کراچی میں آتشزدگی کے واقعات،کروڑوں سامان خاکستر

کراچی میں آتشزدگی کے واقعات،کروڑوں سامان خاکستر

  



کراچی(کرائم رپورٹر)کراچی کے 2 مختلف علاقوں میں آگ لگنے کے 2 الگ الگ واقعات پیش آئے ہیں،سندھ ہائی کورٹ میں پراسیکیوٹر جنرل سندھ کے دفتر اور ملیرٹنکی مارکیٹ میں الیکٹرانکس کی دکانوں میں آگ لگ گئی۔فائربریگیڈ کے عملے نے آگ پر قابوپالیاہے،آگ کے باعث کروڑوں روپے کا سامان جل کر راکھ ہو گیاتاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔تفصیلات کے مطابق منگل کی صبح سندھ ہائی کورٹ میں پراسیکیوشن کے دفتر میں آگ لگنے سے دفتری سامان جل کر خاکستر ہو گیا۔ریسکیو ذرائع کے مطابق پراسیکیوٹر جنرل سندھ کے آفس آگ لگنے سے لاکھوں روپے کا فرنیچر، ملٹی میڈیا پراجیکٹر، ایل سی ڈی، کمپیوٹر اور دیگر سامان بھی جل گیا۔ریسکیو ذرائع نے بتایاکہ پراسیکیوٹر جنرل سندھ کے آفس میں آگ شارٹ سرکٹ کے باعث لگی جس پر قابو پالیا گیا ہے، جبکہ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ادھر ملیر ٹنکی مارکیٹ میں منگل کی صبح سویرے الیکٹرانکس کی دکان میں آگ لگ گئی جس نے دیکھتے ہی دیکھتے قریب کی دکانوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ الیکٹرانکس، ہوم اپلائنسز سمیت دیگر 12 سے 13 دکانوں اور گودام تک آگ پھیل گئی۔اطلاع پر فائربریگیڈ کی 5 گاڑیاں موقع پر پہنچیں۔ چند گھنٹوں کی جدوجہد کے بعد آگ پر قابو پایا گیا۔ پولیس کے مطابق آگ لگنے کی وجہ تاحال معلوم نہیں ہوسکی ہے۔ واقعے میں ہوم اپلائنسز اور الیکٹرانکس کی دکانوں میں موجود سارا سامان اور تاریں جل گئیں جبکہ ایک دکان کی چھت بھی گر گئی۔ آگ لگنے کے بعد ایم ڈی واٹر بورڈ اسد اللہ خان نے ہائیڈرنٹس پر ایمرجنسی کا نفاذ کر دیا تھا، ایم ڈی نے کہا کہ لانڈھی اور صفورا ہائیڈرنٹس سے بھی متعدد ٹینکروں کے ذریعے سیکڑوں گیلن پانی آتش زدگی کے مقام پر پہنچایا گیا۔ایم ڈی واٹر بورڈ کے مطابق انھوں نے فائر ٹینڈرز کو پانی کی فراہمی کے جاری آپریشن کی خود نگرانی کی۔ تاہم دوسری طرف مارکیٹ کے متاثرہ تاجروں نے کہا ہے کہ فائر بریگیڈ کا عملہ ڈیڑھ گھنٹے تاخیر سے پہنچا۔تاجروں نے بتایاکہ پہلی گاڑی جو موقع پر پہنچی اس میں بھی پانی فوری ختم ہو گیا، ملیر فائر اسٹیشن میں تمام گاڑیاں خراب کھڑی ہیں، دیگر اسٹیشنز سے گاڑیاں تاخیر سے پہنچیں۔متاثرہ تاجروں نے کہا کہ 14 دکانوں میں کروڑوں کا مال جل گیا، حکومت اس نقصان کا ازالہ کرے

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر