ایم سی بی کا منافع قبل از ٹیکس 40 ارب روپے کو عبور کرگیا

  ایم سی بی کا منافع قبل از ٹیکس 40 ارب روپے کو عبور کرگیا

  



لاہور(پ ر)ایم سی بی بینک لمیٹڈ کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کا اجلاس میاں محمد منشاء کی زیر صدارت منعقد ہواجس میں 31دسمبر، 2019 کو اختتام پذیر ہونے والی ششماہی کے دوران بینک کی کارکاردگی کا جائزہ لینے اور مختصراً عبوری مالیاتی گوشواروں کی منظوری کے سلسلے میں بورڈ آف ڈائریکٹرز نے بینکس کی کیٹگری میں اپنے سب سے زیادہ منافع منقسمہ دینے کی روایت کو جاری رکھتے ہوئے چوتھا عبوری نقد منافع منقسمہ بحساب 5 روپے فی شیئر، جو کہ 50 فیصد بنتا ہے، دینے کا اعلان کیا اور 2019 کو ختم ہونے والے سال کے لیے کل نقد منافع منقسمہ کو 170فیصد تک لائے۔ایم سی بی بینک لمیٹڈ کا قبل از ٹیکس منافع 40.10 ارب روپے جس میں مشکل کاروباری حالات کے باوجود 2018 کے مقابلے میں 25% ترقی دیکھنے میں آئی۔ نمایاں خصوصیات زیادہ بہتر کاسٹ سٹرکچر کے ساتھ ساتھ سرمایہ کاری بیس کی میچورٹی پروفائلنگ میں بتدریج منتقلی کے ذریعے نیٹ انٹرسٹ مارجن میں متاثر کن اضافہ تھیں۔سود کی شرح میں تبدیلی پرمبنی سرمایہ کاری کی حکمت عملی کے تحت آہستہ آہستہ مختصر سے طویل مدتی سرمایہ کاری میں منتقلی عمل میں آئی جس سے سال کے دوران سود کی شرح میں نمایاں تبدیلی سے فائدہ پہنچا۔

کم لاگت کے ذخائر میں اثاثوں کی موثر تعیناتی کی وجہ سے نیٹ انٹرسٹ آمدن 59.62 ارب روپے ہوگئی جو پچھلے سال کے مقابلے میں 30 فیصد زیادہ ہے۔سود کمانے والے اثاثوں کا تجزیہ سے نمایاں ہوتا ہے کہ ایڈوانسز سے آمدن میں 20.37 ارب روپے اضافہ بنیادی طور پر پیداوار میں 398bps اضافہ کی وجہ سے ہوا۔ سرمایہ کی مد میں مجموعی مارک اپ آمدن میں 30.76 ارب روپے کا اضافہ کی وجہ اوسط حجم میں 66.61 ارب روپے اور پیداوار میں 391bps کا اضافہ ہے۔انٹرسٹ سے متعلقہ واجبات کی مد میں گذشتہ سال کے مقابلے میں ذخائر کی لاگت میں 278bps کا اضافہ ہوا ہے۔ نان مارک اپ آمدن کے بلاک میں اہم حصہ فیس،کمیشن آمدن اور زرِمبادلہ کے لین دین سے آمدن سے 16.68 ارب روپے رپورٹ کی ہے۔

فیس میں اضافے کو پورا کرنے میں ایک اہم آمدنی بینکاشورنس کا کمیشن تھا جس میں ایم سی بی بینک لمیٹڈ کے ساتھ فیصد کی شرائط میں نئی کاروباری پیداوار کی قیادت کر رہا ہے۔سال کے دوران مہنگائی میں اضافے کے باوجود، آپریشنل نیٹ ورک میں ترقی اور ڈیجیٹل، سائبر سیکیورٹی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی سے متعلق پلیٹ فارمز میں مستقل سرمایہ کاری سے آپریٹنگ اخراجات میں 5 فیصد اضافہ ہوا، جیسا کہ لاگت کا موثر انتظام ایم سی بی بینک لمیٹڈ کے لیے بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔بہم رسانی (پرویژن) کی طرف بینک نے ایڈوانسز پر 158 ملین روپے کی خطیر رقم کی فراہمی مختص کی جبکہ بینک نے 2019 میں ایکویٹی پورٹ فولیو کی مد میں مجموعی طور پر 2.8 ارب روپے فیس ریکارڈ کی۔مالیاتی نقطہ نظر سے کل اثاثے کی بنیاد منفرد بنیادوں پر 1.52 کھرب روپے ہے جس میں دسمبر 2018کے مقابلے میں 1% کا اضافہ دیکھنے میں آیا۔ مرکب اثاثہ جات کے تجزیہ کرتے ہوئے کل سرمایہ کاری اور ایڈوانسز بالترتیب 748.77 ارب روپے اور 496.68 ارب روپے رہے۔ بینک کے نان پرفامنگ قرضہ جات 469 ملین روپے کے معمولی اضافے کے ساتھ 49.42 ارب روپے رپورٹ کیے گئے۔ بینک کی کوریج اور انفیکشن کی شرح بالترتیب 87.73% اور 9.15% رہی۔ادائیگیوں کی طرف، بینک کے ڈیپازٹ کی بنیاد میں دسمبر 2018 سے 95.73ارب روپے (+9%) کا نمایاں اضافہ درج کیا گیا۔

مزید : میٹروپولیٹن 1