صوبہ بھرکے ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کی خالی اسامیاں فوری پر کی جائیں: محمود خان

      صوبہ بھرکے ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کی خالی اسامیاں فوری پر کی جائیں: محمود ...

  



پشاور(سٹاف رپورٹر)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے نئے ضم شدہ قبائلی اضلاع کے ہسپتالوں اور دیگر صحت سہولیات کے مراکز میں جاری بھرتیوں پر مقامی افراد کی بھرتی یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے اور واضح کیا ہے کہ تمام تر خالی آسامیوں پر فیکلٹی بیسڈڈاکٹروں کی تعیناتی کی جائے، جس میں تبادلوں کی کوئی گنجائش موجود نہ ہو، تاکہ صحت سہولیات کی فراہمی کو مؤثر انداز میں یقینی بنایا جاسکے۔ انہوں نے محکمہ صحت کو ہدایت کی ہے کہ صوبے کے تمام ہسپتالوں کے لیے اعلیٰ معیار کی ادویات کی خریداری یقینی بنائی جائے اور اس ضمن میں درپیش مسائل اور رکاوٹوں کے حل کیلئے جامع تجاویز مرتب کی جائے۔ صوبے میں صحت سہولیات کی فراہمی کے بارے ایک اعلیٰ سطح اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ نئے ضم شدہ قبائلی اضلاع میں ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتالوں کی اپ گریڈیشن کو ہنگامی بنیادوں پر یقینی بنایا جائے، جبکہ صوبے بھر میں ایمرجنسی ادویات اور ویکسینز کی دستیابی بھی یقینی بنائی جائے، جس سے نہ صرف ریفرل کیسز میں خاطر خواہ کمی ممکن ہوسکے گی بلکہ صوبے کے بڑے ہسپتالوں پر مریضوں کا بو جھ بھی کم ہو جائیگا۔ انہوں نے محکمہ صحت کو بھرتیوں کے عمل،تکمیل کے آخری مراحل والے بلڈنگز کی افتتاح اور چلڈرن ہسپتال پشاور کی نئے بلڈنگ میں شفٹنگ کیلئے حتمی ٹائم لائنز فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی اور واضح کیا کہ اس ضمن میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائیگی، جبکہ کوتاہی میں ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق کاروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ نئے ضم شدہ قبائلی اضلاع کے ہسپتالوں اور دیگر صحت سہولیات کے مراکز کے کل 1171سینکشن آسامیوں میں سے 469خالی ہیں۔ خالی آسامیوں پر بھرتیوں کے لئے ایٹا کیساتھ مفاہمتی یادداشت پر دستخط اور دیگر قواعد و ضوابط رواں ہفتے مکمل کرلی جائیگی، جس کے بعد متعلقہ اضلاع سے خالی آسامیوں پر بھرتیوں کا عمل شروع کیا جائیگا۔ خدمات کی فراہمی کے حوالے سے اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ اپریل 2019سے لیکر دسمبر 2019تک سٹاف کی موجودگی 66فیصد سے بڑھ کر 87فیصد ہو چکی ہے، جبکہ ادویات کی موجودگی 46فیصد سے بڑھ کر 52فیصد، ہسپتالوں میں آلات کی فعالی58فیصد سے 71فیصد اوردیگر یوٹیلیٹیزکی فعالیت 54فیصد سے بڑھ کر 59فیصد ہو چکی ہے۔ صحت سہولت پروگرام کے حوالے سے بتایا گیا کہ 3فروری2020تک 515875صحت سہولت کارڈز کی تقسیم ہو چکی ہے جبکہ رواں ہفتے ضلع جنوبی وزیرستان میں بھی صحت سہولت کارڈ کی تقسیم کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔اجلاس میں وزیراعلیٰ کے معاون خصوی برائے ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن غزن جمال، ترجمان صوبائی حکومت اجمل وزیر، پرنسپل سیکرٹری برائے وزیراعلیٰ شہاب علی شاہ، سیکرٹری ہیلتھ اور دیگر متعلقہ حکام نے بھی شرکت کی۔

محمود خان

مزید : صفحہ اول