اسلام آباد کی انتظامیہ کی طرف سے پناہ گاہوں کیلئے بھتہ کی رقم جمع کیے جانے کی خبروں پر ڈی سی اسلام آباد بھی بول پڑے، ایسی بات بتادی کہ ہرکوئی دم بخود رہ گیا

اسلام آباد کی انتظامیہ کی طرف سے پناہ گاہوں کیلئے بھتہ کی رقم جمع کیے جانے کی ...
اسلام آباد کی انتظامیہ کی طرف سے پناہ گاہوں کیلئے بھتہ کی رقم جمع کیے جانے کی خبروں پر ڈی سی اسلام آباد بھی بول پڑے، ایسی بات بتادی کہ ہرکوئی دم بخود رہ گیا

  



اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن )ڈپٹی کمشنر اسلام آباد حمزہ شفقت نے فیس بک پر پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ ایک صحافی نے غیر قانونی مطالبات پورے نہ ہونے پر مختلف اخبارات میں جعلی کہانیاں چھاپنا شروع کر دی ہیں ، آج انہوں نے لکھا ہے کہ ہم پناہ گاہیں چلانے کیلئے بھتہ کی رقم جمع کر رہے ہیں ، اگر میرے بارے میں لکھتا تو خیر تھی لیکن ایک کام جو اللہ کی رضا کے لئے کیا جاتا ہے اس پر جھوٹا الزام لگانا بہت بڑا ظلم ہے۔

تفصیلات کے مطابق ڈپٹی کمشنر اسلام آباد نے فیس بک کے آفیشل پیج پر جاری پیغام میں کہا کہ ” میرے دفتر میں ایک صحافی صاحب آتے رہے اور وہ چاہتے تھے کہ میں کسی ہاو¿سنگ سوسائٹی کو اس کے لئے مجبور کروں کہ وہ اسے بیرون ملک جانے والی ایک بوڑھی خاتون کا پلاٹ دے دے۔ اسسٹنٹ کمشنر ڈاکٹر فیصل نے کیس کے بارے میں انکوائری کی اور رپورٹ دی کہ ایسا نہیں کیا جا سکتا اور ایسا کرنا سراسر زیادتی ہو گی۔ ہمارے پاس اس کا پورا ریکارڈ ہے۔ اس کیس کی ایک ایک دن کی کاروائی نوٹ ہوتی رہی۔ صحافی صاحب چیئرمین مارکیٹ کمیٹی، ڈپٹی ڈائریکٹر فوڈ اور یہاں تک کہ سرکل رجسٹرار سے ملاقات کرتے رہے کہ وہ اسے اخبار کے اشتہارات دیں اور ایسے احسانات اور فرمائشیں طلب کرتے رہے جو پورے نہیں کیے جاسکتے تھے کیونکہ وہ سب قانون کے خلاف تھے۔ ہر افسر نے اسے بتایا کہ یہ ممکن نہیں اور ہم یہ نہیں کر سکتے۔

صحافی صاحب نے اب مختلف اخباروں میں جعلی کہانیاں چھاپنا شروع کر دی ہیں۔ آج اس نے لکھا ہے کہ ہم پناہگاہیں چلانے کے لئے بھتہ کی رقم جمع کررہے ہیں۔ اگر میرے بارے میں لکھتا تو خیر تھی لیکن ایک کام جو اللہ کی رضا کے لئے کیا جاتا ہے اس پر جھوٹا الزام لگانا بہت بڑا ظلم ہے۔ بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ اس طرح جعلی خبروں کی کہانیاں نہ صرف افسران کو بہت زیادہ مایوس کرتی ہیں بلکہ ان کی ساکھ بھی تباہ کردیتی ہیں۔ اب کیا کیا جائے ؟ لوگ کہیں گیں کہ کیا انتظامیہ اتنی کمزور ہے ؟ لیکن انتظامیہ قانون کے مطابق ہی چل سکتی ہے۔ بدقسمتی سے کوئی ایسا فورم نہیں جو جعلی خبروں کے حوالے سے فوری انصاف دے سکے۔ پولیس اور ایف آئی اے نہ اس پر ایکشن لے سکتے ہیں۔

ہم عدالت جا سکتے ہیں لیکن یہ ایک طویل عمل ہے اور افسران کے پاس وکلاءکی خدمات حاصل کرنے کے لئے رقم نہیں ہے۔ اور عدالت میں جب تک کچھ تاریخیں گزرتی ہیں افسران کا ٹرانسفر کا ٹائم آ جاتا ہے۔ ہم نے ماضی میں ایسے افسران کو دیکھا ہے جو جعلی خبروں کا شکار تھے اور غلط خبر کی وجہ سے ان کے خلاف کارروائی بھی کی گئی لیکن بعد میں یہ خبر جعلی نکلی اور یوں سرکار کا وقت اور پیسہ ضائع ہو جاتا ہے اور افسر بھی پھر کچھ کام نہیں کر سکتا۔۔ خیر اللہ مالک ہے اور وہی انصاف دینے والا ہے۔

یہ سب لکھنے کا مقصد قطعی طور پر یہ مطلب نہیں کہ تمام صحافی ایسے ہی ہیں۔ ان میں اکثریت محنتی اور باعزت لوگ ہیں جو سارا سارا دن سچ کی جستجو میں لگے رہتے ہیں۔ ایسے لوگوں کی بہت عزت کرنی چاہئے کیونکہ یہ ہمارے معاشرے کا سرمایہ ہیں اور کرپشن کے خلاف سب اے بڑی دیوار ہیں۔مگر میں سمجھتا ہوں کہ مجھے یہ تمام چیز عوام کے سامنے بھی رکھنی چاہئے اور سوشل میڈیا پر ایسے لوگوں کو ایکسپوز کرنا چاہئے اس امید سے کہ لوگ سچ کا ساتھ دیں گے۔ بہت جلد میں تمام ریکارڈ ، ثبوت اور تصاویر شیئر کروں گا ۔“

مزید : قومی