چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ کا وفاق کے نمائندہ کی عدم موجودگی پر برہمی کا اظہار

  چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ کا وفاق کے نمائندہ کی عدم موجودگی پر برہمی کا اظہار

  



پشاور(نیوزرپورٹر)گفٹ سکیم کے تحت جانوروں کی مشرق وسطی بھیجنے کے خلاف درخواست پر سماعت کے دوران اٹارنی جنرل.فس کے نمائندے کی عدم موجودگی پر چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ جسٹس وقار احمد نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ وفاق کے کیسز لگے ہوتے ہیں مگر معمول کی طرح وفاق کا کوئی نمائندہ عدالت میں موجود نہیں وفاق اگر جاگ جائے تو کسی کو بھیج دیں فاضل بنچ نے سیکرٹری کامرس کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 20 فروری تک جواب مانگ لیا کیس کی سماعت چیف پشاور ہائیکورٹ جسٹس وقار احمد سیٹھ اور جسٹس ناصر محفوظ پر مشتمل دو رکنی بنچ نے کی کیس کی سماعت شروع ہوئی تو درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ گفٹ سکیم کے نام پر جانوروں کو سمگل کیا جاتا ہے، جانور منی لانڈرنگ کا بڑا ذریعہ ہے ہم نے ایڈوانس میں ٹیکس دیا لیکن ہمیں ایکسپورٹ کی اجازت نہیں گفٹ سکیموں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان دیکر جانور باہر نکالے جارہے ہیں سماعت کے دوران اٹارنی جنرل آفس کا نمائندے کی عدم پیشی پر چیف جسٹس نے کہا کہ معمول کی طرح آج بھی وفاق کی جانب سے کوئی عدالت میں موجود نہیں وقفے کے بعد ایڈیشنل اٹارنی جنرل عدالت میں پیش ہوئے تو چیف جسٹس نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ وقاق کے کیسز لگے ہوتے ہیں مگر کوئی پیش نہیں ہوتا جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ موبائل خراب تھا اس وجہ سے لیٹ ہو گیا فاضل بنچ نے سیکرٹری کامرس کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کیس کی سماعت 20 فروری تک کیلئے ملتوی کر دی۔

مزید : صفحہ اول