کشمیر تاریخ کے دوراہے پر

کشمیر تاریخ کے دوراہے پر

  



کشمیر جسے دنیا جنت ِ ارضی کے نام سے جانتی ہے کبھی حقیقت میں جنت کا ہی منظر پیش کرتی تھی۔ اُبلتے چشمے، بہتی صاف شفاف ندیاں، شور مچاتے دریا،ہمالیہ کے آسمان کو چھوتے برف پوش پہاڑوں کے پہلو میں قراقرم کی چوٹیاں اور نمایاں ترین گلیشیر ایک طرف تو دوسری جانب جُوں جُون اُترائی کی جانب سرسبز و شاداب وادیوں میں ہواؤں کی تیز سُروں پر رقصاں صنوبر، صندل، املتاس، دیودار اور چیڑ کے بلند قامت درختوں کے جنگلات جن میں ہر نوع کی حیات۔ پھلوں سے لدے خوبصورت باغات اور اُن میں نغمہ سنج طیور کسی جنت ہی کی خبر دیتے تھے۔ کھیتوں میں کام کرتے مطمئن کسان، جنگلوں اور وادیوں میں ریوڑ چراتے چر واہے (بکروال) جب دھرتی سے جُڑے گیتوں کی تانیں فضا میں بکھیرتے ہوں گے تب کون ہوگا، جو کشمیر کو جنت نہ سمجھتا ہو گا۔

یہ وہی جنت ہے، جس میں بسنے کی تمنا لئے فلسطین سے بنی اسرائیل کے گمشدہ قبائل ہجرت کرتے ہیں تو کچھ راستوں میں رُک کے کہیں افغان تو کہیں پختون قبائل کی شکل اختیار کرتے ہیں تو کچھ باہمت بالآخر کشمیر، لداخ اور تبت تک جا بسے۔ بعض تاریخی روایات کے مطابق حضرت عیسیٰ علیہ السلام جب اللہ کی مہربانی سے صلیب سے زندہ بچ نکلے تو بنی اسرائیل کی گمشدہ بھیڑوں کی تلاش و اصلاح کے لئے کشمیر سے ہوتے ہوئے تبت تک تشریف لائے۔

یہی جنت ِ ارضی جب رنگ برنگے حکمرانوں کے تصرف میں آئی تو قدرت کے عطا کردہ حُسن و دولت کے باوجود بھی رفتہ رفتہ دوزخ میں تبدیل ہوتی چلی گئی۔ بیچ بیچ میں ہندو اور بدھ رشیوں اور مسلمان صوفیاء نے مہکتے گلزار بھی بنائے اور سلطان زین العابدین (بڈھ شاہ) نے بھی ہر طبقے کے لئے سازگار ماحول پیدا کر کے کشمیر کے حُسن کو گہن سے نکالنے کی کوشش بھی کی، مگر مجموعی طور پر یہ جنت اب جنت نہ رہی تھی۔

یوں تو سب راج ہی بھاری تھے مگر افغانیوں، سِکھوں اور ڈوگروں کے راج قیامت تھے۔ کشمیر پر دائمی مسلط ہونے والا عذاب1799ء میں خالصہ راج کی شکل میں وارد ہوا۔ رنجیت سنگھ سے شروع ہونے والے اس راج میں مسلمان کشمیری بُری طرح پِس کے رہ گئے۔ سکھوں کی مغلوں کے ساتھ سیاسی لڑائیوں کی بدولت تلخیاں اسقدر بڑھیں کہ سکھوں کے کچھ گُرو بھی اس کی نذر ہو گئے۔ اس پس منظر میں جب سکھوں کو پہلی بار ایک مسلمان رعایا ملی تو اُسے تباہ کرنے کی کوئی کسر نہ چھوڑی۔ جابرانہ ٹیکس اور ظالمانہ اِقدامات کے تذکروں سے کتابیں بھری پڑی ہیں۔ اِس عذاب کا پہلا مرحلہ اُس وقت تمام ہوا جب جنگ میں شکست کے بعد سکھوں نے9مارچ1946ء کو معاہدہِ لاہورکے تحت کشمیر بھی انگریزوں کے حوالے کر دیا۔ اِس سے توقع ہوئی کہ کشمیریوں کے حالات کچھ بہتر ہو جائیں گے، مگر ایک ہی ہفتے بعد 16مارچ1846ء کو انگریزوں نے 75,000 پاؤنڈ (75 لاکھ نانک شاہی روپے) کے عوض کشمیر کو باسیوں سمیت گلاب سنگھ کو بیچ دیا۔ یہاں سے کشمیریوں کی بدترین غلامی کا ایک نیا دور شروع ہوا جو کسی نہ کسی شکل میں آج بھی جاری ہے۔

مہاراجہ کشمیر کے خلاف پہلی بلند آواز ایک غیر کشمیری عبدالقدیر کی تھی۔ اُس نے کشمیریوں کی بد حالی دیکھ کر خانقاہ معلی میں موجود کشمیری قیادت کی موجودگی میں بھرپور جذباتی تقریر کی اور اُنہیں جہاد کی دعوت دی۔ یہ25جون1931ء کا دن تھا۔ اُسے اسی دن گرفتار کر لیا گیا۔ اُس کا مقدمہ کشمیریوں میں حُریت کی پہلی تحریک کا باعث بنا۔ 13جولائی1931ء وہ دِن ہے جب آزادی کی خاطر اجتماعی قربانی ہوئی۔ سرینگر جیل، جہاں مقدمہ سُنا جا رہا تھا، کے باہر بائیس کشمیریوں نے اپنی جانوں کانذرانہ دیا۔

اس مقدمے سے شروع ہونے والی بیداری نے1932ء میں مسلم کانفرنس کو جنم دیا۔ شیخ عبداللہ اور چودھری غلام عباس اس کے سرخیل تھے۔ چودھری صاحب نے توساری عمر قوم کے ساتھ نبھائی، مگر شیخ صاحب بالآخر کانگرس سے جا ملے اور اپنی جماعت کا نام نیشنل کانفرنس رکھ لیا۔ یوں کشمیریوں کی تقسیم نے اُن کے لئے نہ ختم ہونے والی غلامی کی پختہ بنیاد رکھ دی۔

برصغیر کی تقسیم کے وقت کشمیر میں حالات بڑی ہی تیزی سے روز نئی کروٹیں لیتے۔ اُس وقت کشمیری قیادت میں عدم اتفاق اور انگریز ہندو گٹھ جوڑ کے تحت صورتِ حال کچھ اِس طرح بنی:

٭…… ابتدائی طور پر شیخ عبداللہ اور چوہدری غلام عباس دونوں کو گرفتار کر لیا گیا مگر شیخ صاحب کو جلد ہی رہا کر دیا، مگر چودھری صاحب گرفتار ہی رہے تاکہ اس نازک موقع پر قوم کی رہنمائی نہ کر سکیں۔

٭……حالات کی سنگینی سے مسلم کانفرنس نے نہ صرف وزیراعظم پاکستان کو آگاہ کیا، بلکہ پاکستان سے الحاق کی قرارداد بھی پاس کی۔

٭…… دلی میں گورنر جنرل کی سربراہی میں فوجی اور سول قیادت مہاراجہ کو ہر طرح کا تعاون (بشمول اسلحہ کی سپلائی) فراہم کر رہی تھی، جبکہ پاکستان میں موجود انگریز افسران کے پاکستانی مفادات کے خلاف اقدامات نمایاں تھے، جن میں پاکستانی حکومت اور مجاہدین کی ہر نوع کی منصوبہ بندی فوری طور پر دِلی پہنچائی جاتی تھی اور اس عمل میں گورنر NWFP جارج کنگہام اور جی ایچ کیو بھی شامل رہے۔

٭…… قائداعظم کے حُکم کو رد کرتے ہوئے جنرل گریسی نے پاکستانی فوج کو کشمیر بھیجنے سے انکار کر دیا اور کہا کہ وہ سپریم کمانڈر کے حکم کا پابند ہے۔

حکومت پاکستان نے کرنل (بعد ازاں جنرل) اکبر خان کی سرکردگی میں جب مجاہدین کو منظم کرنا شروع کیا تو اس میں بھی خاصی رکاوٹیں پیدا کی گئیں۔

مہاراجہ ہری سنگھ کو مجبور کردیا گیاکہ وہ ہندوستان سے الحاق کی دستاویزات پر دستخط کرے جس میں یہ شرط بھی رکھی گئی کہ شیخ عبداللہ کو فوری طور پر حکومت سونپ دی جائے گی۔ معاہدہ ہونے کے اگلے ہی روز27اکتوبر1947ء اِس شرط پر عمل بھی ہوگیا۔ بھارت کی فوری فوجی امداد کی بدولت مجاہدین کی پیش قدمی نہ صرف رُک گئی، بلکہ پسپائی نے قبائلی لشکر کو باور کروا دیا کہ اب ٹھہرنا فضول ہے سو وہ اپنے علاقوں کو لوٹ گئے۔

اُن کمزور لمحات میں جب کشمیری مہاجرین کی زبانی وادی میں رہ جانے والوں کی دردناک داستانیں راولپنڈی، جہلم، گجرات اور سیالکوٹ کے اضلاع میں پہنچیں تووہاں کے سابقہ فوجی بھی مجاہدین کی مدد کو سامنے آ گئے۔ اُدھر وزیراعظم کے نئے احکامات کی روشنی میں جنرل گریسی نے اُن بارہ افسروں کو جہاد میں شرکت کی اجازت دے دی جنہوں نے رضاکارانہ طور پر جہاد میں شرکت کی درخواست کی تھی۔ ان افسروں کی آمد اور کچھ نیا اسلحہ مل جانے سے جہاد میں نیا جوش آگیا اور ہندوستانی فوجوں کے قدم اُکھڑنا شروع ہوگئے۔ اس مشکل سے جان چھڑانے کے لئے ماؤنٹ بیٹن نے برطانوی حکومت سے مشورے کے بعد نہرو کو معاملہ اقوامِ متحدہ لے جانے کے لئے کہا۔ یوں 31دسمبر 1947ء سے یہ کیس وہاں دفن پڑا ہے۔ مسلمان ممالک کا کوئی مسئلہ بھی اقوام متحدہ میں نہ کبھی پہلے حل ہوا ہے نہ ہی مستقبل میں ہوگا، سو پاکستان اور کشمیریوں کو کچھ اور سوچنا اور عمل کرنا ہوگا۔

کشمیر کے معاملے میں ماضی میں سنگین مجرمانہ غلطیاں سرزد ہوئیں۔ ہم نے کم ازکم چارایسے یقینی مواقع گنوائے جب کشمیر کو بھارت سے آزاد کروایا جا سکتا تھا۔ ہم نے سارا کشمیر کیا آزاد کروانا تھا، کارگل (جو 1947ء سے پاکستان کا حصہ تھا) کا دفاع بھی نہ کر سکے اور دونوں بڑی جنگوں میں دشمن نے آسانی سے اُسے چھین لیا۔ حکمرانوں کی کوتاہ نظری پہلے ہی بہت نقصان پہنچا چکی، اب آنکھیں اور دماغ کھلے رکھنے کی ضرورت ہے۔

پچھلی تین دہائیوں سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ پاکستان ایک ناکام ریاست ہے، یہ تو اپنا بوجھ بھی اٹھانے کے قابل نہیں، کسی اور کو سہارا کیا دے گی؟ساتھ ہی بنگلادیش کا ماڈل بھی پیش کیا جارہا ہے کہ پاکستان سے جان چھڑا کے بہتر ترقی کی جاسکتی ہے (یہ بتائے بغیر کہ قوموں کی برادری میں وہ ایک طفیلی ریاست سے زیادہ کچھ نہیں)۔ یوں کشمیریوں کے ذہنوں میں یہ بات بٹھانے کی کوشش ہے کہ اگر ان کا بھارت کے ساتھ گزارہ نہیں تو خودمختار ریاست بنیں۔اس تجویز میں پوشیدہ زہر دیکھنا کچھ زیادہ مشکل نہیں۔

یہ درست کہ جنگیں کسی مسئلے کا حل نہیں ہوا کرتیں، مگر یہ حقیقت تاریخ میں ہر قدم پر ثابت شدہ ہے کہ جنگ نہ کرنا اور بات ہے اور جنگ نہ کر سکنا دوسری۔ جنگ نہ کر سکنے کا پیغامِ مسلسل فریق ثانی کو شیر کر دیتا ہے، جس سے مسائل حل ہونے کی بجائے اور پیچیدہ ہو جایا کرتے ہیں۔

بہت پہلے سے ہمارے اداروں کے علم میں ہے کہ امریکہ کی سرکردگی میں پاکستان دشمن قوتوں کا ارادہ اور عمل ہے کہ پاکستان کو مزید کمزور کیا جائے، پورے کشمیر کو خود مختار بنایا جائے تاکہ وہاں بیٹھ کے پورے خطے کو قابو میں رکھا جا سکے۔ یہ یاد رہے کہ معاشی تباہی کے بعد ملک کسی قابل نہیں رہا کرتے۔ اِس مقصد کے حصول کے لئے وہ اقدام اٹھائے جا رہے ہیں، جن کی بدولت اسلامی دُنیا کی واحد ایٹمی طاقت آج اس مقام پر ہے کہ کسی کانفرنس میں ہماری شر کت کافیصلہ بھی دوسرے ملک کرتے ہیں۔ ملک کے معاشی معاملات کو جو ٹیم چلا رہی ہے اُس کا غیر ملکی اداروں سے تعلق عیاں ہے۔ ملک معاشی تباہی کے جس گھڑے میں دھکیل دیا گیا ہے اس سے نکلنااگر ناممکن نہ بھی ہو تو بھی انتہائی مشکل ضرور ہے۔

ایسے کمزور لمحات میں ملکی قیادت دور اندیشی سے کوسوں دُور نظر آتی ہے۔ بھارت کا اگست کا اقدام امریکہ کی مکمل حمایت یافتہ لگتا ہے۔ اگر اس واقعہ کے پس منظر اور پیش منظر کو غور سے دیکھا جائے تو اندیشہ ہوتا ہے کہ کہیں اپنوں کی رضامندی بھی تو شامل نہیں۔ اللہ کرے ایسا نہ ہو۔

پچھلے چند ماہ میں وزیراعظم کی صدر ِامریکہ سے ہونے والی دونوں ہی ملاقاتوں میں امریکی ثالثی کی گونج سنائی دی اور اپنے وزیرخارجہ اسے کامیابی گردانتے نظر آئے۔ میری نظر میں یہ دونوں ہی اقدام انتہائی سنگین سفارتی غلطی ہیں۔ یہ تو خوداپنے ہی ہاتھ پاؤں باندھ کے جلاد کے سامنے لیٹنے کے مترادف ہے، جس سے ہر حالت میں اجتناب ضروری ہے۔

حالات کی سنگینی کا تقاضہ ہے کہ قومی سطع پر تمام سیاسی و عسکری قیادت بند کمرے میں سر جوڑ کے بیٹھے تاکہ کوئی ایسی جامع پالیسی مرتب کی جاسکے، جس سے کشمیر کاز کو آگے بڑھایا جاسکے اور اس دیرینہ مسئلے کا کشمیری اور پاکستانی عوام کی امنگوں کے مطابق کوئی قابل عمل حل نکالا جا سکے۔

مزید : ایڈیشن 1