”مسلم لیگ ن پاور بروکرز کے ساتھ شراکت اقتدار کیلئے بات چیت میں مصروف ہے اور ۔۔“ سینئر صحافی نے نہایت بڑا دعویٰ کر دیا

”مسلم لیگ ن پاور بروکرز کے ساتھ شراکت اقتدار کیلئے بات چیت میں مصروف ہے اور ...
”مسلم لیگ ن پاور بروکرز کے ساتھ شراکت اقتدار کیلئے بات چیت میں مصروف ہے اور ۔۔“ سینئر صحافی نے نہایت بڑا دعویٰ کر دیا

  



لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن )نجی ٹی وی جنگ نیوز کے صحافی ” عمر چیمہ “ نے اپنے آرٹیکل میں دعویٰ کیاہے کہ مسلم لیگ ن پاور بروکرز کے ساتھ شراکت اقتدار کیلئے بات چیت میں مصروف ہے جس دوران متوازی تجاویز بھی زیر غور ہیں ۔

تفصیلات کے مطابق عمر چیمہ کا اپنے آرٹیکل میں کہناتھا کہ مسلم لیگ (ن) کے رہنما سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے ایک قریبی رشتہ دار فرخ عباسی نے دو روز قبل سوشل میڈیا پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا تھا ’شاہد خاقان عباسی اپوزیشن لیڈر آئندہ ہفتے، انشاءاللہ“ یہ اطلاع بریکنگ نیوز سے کم نہ تھی جس نے مسلم لیگ (ن) کے حلقوں میں خطرے کی گھنٹیاں بجا دیں۔ سوشل میڈیا پر دیا جانے والا مذکورہ پیغام چند گھنٹوں بعد ’ڈیلیٹ‘ بھی کر دیا گیا۔

اب یہ اندازہ نہیں لگایا جا سکتا کہ فرخ عباسی نے اپنا پیغام خود ڈیلیٹ کیا یا انہیں ایسا کرنے کے لئے کہا گیا۔ تاہم یہ کوئی غیر ممکن اطلاع نہ تھی جیسا کہ مسلم لیگ (ن) پاور بروکرز کے ساتھ شراکت اقتدار کیلئے بات چیت میں مصروف ہے، متوازی تجاویز بھی زیر غور ہیں۔جن میں شاہد خاقان عباسی کو اپوزیشن لیڈر بننے کی تجویز بھی شامل ہے۔ پس منظر میں باخبر ذرائع سے گفتگو میں انکشاف ہوا کہ پارٹی قیادت پاور بروکرز کے ساتھ رابطوں میں سرگرم ہے۔ طرز حکمرانی کے بد سے بدتر ہو جانے پر ایک اہم افسر دو ماہ قبل مذاکرات کے لئے لندن گئے۔

متعدد ممکنات زیر غور آئے کہ کس سطح پر تبدیلیاں لائی جائیں یا حل کیلئے سیدھے عام انتخابات کا راستہ چنا جائے۔ تبدیلی کے فارمولے کے تحت قومی حکومت کے قیام پر بھی غور کیا گیا جس میں تمام بڑی جماعتوں کی نمائندگی ہو لیکن یہ آپشن مسلم لیگ (ن) کو نہیں بھایا۔

اس وقت کم از کم شہباز شریف قومی حکومت میں کوئی کردار ادا کرنے پر آمادہ نہیں ہیں کیونکہ قومی حکومت میں وہ کوئی آزادانہ کردار ادا کرنے سے قاصر ہوں گے۔ البتہ انہوں نے تازہ عام انتخابات کرانے کی تجویز دی اور ان کی یہ رائے نوٹ کر لی گئی۔

فوری طور پر انتخابات کا انعقاد ممکن نہ ہونے کی صورت تب کلیدی پوزیشن کے لئے پارٹی کی جانب سے کون نامزد ہوگا؟ جب پوچھا گیا تو شہباز شریف کا کہنا تھا وہ نواز شریف سے پوچھ کر اس بات کا جواب دیں گے۔

بعدازاں انہوں نے خواجہ آصف کا نام دیا تاہم چند دنوں بعد ہی خواجہ آصف کو ہٹا کر کلیدی عہدے کیلئے شاہد خاقان عباسی کا نام دے دیا گیا۔ مرکز کے علاوہ پنجاب میں بھی ممکنہ تبدیلی کے لیے ایک اہم شخصیت کے ساتھ بات چیت میں زیرغور آئی۔جنہوں نے لندن کے دو ماہ میں دو تین دورے کئے۔ شہباز شریف تو دل کی گہرائیوں سے چاہتے ہیں کہ ان کے بیٹے حمزہ کو پنجاب میں اہم کردار ملے لیکن مذاکرات کار نے شریف خاندان سے باہر کا نام مانگا ہے۔

اس شرط کو مدنظر رکھتے ہوئے ملک احمد خان، رانا مشہود احمد اور میاں مجتبیٰ شجاع الرحمٰن کے نام تجویز کئے گئے ہیں۔ان رابطوں اور بات چیت کے باوجود مسلم لیگ (ن) کی قیادت آئندہ کے بارے میں تذبذب کا شکار ہے۔ ترمیمی بل پر پارلیمنٹ میں غیر مشروط حمایت پر مسلم لیگ (ن) اپنے حامیوں کی نظروں میں پہلے ہی وقعت کھو چکی ہے۔

نواز شریف نے ان سے ضمانت داخل کرنے کیلئے بھی کہا ہے جس سے وہ حال تک انکاری تھے۔ اب انہوں نے درخواست ضمانت دائر کر دی اور ان کی جلد رہائی کا امکان ہے، ان کی رہائی میں واحد رکاوٹ ضمانت سے ان کا انکار ہی تھا۔آیا شہباز شریف اپنی جگہ شاہد خاقان عباسی کو اپوزیشن لیڈر بنائے جانے پر آمادہ ہوئے یا نہیں، ابھی یہ دیکھنا باقی ہے۔ ڈیل یا کوئی ڈیل نہیں، ابھی درمیان میں بڑے ”اگر مگر“ ہیں۔

مزید : قومی