چھوٹے بھی بڑوں کی ڈگر پرچل پڑے۔۔۔

چھوٹے بھی بڑوں کی ڈگر پرچل پڑے۔۔۔
چھوٹے بھی بڑوں کی ڈگر پرچل پڑے۔۔۔

  



پوٹ شیف روم کا میدان اور دونوں طرف سے نوجوان کھلاڑی آنکھوں میں جیت کا خواب لئے میدان میں اترنے کیلئے تیار تھے، فتح کس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ مارے گی یہ تو جب گھوڑا اور میدان سامنے ہوگا تو ہی پتہ چلےگا، انڈرنائنٹین ورلڈکپ کے فائنل کیلئے پاکستان اور بھارت کی ٹیمیں میدان میں اتریں، کپتان روحیل نذیر نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا کہ چلو بڑا ہدف دے کر باؤلنگ اٹیک سےحریف ٹیم کو دباؤ میں لائیں گے، بیٹنگ میں پہل کرنےکا فیصلہ اس وقت فیل ہوا جب پوری بیٹنگ بھی مل کر ایک بڑا ہدف اسکور بورڈ پر سجانے میں ناکام رہی، اور پھر جب باؤلنگ کی باری آئی تو کسی بھی باؤلر کی ایک نہ چلی، ایک کے بعد ایک کرتے کرتے چھے باؤلرز کو آزمایا گیا لیکن بھارت کی جونیئرٹیم نے تمام وکٹیں بچاتے ہوئے 173رنز کا ہدف باآسانی حاصل کرلیا، اس میچ میں پاکستان کی قومی ٹیم اور بھارت کے درمیان گزشتہ ہونے والے میچوں کی بھرپور جھلک دکھائی دی، جونیئر ٹیم نے جو کھیل پیش کیا اس کا سینئر ٹیم کے کھیل سے رتی برابر بھی فرق نہ تھا، وہی غلطیاں دہرائی گئیں، محمدہریرہ نے شاٹ کھیلی تو شاہد آفریدی کی سی طرح بال کو اتنا اوپر اچھالا کہ وہ باؤنڈری کےپار جانے کی بجائے اسکوائر لیگ پر کھڑے فیلڈر کےہاتھوں میں باآسانی آگئی، جونیئرکھلاڑی سینئرز کی طرح مسلسل دباؤ میں کھیل پیش کرتے رہے،فاہد منیر نے پندرہ گیندیں جیسے تیسے کھیلی اور سولہویں گیند پر کسی تھکے بلےباز کی طرح شاٹ لگائی جو بلے کے کونے پر ٹکرائی اور پوائنٹ پر ایک آسان کیچ پکڑا بیٹھے، جونیئر ٹیم بھی سینئر ٹیم کی طرح سلو رن ریٹ کے ساتھ آگے بڑھتی رہی جو چار کا ہندسہ نہ کراس کرسکا، حیدرعلی اور کپتان روحیل نذیر کی مزاحمت بھی بڑا ٹوٹل کرنےمیں کارگر ثابت نہ ہوئی، حیدرعلی نےبھی فاہد منیر کی طرح پوائنٹ پر ہی کیچ پکڑایا، یہ خامیاں کم نہ تھیں کہ وکٹ کےدرمیان رن لینے کے معاملے پر بھی کھلاڑیوں میں کیمسٹری نظر نہ آئی اور اسی چیز کا خمیازہ قاسم کواپنی وکٹ گنوانے کی صورت میں بھگتنا پڑا، محمد حارث نے ڈیپ اسکوائر کی طرف اچھی شاٹ کھیلی تاہم بھارتی کھلاڑی سکسینا نے شاندار شاٹ کو شاندار کیچ میں بدل دیا، بھارت کی ہدف کا تعاقب کرنے کی باری آئی تو اس نے اپنی سینئر ٹیم کے نقش قدم کی خوب پیروی کرتے ہوئے بااعتماد آغاز کیا، اوپنر جیسوال میں ورات کوہلی نظرآیا، ویسا ہی اعتماد اور ویسا ہی اسکور چیز کرنے کا جذبہ چھلک رہاتھا، جبکہ وکٹ کےدوسری جانب کھڑے بلےباز سکسینا نے بھی روہیت شرما کی طرح کلاسکل کھیل پیش کیا، دونوں نے زبردست بلےبازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک سوتہتر رنز کےہدف کی ذمہ داری اپنے کندھوں پر ہی ڈالے رکھی اور اگلے کھلاڑیوں کو میدان میں اترنے کی زحمت تک نہ دی، یوں ایک کامیاب ٹیم پرفارمنس کے ساتھ سیدھا انڈرنائنٹین کرکٹ ورلڈکپ کے فائنل میں جگہ بنالی، بھارت کی قومی ٹیم پر ایک وقت تھا کہ وہ صرف بیٹنگ کی وجہ سے جانی جاتی تھی، دوسری جانب پاکستانی ٹیم پاورفل باؤلنگ کی وجہ سے مخالف بلےبازو کی وکٹیں اڑا کر جیت کا تاج سرپر سجانے کی عادی تھی، تاہم گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ بھارت نے اپنی بیٹنگ کا تو لوہا منوایا ساتھ ہی اس نے باؤلنگ اور فیلڈنگ میں بھی خامیوں کو دور کیا اور یہی کچھ پوٹ شیف روم کی گراؤنڈ میں بھارت کی جونیئرٹیم میں بھی دیکھنے کو ملا، جبکہ پاکستان کی سینئرٹیم کی طرح جونیئر ٹیم کی بیٹنگ کے ساتھ ساتھ باؤلنگ بھی کارگر نظر نہ آئی، جونیئر ٹیم سینئر ٹیم کی ہی کاپی نکلی، ویسی ہی بیٹنگ، باؤلنگ اور پھر فیلڈنگ، میچ دیکھنے کے بعد تو ایسا ہی لگتا ہے کہ دونوں نے اپنی اپنی سینئر ٹیم کو فالو ہی کیا، یعنی چھوٹے اپنے بڑوں کی ڈگر پر چلتے نظرآئے۔

.

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

.

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’dailypak1k@gmail.com‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔

مزید : بلاگ