کشمیر جل رہا ہے

کشمیر جل رہا ہے

  



مبرا حسین

کالج آف آفتھلموجی اینڈ الائیڈ وژن سائنسز، کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی لاہور

عالمی نقشہ دیکھ کر قابل رحم اگر کچھ لگتا ہے تو وہ ہے خطہ کشمیر یا یوں کہہ لیں 70 سال بعد بھی کشمیری قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنے پر مجبور ہیں۔ عالمی سطح پر صف اول متنازعہ موضوع ”مسئلہ کشمیر“ ہے۔ مسئلہ کشمیر کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنی کہ انڈیا اور پاکستان کی۔ وادیئ کشمیر کئی دہائیوں سے بد ترین تشدد اور آشوب حالت سے دو چار ہے۔ بھارت کی جانب سے کشمیریوں کی صریحاً نسل کشی کی مسلسل کوششیں جاری ہیں۔ تاریخی لحاظ سے بھارت اور پاکستان کے درمیان جاری اس طویل تنازعہ کے حل کے لئے اور کشمیریوں کے حق خود ارادیت کے لئے متعدد قراردادیں منظور کی گئیں، مگر 7 دہائیوں سے زیادہ عرصہ گزرنے کے بعد بھی کشمیر پر بھارتی جارحانہ رویہ جاری ہے۔ کشمیر برصغیر پاک و ہند کا شمال مغربی علاقہ ہے۔ 16 مارچ 1846ء کو انگریز نے 75 لاکھ کے عوض کشمیر گلاب ڈوگرہ سنگھ کو فروخت کیا۔ سرسبز لہلاتی زرخیز پھولوں سے مزین حسین و جمیل وادی، پہاڑوں کے آنگن میں اپنی موج میں بہتی نیلے پانیوں کی جھیلیں رنگ بکھیرتے خوشگوار موسم خوبصورتی میں اپنی مثال آپ ہیں۔ مگر بدقسمتی سے اس جنتِ نظیر کے مکین ہرآن، ہر لمحہ سکون کے متلاشی ہیں۔ ان کی آزادی کے لئے ترستی نگاہیں ان کے جوش و جذبے کی عکاسی کرتی ہیں۔ مسئلہ کشمیر ایک سنگین مسئلہ ہے جو سال ہا سال سے چلا آرہا ہے۔ برصغیر پاک و ہند کی تقسیم کے وقت ایک سازش کے تحت کشمیر کو پاکستان کا حصہ بننے سے روک دیا گیا۔ کشمیر پاکستان اور بھارت کے درمیان ہمیشہ کشیدگی کی وجہ رہا ہے کیونکہ بھارت جنت جیسی سرزمین کے وسائل لوٹنا چاہتا ہے اور پاکستان کشمیر کی آزادی کا خواہاں ہے اور امریکی سامراج دونوں ممالک کو جنگ کی حالت میں رکھ کے اپنے مفادات دونوں ممالک سے لے رہا ہے۔ 2001ء کے سروے کے مطابق کشمیر کی 70 فیصد آبادی مسلمان ہے۔ پاکستان اور بھارت کشمیر کی ایماء پر تین جنگیں لڑ چکے ہیں۔ جن میں 1947ء کی جنگ، 1965ء کی جنگ اور 1999ء کی کارگل جنگ کار فرما ہے اور چوتھی 1971ء کی جنگ سقوط ڈھاکہ کی بنیاد بنی۔

قیام پاکستان سے آج تک کشمیری غلامی کا طوق اپنے گلے میں سجائے پھرتے ہیں گزشتہ 6 ماہ سے 80 لاکھ کشمیری کرفیو کے باعث اپنے گھروں میں محصور ہیں۔ مودی ہٹلر کے درندہ صفت فوجیوں نے جنت نظیر میں دہشتگردی کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ نظام زندگی مکمل طور پر مفلوج ہے۔ بھارت کا ظلم و جبر آر ایس ایس کی فلاسفی کی ترجمانی کرتا ہے۔ 1925ء میں قائم ہونے والی آر ایس ایس کا سب سے بڑا منشور مسلمانوں کے خلاف نفرت اور اشتعال انگیزی کو ابھارنا تھا جو ہٹلر کی نازی پارٹی سے متاثر ہو کر بنائی گئی تھی۔ آج یہی نظریہ کشمیر میں نظر آتا ہے۔ ان کا ہر گلی کوچہ لہو لہو ہے مگر اس ثابت قدم قوم کی زبانیں ”لے کے رہیں گے آزادی“ کے نعروں سے تر ہیں۔

پاکستان کے ہر دلعزیز وزیر اعظم ”عمران خان“ بھی مظفر آباد میں ایک جلسے میں خطاب کر چکے ہیں۔ جہاں ان کی باوقار، پر تاثیر تقریر ”کشمیر بنے گا پاکستان“ کے نعروں کی گونج میں سن کر یہی تاثر ملا کہ کشمیری پاکستان سے الحاق کے حامی ہیں۔ لیکن زمینی حقائق اتنے سادہ معلوم نہیں ہوتے کیونکہ احتجاج کرنے والے کشمیریوں میں ایک بڑی تعداد پاکستان اور انڈیا دونوں سے نجات پا کر الگ آواز فضا میں سانس لینا چاہتے ہیں۔ موجودہ حالات میں خطہٰ کشمیر کی ہوا سے سبزے کی بھینی مہک کی بجائے گولیوں اور بارود کی بو آتی ہے۔ جہاں لاکھوں ماؤں نے اپنے لخت جگر کو آزادی کے نام پر قربان کیا تو وہاں بہنوں نے اپنے بھائیوں کی لاشوں پر بیٹھ کر ”ہم کیا چاہتے، آزادی“ کے دلدوز نعرے لگائے۔ جہاں بے توقیر زندگی ہے اور عزتوں کی پامالی کے بازار گرم ہیں۔ ان سب کے باوجود ان کے جرأت مند حوصلے بولتے ہیں۔

اتنی آزادی بھی غنیمت ہے

سانس لیتا ہوں، بات کرتا ہوں

گزشتہ دنوں 1966ء میں قائم ہونے والی جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن کے سابق صدر کامران بیگ کا کہنا تھا کہ ”خود مختار کشمیر کی جو بات ہے وہ ماضی میں اس سے بھی زیادہ مضبوط تھی۔ لیکن یہ آوازیں یہیں گونج گونج کر ختم ہو جاتی تھیں۔ کیونکہ ہمارے پاس ایسے وسائل نہیں تھے جو اب ہیں۔“

70 سال بیت گئے یہ وعدے نبھاتے کہ کشمیریوں کو ریفرنڈم کے تحت موقع دینا چاہئے کہ آیا وہ پاکستان سے الحاق چاہتے ہیں یا ہندوستان سے۔ اگر عالمی برادری جمہوریت پر یقین رکھتی ہے تو ہم سب کو ملکر کشمیریوں کا ساتھ دینا چاہئے۔ آخر کب تک آنے والی نسلیں بھارتی درندگی کا نشانہ بنتی رہیں گی؟ اور اقوام متحدہ جیسی نام نہاد تنظیمیں خاموش تماشائی رہیں گی۔

دنیا کے مفکرین کا اس بات پر اتفاق رائے ہے کہ اگر کسی قوم کو نیست و نابود کرنا ہے تو ان کی تاریخ چھین لو۔ موجودہ دور میں بھارتی رویہ کشمیر میں جنگ کے منڈلاتے ہوئے بادلوں کی نشاندہی کر رہا ہے۔

گزشتہ دنوں ”اقوام متحدہ“ کے پلیٹ فارم پر پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نہتے کشمیریوں کی آواز بنے۔ بھارتی اور امریکی سامراج سمیت دنیا بھر کے ممالک کو پر امن طریقے سے مسئلے کا حل نکالنے کی پیشکش کی۔ پاکستان اور بھارت دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان اگر مڈبھیڑ ہو گئی تو دنیا کا حسین ترین خطہ ہیرو شیما اور ناگا ساکی کا منظر پیش کرے گا۔ مگر افسوس تا حال کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

انداز کا الفاظ کا آواز کا جادو تھا

سب محو تماشا تھے

وہ محو گفتگو تھا

کچھ خواب تھے وعدے تھے

کچھ اچھے ارادے تھے

سب سجدہ شکر میں تھے

جادو کے اثر میں تھے

پھر ایکا ور مسیحا نے کچھ اس طرح سمجھایا

تب جا کے سحر ٹوٹا، تب جا کے خیال آیا

اب وہ بھی اس شہرِ اقتدار کا باسی ہے

تم دل پہ نہیں لینا، تقریر سیاسی ہے۔

حال ہی میں یکم فروری کو ”لائن آف کنٹرول سول سیکٹر“ پر بھارتی فوجیوں نے بلا اشتعال فائرنگ کی۔ پاکستان کے لئے ضروری ہے کہ بین الاقوامی برادری کو کشمیر سے متعلق پوشیدہ حقائق باور کرائے۔ کشمیر ثقافتوں اور مذاہب کا گھر رہا ہے۔ بدھ مت سے لے کر ہندو مت اور اب اسلام، سر زمین کشمیر میں مختلف مذاہب کے اختلاط سے ایک دلکش ہم آہنگی پیدا ہوتی ہے۔ بھارت نے 5 اگست کو اپنے زیر انتظام کشمیر کو حاصل خصوصی آئینی حیثیت ختم کر کے یہ پیغام دیا کہ بھارت صرف ہندوؤں کا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس مشکل گھڑی میں اپنے کشمیری بھائیوں سے کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہوں۔ کشمیر کی نسبت ہماری مکمل توجہ خطے میں امن و امان کی فضاء قائم رکھنے اور تنازعے کے حل پر مرکوز رہنی چاہئے۔ کشمیریوں کے عزم و ہمت کی مثال ہمارے لئے مشعلِ راہ ہے۔

عدد کے قبضے سے کشمیر کو چھڑائیں گے

جہاں کے نقشے میں نقشہ نیا اٹھائیں گے

بہت قریب ہیں دن غاصبوں کی پرسش کے

حساب ظلم کا ہم گِن گِن کے چکائیں گے

مزید : ایڈیشن 1