امریکی صدارتی امیدواروں کی نامزگیوں کا طویل، پیچیدہ مرحلہ شروع

  امریکی صدارتی امیدواروں کی نامزگیوں کا طویل، پیچیدہ مرحلہ شروع

  



واشنگٹن (اظہرزمان، خصوصی رپورٹ)امریکہ میں دونوں بڑی سیاسی پارٹیوں ری پبلکن اور ڈیموکرٹیک کے صدارتی انتخابات میں اپنی اپنی پارٹیوں کی طرف سے نامزدگی کا طویل اور پیچیدہ مرحلہ شروع ہے۔طریق کار کے مطابق ہر ریاست میں پرائمری کنونشن منعقد ہوں گے جو پارٹی کے قومی کنونشن میں طے شدہ تعدادکے مطابق اپنے مندوب بھیجیں گے امیدواروں کے مندوب پہلے سے ہی طے ہوتے ہیں اس لئے قومی کنونشن میں حتمی چناؤ کی رسمی کارروائی ہی ہوتی ہے۔ پرائمری کنونشن میں پارٹی کے رجسٹرڈ ووٹرز مندوب کیلئے ووٹ ڈالتے ہیں۔چند ایک ریاستوں میں پرائمری کنونشن کی بجائے کاکسسز منعقد ہوتے ہیں یہ مختلف مقامات پر پارٹی کے اجتماعات ہوتے ہیں جہاں ووٹ نہیں ڈالے جاتے۔ مختلف امیدواروں کے حامیوں کیلئے جگہ مختص کردی جاتی ہے اعلان ہونے پر ووٹرز ان مقامات پر جا کر کھڑے ہوجاتے ہیں اور پھر ووٹروں کی گنتی کرکے کامیاب مندوب کا اعلان کردیا جاتا ہے۔ڈیموکرٹیک پارٹی کے صدارتی امیدواروں کا پہلا چناؤ ریاست آئیووا میں کاکسسزکے ذریعے سوموار کے روزہوا تاہم کچھ تکنیکی وجوہات کی بناء پراس کے نتائج کے اعلان میں تاخیر ہورہی ہے۔ تاہم دلچسپ بات ہے کہ امریکہ تاریخ میں پہلی مرتبہ اس ریاست میں کاکسنر کے پارٹی احتماعات کیلئے پانچ مساجد کا بھی انتخاب ہواہے منگل کی صبح آئیووا ریاست میں ڈیموکرٹیک پارٹی کے چیئرمین ٹرائے پرائس نے ایک بیان جاری کیاہے جس میں انہوں نے واضح کیاہے کہ بالآخرہم درست اور جائز نتائج حاصل کرکے ان کا اعلان کریں گے اس لئے ان کے بارے میں کسی کو شک شبہ نہیں ہوناچاہیے۔ اس وقت ڈیمو کرٹیک پارٹی کے صدارتی ٹکٹ کے جوامید وارمیدان میں ہیں ان میں سابق نائب صدد جوبیڈن،سینیٹر برنی سینڈرس،سینیٹرالزبتھ وران،سابق مئیر مائیکل بومبرگ، سابق میئر پیٹ بٹیگیک، سینیٹر ایمی کلوبچر، ٹام سٹیئراوراینڈریو یانگ شامل ہیں۔

امریکی الیکشن

مزید : صفحہ اول