ڈھیل تو مل گئی،ڈیل نہیں ملے گی!

ڈھیل تو مل گئی،ڈیل نہیں ملے گی!
ڈھیل تو مل گئی،ڈیل نہیں ملے گی!

  



وزیر اعظم عمران خان جب ملک سے باہر جاتے ہیں، اتحادی ٹیں ٹیں شروع کردیتے ہیں، وہ وطن واپس آتے ہیں تو سب کو سانپ سونگھ جاتا ہے۔ اب وہ ملائشیا تشریف لے گئے ہیں تو چودھری پرویز الٰہی ازخود نوٹس لیتے ہوئے میدان میں کود پڑے ہیں اور پی ٹی آئی کو دبے لفظوں میں وہی کچھ سنا رہے ہیں جو مشاہداللہ خان اور مریم اورنگزیب کھلے لفظوں میں سناتے رہتے ہیں۔

آخر چودھری پرویز الٰہی کیا چاہتے ہیں؟ ذرا اس کا تجزیہ کرلیا جائے۔ ان کے لئے اس سے بڑھ کر اور کامیابی کیا ہوسکتی تھی کہ عمران خان کی جیت کی صورت میں اور پنجاب میں انہیں حکومت ملنے کی صورت میں ان کی قاف لیگ دوبارہ سے زندہ ہوگئی۔ یہ الگ بات کہ قاف لیگ زندہ ہونے کے باوجود ابھی تک متحرک ہوتی نظر نہیں آئی ہے اور اس کی طرف فصلی بٹیروں نے اس طرح رجوع نہیں کیا ہے جس طرح طارق عزیز کے زمانے میں ہوتا تھا۔ چنانچہ چودھری پرویز الٰہی اس وقت صورت حال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے منظور وٹو بننے کی کوشش کریں گے تو ان کا انجام بھی منظور وٹو جیسا ہی ہوگا کہ اس عاشقی میں عزت سادات بھی گئی!

اس لئے چودھری پرویز الٰہی کا گلہ شکوہ اس حد تک درست ہے کہ ان سے طے شدہ فارمولے کے تحت انہیں ضلعی انتظامیہ میں وہ آزادی نہیں دی جارہی جس کا وعدہ کیا گیا تھا۔ اس سے بڑھ کر ان سے عوام اگر کوئی توقع لگاتے ہیں تو یہ ناحق پروانے کا خون ہونے کے مترادف ہوگا کیونکہ ان کے اور نواز شریف کے مابین اس قدر دوریاں پڑچکی ہیں کہ دونوں جانب سے چاہنے کے باوجود بھی پاٹی نہیں جاسکتی ہیں۔ یہ چودھری نثار والی صورت حال ہی ہے کہ وہ بھی نواز شریف کی بجائے جب اسٹیبلشمنٹ کو پیارے ہوئے تو بری طرح ایکسپوز ہوگئے اور اب عوام میں اتنی بھی پذیرائی نہیں جتنی کبھی تھی۔خود چودھریوں کا عمل دخل بھی گجرات تک ہی رہ گیا ہے وگرنہ ملکی یا صوبائی سطح پر ان کا ہونا اتنا ہی ضروری لگتا ہے جتنا کہ نہ ہونالگتا ہے۔

کہنے کا مقصد یہ ہے کہ حکومت کو اگر چلتا کرنا ہے تو نون لیگ یا پیپلز پارٹی کو قاف لیگ کا کندھا استعمال کرنے کے بجائے خود میدان عمل میں اترنا ہوگا اور حکومت کے خلاف ایک بھرپور تحریک کا آغاز کرنا پڑے گا۔یہ الگ بات کہ ایف اے ٹی ایف، امریکہ افغانستان معاملے اور خطے میں دیگر ایشوز پر عمران حکومت نے جس طرح سے سٹینڈ لیا ہے اس کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔ گویا کہ داخلی محاذ پر کتنی ہی ناکام کیوں نہ ہو، خارجی محاذ پر عمران حکومت کو بہت موافق حالات میسر ہیں۔ اس کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ ایک سال کے عرصے میں دو مرتبہ وزیر اعظم عمران خان کی صدر ٹرمپ سے ملاقات ہوئی ہے

، ملائشیا، ترکی، سعودی عرب، ایران اور چین کی قیادتیں بھی پاکستان کی جانب سے امید افزا نظروں سے دیکھ رہی ہیں اور کشمیر پر جس طرح سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے چھے ماہ کے مختصر عرصے میں دو مرتبہ اجلاس کیا ہے، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ عالمی سطح پر پاکستان کی خاصی پذیرائی ہورہی ہے جس کا بھرپور فائدہ پی ٹی آئی اور وزیر اعظم عمران خان کو ہورہا ہے۔ ایسے میں اگر بھارتی قیادت بھی عمران خان کے ساتھ بیٹھنے کو تیار ہو جائے تو سونے پر سہاگہ ہوگا اور اس حکومت کی خارجہ سطح پر دھاک مزید بیٹھ جائے گی۔

ایسے میں اگر داخلی سطح پر چیلنجز ہیں تو بھی ان سے نپٹنے کے لئے حکومت کے پاس ابھی بہت سے ہتھیار ہیں تاآنکہ کسی جگہ پر یہ طے ہوجائے کہ اس حکومت کوچلتا کیا جائے۔ کچھ حلقوں کا خیال ہے کہ جس طرح سے اپوزیشن کے خلاف نیب کی باگیں کھینچ لی گئی ہیں اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نے مختلف طریقے سے سوچنا شروع کردیا ہے لیکن اگر یہ اٹھک بیٹھک اس حد تک ہی محدود رہی کہ اپوزیشن کے خلاف ناجائز مقدمات واپس ہو جائیں گے تو بھی اپوزیشن کاحکومت گرانے کا مقصد پورا نہ ہوگا۔

حکومت گرانے کے لئے حکومت کو اسی طرح میدان عمل میں اترن ہوگا جس طرح عمران خان نواز شریف حکومت کے خلاف اترے ہوئے تھے۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ اپوزیشن کی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ دوستی ہو جائے جس کے لئے اپوزیشن تیار بھی ہوگی لیکن سوال تو اسٹیبلشمنٹ کی ساکھ کا ہے کہ اگر آج عمران خان کے خلاف وہ اپوزیشن کے ساتھ کھڑی ہوگئی تو عوام انگلیاں اٹھانا شروع کردیں گے۔ اس لئے لگتا یہی ہے کہ اپوزیشن کو ڈھیل تو مل گئی،ڈیل نہیں ملے گی!

مزید : رائے /کالم