جام پور: بااثر رشتہ دار قریبی عزیز کی اراضی ہتھیانے کیلئے سرگرم

  جام پور: بااثر رشتہ دار قریبی عزیز کی اراضی ہتھیانے کیلئے سرگرم

  



جام پور(نمائندہ خصوصی) نواحی موضع رسول پور کے رہائشی محمد کریم خاناحمدانی نے محمد نعیم خان احمدانی اور اپنے وکیل کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ میرے والد سردار امان اللہ خان احمدانی نے 2002 میں کھاتہ نمبر 320 میں اپنا ملکیتی رقبہ میرے نام تبلیغ انتقال کردیا تھا جس پر میں بدستور قابض ہوں۔انہوں نے بتایا کہ 2009 میں مختلف سرکاری محکموں کی اہم پوسٹوں پر تعینات میرے بااثر رشتہ داروں ڈاکٹر احمد ندیم، ڈاکٹر دلاور، رفیع الدین(ہیڈ(بقیہ نمبر47صفحہ12پر)

ماسٹر)، منور احمد، رفیع نصیر اور محمد خان نے محکمہ ریونیو ڈیپارٹمنٹ کے افسران سے ملی بھگت کرکے بوگس دستاویزات تیار کرلیں اور رقبہ پر قبضہ کی کوششیں شروع کردیں۔بوگس دستاویزات کی تیاری میں اہم شخصیات نے کردار ادا کیا۔ انہوں نے بتایا کہ بوگس اور جعلی دستاویزات کے ذریعہ میرے رقبہ پر قبضہ کے لیئے رفیع نصیر نے سینئر سول جج راجن پور کی عدالت میں میرے خلاف دعوی بھی دائر کیا تھا جوکہ طویل سماعت کے بعد دستاویزات جعلی اور بوگس ہونے پر خارج ہوگیا تو رفیع الدین جو کہ ان دنوں سکوہ ہذا میں ہیڈ ماسٹر بھی نہیں تھا نے ذاتی حیثیت میں مجھے اور میرے بھائیوں کو فریق بنا کر نہ صرف دعوی دائر کردیا بلکہ میرے رقبہ سے 225000 روپے مالیت کے درخت بھی چوری بیچ کھائے۔ جس کی بابت میں نے اینٹی کرپشن اور ہائیکورٹ میں دعوے بھی دائر کیئے تھے جو کہ ابھی تک زیر سماعت ہیں۔جبکہ رقبہ کو محض مجھے نقصان پہنچانے کی غرض سے سکول میں شامل کرنے کے جعلی دستاویزات پر دائر کیئے گئے تمام دعوے عدالتوں میں پیش کی گئی دستاویزات کے جعلی اور بوگس ثابت ہونے پر خارج ہوچکے ہیں لیکن بااثر مافیا نے میرا رقبہ جو کہ موجودہ کھاتہ نمبر 341 میں موجود ہے سکول کے مشترکہ کھاتہ میں بھی نہیں ہے کو زبردستی سکول میں شامل کرتے ہوئے سینہ زوری کا مظاہرہ کیا اور بغیر بنیاد کے دیواریں کھڑی کرلیں جو کہ تیز آندھی میں ہی منہدم ہو جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ مخالف رشتہ داروں کو سکول سے بھی کوئی دلچسپی نہیں ہے محض مجھے نقصان پہنچانے کی غرض سے کروڑوں روپے مالیت کے رقبہ کو سکول میں شامل کرکے سکول ٹائم میں ہی سکول میں زیر تعلیم معصوم بچوں سے لیبر کاکام لیا اور میرے رقبہ کو سیراب کرنے والی آبی گزرگاہوں اور آمدورفت کے راستے کو بند کردیا ہے۔ اب نہ تو میں خود ہی رقبہ کی دیکھ بھال کے کہیں سے راستہ پاتا ہوں اور نہ ہی رقبہ کو کاشت کرنے کے لیئے پانی کا بندوبست کرسکتا ہوں۔ انہوں نے وزیر اعظم پاکستان اور وزہر اعلی پنجاب سے اس صورتحال کا نوٹس لے کررقبہ واگزار کرکے انصاف فراہم کرنے کا پر زور مطالبہ کیا ہے۔

سرگرم

مزید : ملتان صفحہ آخر