پاک افغان سرحد پر آمدورفت منظم کرنے سے کس اہم مسئلے پر قابو پانے میں مدد ملے گی؟وزیراعظم نے بتادیا

پاک افغان سرحد پر آمدورفت منظم کرنے سے کس اہم مسئلے پر قابو پانے میں مدد ملے ...
پاک افغان سرحد پر آمدورفت منظم کرنے سے کس اہم مسئلے پر قابو پانے میں مدد ملے گی؟وزیراعظم نے بتادیا

  



اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیر اعظم نے کہاپاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقوں پر آمدورفت کو منظم کرنے کے لیے خصوصی اقدامات کیے جا رہے ہیں جس کے نتیجے میں پولیو وائرس کی ترسیل کو روکنے میں خاطر خواہ مدد ملے گی۔

نجی ٹی وی کے مطابق وزیر اعظم عمران خان سے روٹری انٹرنیشنل کے اعلی سطح کے وفد کی ملاقات ہوئی ہے۔ وفد کی قیادت صدر روٹری انٹرنیشنل ہولگر نیئک رہے تھے جبکہ اس موقع پر معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا بھی ملاقات میں موجود تھے۔ ملاقات میں ملک میں پولیو کی موجودہ صورتحال اور پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے حکومت پاکستان کی جانب سے اٹھائے جانے والے اقدامات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات کے دوران معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے پولیو کے خاتمے کے لیے حکومت کے اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی کہ پولیو کےخلاف جاری حالیہ مہم میں ایک لاکھ سے زائد سیکورٹی اہلکار اور ڈھائی لاکھ پولیو ورکرز نے خدمات سرانجام دیں اور پانچ سال سے کم چار کروڑبچوں کوپولیو سے بچاو¿ کی ویکسین پلائی گئی۔روٹری انٹرنیشنل کے وفد نے پولیو کے خاتمے کے لیے حکومتی کاوشوں کو سراہا۔

وزیر اعظم عمران خان نے وفد سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ پولیو کا خاتمہ حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس معاملے پر پوری قوم اور ہر طبقے میں اتفاق رائے ہے۔ انہوں نے کہا حکومت پولیو کے خاتمے کے لیے تمام وسائل برو¿ے کار لانے کے لیے پرعزم ہے۔

وزیر اعظم نے کہاپاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقوں پر آمدورفت کو منظم کرنے کے لیے خصوصی اقدامات کیے جا رہے ہیں جس کے نتیجے میں پولیو وائرس کی ترسیل کو روکنے میں خاطر خواہ مدد ملے گی۔

وزیر اعظم نے پولیو کے خلاف حکومت پاکستان کی معاونت کرنے والی تمام بین الاقوامی تنظیموں اور خصوصا روٹری انٹرنیشنل کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پولیو کے خلاف کام کرنے والے ہر تنظیم کی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور ان کے کام میں ہر ممکنہ سہولت فراہم کی جائے گی۔

مزید : قومی /تعلیم و صحت