پر ایک قرارداد منظور کی گئی جس میں فیصلہ کیا گیا کہ کشمیر کے مستقل کا فیصلہ خود کشمیری اپنی مرضی یعنی استصواب رائے سے کریں گے اور یوں جنگ بندی ہوئی اور مجاہدین کو بھی یہ تسلیم کرنا پڑی۔یوں جو علاقہ آزاد کرایا گیا وہ آزاد کشمیر کہلایا جسے پورے جموں و کشمیر کا نمائندہ قرار دیا گیا۔ آج یہ ریاست آزاد جموں و کشمیر ہے۔

اب صورت حال یہ ہے کہ سلامتی کونسل کی اس قرارداد پر آج تک عمل درآمد نہیں ہو سکا، اور اب تو 80لاکھ سے زیادہ کشمیری محبوس ہو کر رہ گئے۔ 1965ء میں بھی آزاد کشمیر سے بھارتی مقبوضہ کشمیر کو آزاد کرانے کی ایک کوشش کی گئی اور پاک فوج کو کامیابی بھی حاصل ہو رہی تھی کہ بھارت نے پاکستان کی بین الاقوامی سرحد پر غیر اعلانیہ حملہ کرکے جنگ چھیڑ دی۔ اس سترہ روزہ جنگ میں بھارت کی افواج کے کمانڈر کی یہ بھڑک پاک فوج کے نوجوانوں نے بہادری سے ناکام بنائی جو اس نے لگائی، ”میں لاہور جم خانہ میں جا کر شراب پیوؤں گا“…… یہ ہمارا ملکی دفاع تھا جو کامیاب رہا، تاہم بدقسمتی سے 1971ء کی جنگ میں ہمیں مشرقی پاکستان کا المیہ برداشت کرنا پڑا، اس کے نتیجے میں چورانوے ہزار فوجی اور سول ملازم جنگی قیدی بھی بنے، یہ دور بھی گزرا 1973ء میں ذوالفقار علی بھٹو برسراقتدار آئے تو انہوں نے مذاکرات کا راستہ اختیار کیا۔ شملہ میں اندرا گاندھی سے مذاکرات ہوئے جو ایک وقت ناکام ہو گئے تاہم آخری لمحے میں بھٹو اور اندرا گاندھی کی ”ون او ون“ ملاقات کے بعد شملہ معاہدہ ہو گیا۔ اس کے نتیجے میں طے پایا کہ تنازعہ کشمیر دونوں فریقوں کے درمیان مذاکرات سے حل ہو گا، چنانچہ جنگ بندی لائن کو لائن آف کنٹرول کا نام دیا گیا اور جنگی قیدی بھی واپس ہوئے۔ بین الاقوامی سرحدوں سے فوجیں واپس اور مقبوضہ علاقے بھی چھوڑ دیئے گئے تاہم تنازعہ کشمیر جوں کا توں ہے کہ بھارتی زعماء سلامتی کونسل کی قرارداد تو دور کی بات ہے، کسی معاہدے پر بھی عمل نہیں کرتے، لیکن کشمیریوں کا جذبہ آزادی سرد نہیں ہو سکا، حریت کانفرنس اور دوسری کشمیری تنظیمیں اپنے قائدین کی قیادت میں جدوجہد میں شریک ہیں، سید اسعد گیلانی، میر واعظ عمر فاروق، یٰسین ملک اور دوسرے رہنما مسلسل بھارت سے آزادی کی جدوجہد کر رہے اور آج اس کی پاداش میں جیلوں میں ہیں۔1947ء میں جب قیام پاکستان کی تحریک کامیابی سے ہمکنار ہوئی تو کشمیر کے باسیوں نے مسلم کانفرنس کی قیادت میں اسمبلی میں ایک قرارداد منظور کرکے پاکستان کے حق میں فیصلہ دیا تھا لیکن اس وقت کشمیر کے حکمران راجہ ہری سنگھ نے خفیہ طور پر بھارت کے ساتھ ایک غیر قانونی معاہدہ کیا جس کے تحت بھارتی آئین میں آڑٹیکل 370اور 35اے ایزاد کیا گیا۔ کشمیر کو خصوصی حیثیت دی گئی، کشمیریوں نے اسے تسلیم تو نہ کیا لیکن بھارت 1948ء میں قبضہ کر چکا تھا اور اقوام متحدہ کی مداخلت سے جنگ بندی بھی ہو گئی تھی، تب سے یہ تنازعہ جوں کا توں تھا، معاہدہ شملہ کے بعد معاہدہ لاہور بھی ہوا، جب 1998ء میں بھارتی جنتا پارٹی ہی کے وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی ”دوستی بس“ پر سوار ہو کر لاہور آئے اور پاکستان کے سابق وزیراعظم محمد نوازشریف کے ساتھ مذاکرات کے بعد ”اعلان لاہور“ ہوا، اس میں بھی کشمیر کو متنازعہ ہی قرار دیا گیا اور مذاکرات کے ذریعے مسئلہ حل کرنے کا فیصلہ ہوا، لیکن عمل درآمد نہ ہونا تھا نہ ہوا۔ حتیٰ کہ 2002ء میں جب جنرل (ر) پرویز مشرف نے بھارت جا کر مذاکرات کئے اور آگرہ میں سمجھوتہ بھی طے پایا، بقول سابق وزیرخارجہ خورشید محمود قصوری، طے شدہ امور کو معاہدہ تک پہنچنے میں بھارتی جنتا پارٹی ہی کے وزراء نے سبوتاژ کر دیا تھا۔

اس سارے پس منظر ہی کے ساتھ کشمیریوں کی بھرپور جدوجہد جاری و ساری تھی اور ہے، شیخ عبداللہ کے پیروکار مسلمانوں کی بھارتی سیاسی جماعتوں کے ساتھ سمجھوتے کے باوجود حریت کانفرنس اور دوسری حریت پسند تنظیموں نے بھارتی تسلط تسلیم نہ کیا اور ہر بار بھارتی زیر سایہ انتخابات کا بھی بائیکاٹ کیا۔ اب دور آ گیا کالی دیوی کے پجاری مودی کا جواب دوسری مرتبہ برسراقتدار آیا تو اس کے ہندوتوا کے فلسفے والے سارے ہی رجحان اور عقائد کھل کر سامنے آ گئے۔ چنانچہ اس نے اپنی اکثریت کے بل بوتے پر خود ہی بھارتی آئین کی دھجیاں اڑا دیں۔ بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 اور 35اے کو کشمیر اسمبلی کی حمایت و منظوری اور عوامی رائے عامہ کے خلاف حذف کرا دیا۔ مقبوضہ کشمیر کے تین حصے کرکے اسے بھارت کا حصہ بنا لیا، نہ تو کسی عالمی قرارداد اور نہ ہی پاک ہند باہمی معاہدوں کی پرواہ کی اور اپنے ملکی آئین کا بھی مذاق اڑایا۔

5اگست سے اب تک مقبوضہ کشمیر میں کرفیو جاری، مواصلاتی رابطے منقطع اور بھارتی افواج کی جارحیت جاری ہے۔ کشمیری بدقسمتی سے گولیوں، پلیٹ گنوں، تشدد، لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا سامنا کر رہے ہیں۔ احتجاج بھی مسلسل جاری ہے اور مظالم بھی ہو رہے ہیں۔ایسے میں پاکستان کی طرف سے تو آواز بلند کی جا رہی ہے لیکن عالمی ضمیر خاموش ہے اور اسے جگانے کی ضرورت ہے۔ حکومت پاکستان کے بقول اقوام متحدہ کی جنرل کونسل میں وزیراعظم کی تقریر اور ہر فورم پر آواز بلند کرنے کی کوشش بھی جاری ہے، تاہم ضرورت اس امر کی تھی کہ اس تحریک کو اور زیادہ موثر بنایا جائے جس کے لئے بیرونی ممالک میں وفود بھیجنا چاہئیں تھے۔ بہرحال اس بار یوم یکجہتی کشمیر پر حکومت نے پہلی بار عالمی سطح پر اس دن کو منانے کی ہدایت کرکے یہ کوشش کی ہے۔ اللہ کرے کشمیریوں کی مصیبت اور دکھ کے دن ختم اور ان کو بھی آزادی نصیب ہو۔

مزید : ایڈیشن 1