معذرت کیساتھ ہم ان پڑھوں کو سمجھا رہے ہیں، اعظم سواتی

      معذرت کیساتھ ہم ان پڑھوں کو سمجھا رہے ہیں، اعظم سواتی

  



اسلام آباد(آن لائن)سینیٹ میں اپوزیشن کو ان پڑھ کہنے پراپوزیشن اور حکومتی ارکان میں گرما گرمی ہوگئی، اپوزیشن ارکان نے آرڈیننس پراعتراض لگایا کہ منی بل آرڈیننس ہے، بل کی شکل میں پیش کیا جائے، اعظم سواتی نے کہا کہ معذرت کے ساتھ ہم ان پڑھوں کو سمجھا رہے ہیں، جس پر مشاہد اللہ خان نے کہا کہ ہم آپ کو امام جہلا کہیں گے۔ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سلیم مانڈوی والا کی صدارت میں ایوان بالا کا اجلاس ہوا، جس میں حکومت کی جانب سے منی بل 2020 پیش کیا گیا۔ اعظم سواتی نے کہا کہ یہ بل قومی اسمبلی میں پیش کیا جاچکا ہے، یہ ہماری مجبوری اور ضرورت ہے۔ جس پر شیری رحمان نے کہا کہ ایسے کیسے اس آرڈیننس کو بل تسلیم کر لیں؟ حکومت آرڈیننس پر آرڈیننس لاکر پارلیمنٹ کو بائی پاس کررہی ہے، حکومت نے آڈیننس کو بل کی شکل میں ایوان بالا میں پیش کردیا ہے۔پارلیمنٹ کو بلڈوز نہیں ہونے دیں گے۔ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ یہ آرڈیننس قومی اسمبلی سے بل کی شکل میں ہمارے پاس آیا۔ جس پر راجا ظفر الحق نے کہا کہ ہم اس بل کو نہیں مانتے۔ دونوں ایوان چل رہے ہیں کیوں آرڈیننس لائے جارہے ہیں؟ آرڈیننس سینیٹ میں پیش نہیں کیا جاسکتا۔ اعظم سواتی نے کہا کہ معذرت کے ساتھ ہم ان پڑھوں کو سمجھا رہے ہیں۔ ان پڑھ کہنے پر اپوزیشن رہنماں نے احتجاج کیا۔اس موقع پر ایوان میں اپوزیشن اورحکومتی ارکان میں گرما گرمی ہوئی اور تمام ارکان اپنی نشستوں پر کھڑے ہوگئے۔ ن لیگ کے سینیٹر مشاہد اللہ نے کہا کہ آپ نے ہمیں ان پڑھ کیوں کہا؟ ہم آپ کو امام جہلا کہیں گے۔اعظم سواتی معافی مانگیں۔ قائد ایوان شبلی فراز نے کہا کہ اپوزیشن اکثریت میں ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہمیں دھمکائے۔ اپوزیشن نے ایسا کون سا ایشو اٹھا دیا کہ ہمیں سپریم کورٹ جانا پڑے۔ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ ان پڑھ کا لفظ کاروائی سے حذف کردیا گیا ہے۔

اعظم سواتی

مزید : صفحہ اول