اُس وقت ملٹری ایکشن لیا جاتا تو مقبوضہ کشمیر آزاد کرایا جا سکتا تھا ۔۔۔ڈاکٹر شیریں مزاری نے حیران کن بیان دے دیا

اُس وقت ملٹری ایکشن لیا جاتا تو مقبوضہ کشمیر آزاد کرایا جا سکتا تھا ...
اُس وقت ملٹری ایکشن لیا جاتا تو مقبوضہ کشمیر آزاد کرایا جا سکتا تھا ۔۔۔ڈاکٹر شیریں مزاری نے حیران کن بیان دے دیا

  



اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی وزیرانسانی حقوق ڈاکٹرشیریں مزاری نے کہا ہے کہ جب اقوام متحدہ میں اہم قراردادیں پیش ہوئیں اگر ہم اُس وقت اچھی طرح مسئلہ کشمیر کواجاگر کرتے تو مذاکرات کے ذریعے مسئلہ کشمیر حل ہوسکتا تھا،1962میں جب بھارت چین جنگ ہوئی تھی تو پاکستان کو ملٹری ایکشن لینا چاہیے تھا شاید اس وقت کشمیر کو آزاد کرایا جا سکتا تھا۔

نجی ٹی وی سےگفتگوکرتےہوئےوفاقی وزیرانسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا ہے کہ جب اقوام متحدہ میں اہم قراردادیں پیش ہوئیں کہ کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جائے،اگرہم اُس وقت اچھی طرح مسئلہ کشمیرکواجاگر کرتےتو مذاکرات کےذریعےمسئلہ کشمیرحل ہوسکتا تھا،اُس وقت مسئلہ کشمیر میں دہشت گردی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا معاملہ نہیں آیا تھا۔انہوں نے کہاکہ بعدمیں ہم امریکی الائنسز،سینٹواورسیٹو کیمیونزم کی طرف چلےگئے،مسئلہ کشمیر پرہی رہناچاہیےتھا،ہماری ڈکٹیٹر شپ نےامریکہ کےایجنڈے کو اپنا ایجنڈا بنالیا۔انہوں نےکہا کہ اب ہمارے پاس موقع ہے،پوری دنیامیں ہمارانظریہ سناجارہاہے، کشمیرکامسئلہ حل ہو سکتاہے،کشمیر میں ہندو فاش ازم اور مسلم نسل کشی کی جا رہی ہے،1962میں جب بھارت چین جنگ ہوئی تھی تو پاکستان کو ملٹری ایکشن لینا چاہیے تھا ،شاید اس وقت کشمیر کو آزاد کرایا جا سکتا تھا۔

مزید : علاقائی /اسلام آباد