مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی پر اعتراض ہے:وزیراعظم آزاد کشمیر

مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی پر اعتراض ہے:وزیراعظم آزاد کشمیر
مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی پر اعتراض ہے:وزیراعظم آزاد کشمیر

  



اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر راجہ فاروق حیدر نے کہا کہ ہمیں مسئلہ کشمیر کے حل کے حوالے سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی پر اعتراض ہے،امریکہ نےمسئلہ فلسطین پربھی ثالثی کرائی لیکن آج فلسطین15فیصدباقی رہ گیاہے،ہندوستان امریکی اتحادی ہے،امریکہ کبھی ہماراساتھ نہیں دیگا،امریکہ چاہتا ہےکہ پاکستان اور ہندوستان ایک ہوکرچین کامقابلہ کریں لیکن ایسا ممکن نہیں کیونکہ ثالثی پاکستان کے مفاد میں نہیں،ہمیں آزاد کشمیر حکومت کا نمائندہ ہونے کی حیثیت سے مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر مسئلہ کشمیر اجاگر کرنے کی اجازت دی جائے،ہمیشہ پاکستان کے مفاد میں بات کرتا ہوں، ہم پاکستان کا جھنڈا کشمیر میں کبھی گرنے نہیں دیں گے، موجودہ پالیسی پر ہم سات سو سال بھی لگے رہیں ہم کامیاب نہیں ہوسکتے ہمیں پالیسی میں تبدیلی لانی چاہیے۔

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر نے کہا کہ 5اگست سے 30ستمبر تک32افراد کو مقبوضہ کشمیر میں شہید کیا گیا،11298لوگوں کو گرفتار کیا، 288مکانات تباہ کئے گئے،18خواتین کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔انہوں نےکہا کہ بھارتی فوج کی بلااشتعال فائرنگ سےآزادکشمیرمیں53لوگ شہید ہوئے ، 247زخمی ہوئے،466مکانات تباہ ہوئے،مسجدوں،سکولوں اور ہسپتالوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔وزیراعظم آزاد کشمیر نے کہا کہ ہمیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی پر اعتراض ہے، امریکہ نے مسئلہ فلسطین پر بھی ثالثی کرائی جس کی وجہ سے 15فیصد فلسطین باقی رہ گیا ہے،ہندوستان امریکی اتحادی ہے،امریکہ کبھی ہمارا ساتھ نہیں دے گا،ثالثی پاکستان کے مفاد میں نہیں،امریکہ چاہتا ہے کہ پاکستان اور ہندوستان ایک ہو کر چین کا مقابلہ کریں لیکن ایسا ممکن نہیں۔انہوں نے وزیراعظم عمران خان کو تجویز دی ہے کہ ہمیں آزاد کشمیر حکومت کا نمائندہ ہونے کی حیثیت سے عالمی سطح پر مسئلہ کشمیر اجاگر کرنے کی اجازت دی جائے، ہماری بات کو امریکہ، کینیڈا سمیت دیگر ممالک میں غور سے سنا جاتا ہے، ہمیں اپنی سٹریٹجی تبدیل کرنے کی ضرورت ہے،میں ہمیشہ پاکستان کے مفاد میں بات کرتا ہوں، ہم پاکستان کا جھنڈا کشمیر میں کبھی گرنے نہیں دیں گے،موجودہ پالیسی پر ہم سات سو سال بھی لگے رہیں ہم کامیاب نہیں ہوسکتے ہمیں پالیسی میں تبدیلی لانی چاہیے۔

مزید : قومی